دماغ کی وہ programming جو بچپن میں ہوئی اور اب تک چل رہی ہے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تحریر: شاہد سید: NLP ماسڑ:آپ نے یہ جملہ کہاں سے سیکھا؟ کہ میں کسی کام کا نہیں۔ کسی نے آپ کو یہ نہیں سکھایا کم از کم براہ راست نہیں۔ کوئی استاد جس نے کہا ہو کہ تم ناکام ہو۔ کوئی کتاب جس میں لکھا ہو کہ تم محبت کے لائق نہیں۔ مگر یہ یقین آپ کے اندر ہے۔ گہرا، خاموش، مضبوط موجود ہے۔ یہ کہاں سے آیا؟
کچھ عرصہ پہلے ایک لڑکی مریم آئی ستائیس سال کی، خوبصورت، بلا کی ذہین مگر ہر رشتے میں ایک جیسی تکلیف۔ ہر بار ایک جیسا آدمی، بس مختلف چہرے میں۔ ہر بار وہی کہانی پہلے توجہ، پھر بے اعتنائی، پھر تنہائی۔
اس نے کہا، مجھے سمجھ نہیں آتا۔ میں ہر بار غلط آدمی کیوں چنتی ہوں؟ کیا میرے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟
میں نے پوچھا، مریم، تمہارے والد کیسے تھے؟ وہ چونک گئی۔ کہنے لگی، اس کا رشتوں سے کیا تعلق؟
میں نے کہا، بتاؤ تو سہی۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر آہستہ سے بولی، وہ گھر میں تھے تو سہی مگر تھے نہیں۔ مطلب جسمانی طور پر موجود تھے مگر توجہ کبھی نہیں دی۔ میں کچھ بھی کرتی وہ بس اخبار پڑھتے رہتے یا TV دیکھتے رہتے۔
میں نے کہا، مریم، تم آج بھی وہی توجہ ڈھونڈ رہی ہو۔ اور جو آدمی پہلے توجہ دے پھر چھین لے وہ تمہیں سب سے زیادہ کھینچتا ہے۔ کیونکہ وہ تمہارے بچپن کا وہ درد تازہ کرتا ہے جو کبھی بھرا نہیں۔
مریم کی آنکھیں بھر آئیں۔ ہاں ایسا ہی ہے۔اس نے آہستہ سے کہا۔
یہ سمجھنے کے لیے ہمیں 1970 کی ایک تحقیق کی طرف چلنا ہوگا۔ امریکی ماہر نفسیات John Bowlby نے Attachment Theory پیش کی۔ اس نے دکھایا کہ بچہ جس طرح اپنے والدین سے جڑتا ہے ٹھیک اسی طرح وہ بڑا ہو کر ہر رشتے میں جڑتا ہے۔ اگر والدین نے محبت دی، مگر غیر یقینی انداز میں کبھی گلے لگایا، کبھی دھکیلا تو بچہ بڑا ہو کر ایسے رشتے ڈھونڈتا ہے جو اسی بے یقینی سے بھرے ہوں۔ کیونکہ یہی اسے “محبت” لگتی ہے۔
۔Stanford University کی ایک تحقیق نے بتایا کہ انسانی دماغ کی بنیادی programming صفر سے سات سال کی عمر میں ہوتی ہے۔ اس عرصے میں دماغ زیادہ تر Theta waves میں ہوتا ہے وہی حالت جو ہپناسس میں ہوتی ہے۔ یعنی بچہ ہر بات کو بغیر کسی فلٹر کے سیدھے لاشعور میں اتار لیتا ہے۔
اس عمر میں جو دیکھا، سنا، محسوس کیا وہ سب programming بن گئی۔
والد نے ایک بار غصے میں کہا، تم سے کچھ نہیں ہوتا بچے نے سنا، “میں نکما ہوں۔”
ماں نے بہن کی تعریف کی، بچے کو نظرانداز کیا بچے نے سیکھا، “میں کم اہم ہوں۔”
استاد نے کلاس میں شرمندہ کیا بچے نے طے کر لیا، “لوگوں کے سامنے بولنا خطرناک ہے۔”
یہ باتیں کسی نے جان بوجھ کر نہیں کہیں۔ مگر بچے کا دماغ سب ریکارڈ کرتا رہا۔ اور آج وہ ریکارڈنگ چل رہی ہے۔
مریم کو جب یہ سمجھ آئی تو اس نے پوچھا، تو کیا میں ساری زندگی اسی programming پر چلتی رہوں گی؟
میں نے کہا، نہیں مگر پہلے اسے پوری طرح دیکھنا ہوگا۔
۔Neuroscience میں ایک تصور ہے جسے Neuroplasticity کہتے ہیں۔ یعنی دماغ بدل سکتا ہے، کسی بھی عمر میں۔ Harvard Medical School کی تحقیق بتاتی ہے کہ جب انسان اپنی پرانی patterns کو شعوری طور پر دیکھنا شروع کرے تو دماغ میں نئے neural connections بننے لگتے ہیں۔ مگر بدلاؤ کا پہلا قدم ہے پہچاننا۔
میں نے مریم کو ایک کام دیا۔ کاغذ اٹھاؤ اور لکھو بچپن میں وہ کون سے جملے تھے جو بار بار سنے، محسوس کیے یا دیکھے۔ چاہے کسی نے کہے ہوں یا آپ نے خود اپنے ماحول سے سیکھے ہوں۔
مریم نے لکھا “میری توجہ کوئی نہیں دیتا۔” “میں جتنا بھی کروں، کافی نہیں۔” “محبت ملتی ہے تو چھن بھی جاتی ہے۔”
پھر میں نے کہا، اب لکھو یہ جملے آج تمہاری زندگی میں کہاں کہاں نظر آتے ہیں؟
اس نے لکھنا شروع کیا اور وہ رک نہ سکی۔ رشتوں میں، کام میں، دوستیوں میں، خود سے برتاؤ میں وہی تین جملے ہر جگہ موجود تھے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب مریم نے پہلی بار اپنی programming کو مشاہدہ کار کی طرح باہر سے دیکھا۔ اور جو چیز آپ باہر سے دیکھ سکتے ہیں اسے بدل بھی سکتے ہیں۔
مگر دیکھنا کافی نہیں بدلنا بھی پڑتا ہے۔NLP میں ایک technique ہے جسے Reimprinting کہتے ہیں۔ یہ ان لمحات کی طرف واپس جانا ہے جہاں وہ غلط یقین بنا تھا اور اس لمحے کو ایک نئی نظر سے دیکھنا۔
میں نے مریم سے کہا، آنکھیں بند کرو۔ اس بچی کو دیکھو جو والد کی توجہ چاہتی تھی اور نہیں ملی۔ اسے دیکھو اور اب ایک بڑے سمجھدار کی حیثیت سے اسے بتاؤ کہ تم بے توجہی کے قابل ہرگز نہیں تھیں۔ بلکہ والد کی بے توجہی ان کی اپنی تکلیف تھی وہ تمہاری قدر و قیمت کا فیصلہ نہیں تھا۔ تم قابل تھی اور آج بھی ہو۔۔۔۔۔۔مختصرا اس نے اپنے چائلڈ ہڈ کو ہیل کیا۔ اپنے بچپن پر مرہم رکھا ، مریم کافی دیر خاموش رہی۔ پھر اس کے گالوں پر آنسو تھے۔ یہ آنسو اس کی کمزوری نہیں تھے یہ ایک پرانی گرہ کا کھلنا تھا۔
دوسری technique یہ ہے کہ جب بھی وہ پرانا یقین آئے مثلاً “میں محبت کے قابل نہیں ہوں” تو فوری طور پر اپنے آپ سے پوچھیں، “یہ یقین کس نے دیا تھا؟ کیا وہ شخص پوری سچائی جانتا تھا؟ اور کیا آج یہ سچ ہے؟”
یہ سوال اس یقین اور آپ کے درمیان ایک فاصلہ بناتا ہے۔ NLP میں اسے Cognitive Defusion کہتے ہیں خیال آپ نہیں ہیں، آپ نے بس اسے پکڑ رکھا ہے۔ اور جو پکڑا ہو، وہ چھوڑا بھی جا سکتا ہے۔ اس یقین کی جگہ پر یہ یقین کہ میں قابل ہوں۔ اسی طرح اسی انداز میں رکھیں۔
تیسرا کام روزمرہ کی زندگی کا ہے۔ ہر وہ بار جب آپ وہ پرانی programming کے خلاف جائیں اپنے آپ کو سراہیں۔ چھوٹی سی بات پر بھی۔ کسی نے نظرانداز کیا مگر آپ نے خود کو یاد دلایا کہ میری قدر یہ ہے۔ یہ بھی ایک جیت ہے۔ دماغ کو نئی programming کے لیے نئے تجربات چاہئیں۔ اور یہ چھوٹی جیتیں وہ تجربات ہیں۔
مریم نے چند دن کام کیا۔ آہستہ آہستہ، ایک قدم ایک قدم۔ ایک دن اس نے بتایا، پہلی بار ایک آدمی سے ملی جو مجھے اچھا لگا مگر وہ stable تھا، پرسکون تھا، توجہ دیتا تھا۔ پہلے ایسے آدمی مجھے boring لگتے تھے۔ اب سمجھ آئی کہ وہ boring نہیں تھےمیں بے چینی کو محبت سمجھتی تھی۔
آپ کی programming آپ کی غلطی نہیں تھی۔ آپ بہت چھوٹے تھے۔ آپ کے پاس کوئی فلٹر نہیں تھا۔ آپ نے جو دیکھا، جو سنا، جو محسوس کیا وہ سب اندر اتر گیا۔ مگر آج آپ بڑے ہیں۔ آج آپ کے پاس شعور ہے، سوال کرنے کی طاقت ہے، بدلنے کا اختیار ہے۔
وہ بچہ جسے غلط پیغام ملے تھے وہ آج بھی آپ کے اندر ہے۔ اسے ایک نئی بات سننے کی ضرورت ہے۔ اور وہ نئی بات صرف آپ ہی دے سکتے ہیں۔
اب آپ سے ایک سوال ہے۔
وہ کون سا ایک جملہ ہے جو آپ نے بچپن میں سیکھا اور آج تک آپ کی زندگی میں کہیں نہ کہیں چل رہا ہے؟
کمنٹ میں لکھیں۔ لکھنا ہی پہچاننا ہے۔ اور پہچاننا ہی آزادی کا پہلا دروازہ ہے۔ شاہد سید
Shahid Syed #MindHealer #nlpcoach #بدلوذہن_جی_لوزندگی #subconsciousmind #ذہنی_صحت #innerprograming
![]()

