دماغ سے ذہن کی جانب سفر۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ دماغ سے ذہن کی جانب سفر)جدید سائنسی ریسر چ مادے کو حیات کی اصل خیال کرنے والوں کو بھی اس موڑ پر لے آئی ہے، جہاں ایر تسلیم کر رہے ہیں کہ انسانی دماغ کو آپریٹ کرنے والا ذ ہن گوشت پوست سے ماورا البروں کی صورت میں کہیں موجود ہے……
Phineas Gage ایک 25 سالہ نوجوان ریل کی پٹری بچھانے کے کام پر مامور تھا۔ 13 ستمبر 1847ء کے دن وہ ایک سوراخ میں دھما کہ خیز مادہ فولادی سلاخ سے ٹھونس رہا تھا کہ سلاخ کی رگڑ سے چنگاری اٹھی دھماکے کے ساتھ سلاخ گولی کی رفتار سے تیج کی گال میں لگی اور اندر ہی اندر سے ہو کر اس کی آنکھ کو باہر دھکیلتی ہوئی بالائی کھونپڑی کو چھید کر 18 انچ کے قریب باہر نکل آئی۔ دھماکے کی شدت سے وہ زمین پر گر گیا تھا۔ مگر بے ہوش نہیں ہوا۔ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا بھی ایک مسئلہ تھا۔ بس ایک بیل گاڑی موجود تھی۔ اسے گاڑی پر ڈالا گیا۔ راستہ بہت خراب تھا۔ بیل گاڑی کو جھٹکے لگتے رہے اس کی حالت کچھ خراب ہونے لگی۔خدا خدا کر کے وہ لوگ ڈاکٹر کے پاس پہنچے۔ کسی کو بھی یقین نہیں تھا کہ یہ شخص زندہ بچے گا۔ ڈاکٹر نےسلاخ کو باہر نکالا تو خون کے ساتھ مغز کے ٹوٹے ہوئے کچھ اجزاء اور کھو نپڑی کی ہڈی کی ننھی کرچیاںبھی باہر نکل آئیں۔نوجوان کی اجازت سے اس کے تابوت کی تیاری کے سلسلے میں اس کے جسم کا ناپ لیا گیا۔ مگر یہ تیج بھی عجیب ہی شخص نکلا کہ کچھ عرصہ میں بالکل بھلا چنگا ہو گیا۔ مختلف ڈاکٹروں اور سرجنوں نے بارہا میڈیکل سائنس کے اس عجوبہ شخص سے ملاقات کی اور اسکا مشاہدہ کیا۔1879ء میں ایک جواں سال خاتون ایک مل میں ملازمہ تھی۔ اس کی داہنی آنکھ کے اوپر مشینری کا پر زہ اس قدر زور سے لگا کہ یہاں سے کھونپڑی کی ہڈی کی کرچیاں دماغ میں چار انچ اندر تک داخل ہو گئیں۔ پر زو نکالنے کے لیے جراحی کے عمل کے دوران دماغ کا یہ حصہ بالکل خراب ہو گیا۔ ڈاکٹروں کے اندازے کے بر عکس جب یہ خاتون صحت یاب ہوئی تو اس دماغی چوٹ کا ذرہ بھی اثر باقی نہ رہا۔ حتی کہ سردرد کی شکایت بھی نہ ہوئی۔ یہ خاتون آئندہ 42 برس تک نارمل زندگی بسر کرتی رہی۔1888ء کے میڈیکل پریس آف نیو یارک میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک مخصص لکڑی کے پل کے قریب کھڑے بحری جہاز کی مرمت کا کام کر رہا تھا۔ اس کی کھو نپڑی جہاز کے بالائی حصے اور لکڑی کے درمیان پھنس گئی۔ دباؤ پڑا تو لکڑی کے تیز سرے سے اس کی کھوپڑی اور دماغ کا کچھ حصہ کٹ گئے۔ اس شخص کے دماغ کا ایک حصہ اور بہت سارا مخون اس حادثے میں ضائع ہو گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے اس کی پٹی کر دی۔ اس شخص کے بیچنے کا بھی کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا مگر جس وقت وہ ہوش میں آیا تو بالکل ٹھیک ٹھاک تھا۔ اس کی چال ڈھال اور گفتگو ویسے ہی تھے۔ تاہم اس حادثے کے 26 برس بعد اسے جزوی طور پر فالج کا سامنا کر نا پڑا۔ڈاکٹر جان ڈبلیو بروکل اور ڈاکٹر جارج ڈبلیو ایلبی نے 1957ء میں امیر کن سائی کولوجیکل ایسوسی ایشن کو اطلاع دی کہ انہوں نے بوجوہ ایک 39 سالہ مرد کے دماغ کا دائیاں حصہ جراحت کے عمل سے مکمل طور پر ہٹادیا۔ یہ شخص نا صرف یہ کہ زندہ رہا بلکہ اس کی ذہنی صلاحیتوں پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ 1940ء میں سوکر (بولیویا) کی انتصر و پولوجیکل سوسائٹی کے اجلاس میں برازیلی ڈاکٹروں نکولاس اور ٹز اور آگسٹائن انور ریکا، کا بیان بڑا عجیب اور بظاہر نا قابل یقین تھا۔ انہوں نے بتایا کہ 14 برس کے ایک لڑکے کو سر میں شدید درد کی شکایت رہتی تھی۔ اندازہ تھا کہ اسے دماغ میں ریپ بھرنے کی تکلیف ہے جب اس کی کھوپڑی کا آپریشن ہوا تو معلوم ہوا کہ مریض کا دماغ بلب سے علیحدہ ہو چکا ہے۔ یہ بالکل ویسی ہی بات تھی جیسے کسی شخص کی گردن ازادی گئی ہو۔ مگر وہ لڑکا اپنی موت تک اپنے تمام تر جو اس کو استعمال کرنے پر قادر تھا۔یہ واقعات اور ان جیسے ہزاروں واقعات جن کو یہاں بیان کرنے کی گنجاش نہیں، یہ ظاہر کرتے ہیں که انسانی دماغ قدرت کا ایک حیرت ناک جو ہ ہے۔ ہمارے تمام افعال کو کنڑول کرنے میں اس کی اہمیت بنیادی نوعیت کی ہے۔ اس کی افادیت اور اہمیت کے پیش نظر قدرت نے کھوپڑی کی سخت ہڈی کے درمیان اس کی حفاظت کا انتظام کر رکھا ہے۔ معمولی ضرب جو دماغ تک براہ راست پہنچے، بڑے شدید نوعیت کے نتائج دے سکتی ہے۔ کئی واقعات موجود ہیں کہ محض ذرا سے جھٹکے سے آدمی اپنی جانسے ہاتھ دھو بیٹھا۔ایک جانب تو دماغ کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ اس پر معمولی ساصدمہ شدید نوعیت کے نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ دوسری جانب بعض حیرتناک واقعات نے بالکل۔۔۔جاری ہے۔۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026
![]()

