دنیا کے اسٹیج پر!
تحریر۔۔۔شیخ خالد زاہد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ دنیا کے اسٹیج پر!۔۔۔ تحریر۔۔۔شیخ خالد زاہد)بقول شکسپئیر دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہم سب اس کے کردار ہیں جس کردار ختم ہوجاتا ہے وہ ہمیشہ کیلئے چلا جاتا ہے۔ ایک طرف کشمیر بھارت کیساتھ عملی جستجو پر عمل پیرا ہے تو دوسری طرف آزاد کشمیر میں بھی ایک نئی جدوجہد نے جنم لے لیا ہے۔ فلسطین تقریباً ایک زمین کے ٹکڑے کا نام بن کر رہ گیا ہے، تاریخ فلسطین میں شرمناک ظلم وبربریت پر شرمندہ دیکھائی دے رہی ہے، خصوصی طور پر معصوم بچوں کی خونریزی آج تمام دنیا کیلئے لمحہ فکریہ بنی ہوئی ہے اسرائیل کے اس عمل پر ساری دنیا سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ معصوم بچوں کے ساتھ اسرائیل کا یہ سلوک واضح کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں جو ان کے مخصوص مقاصد کے تکمیل کیلئے بہت ضروری ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ بچے انکے ناپاک مذموم عزائم کو کبھی بھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔فلسطینی بچے ناصرف اللہ کے دین کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں بلکہ امت کی بقاء بھی ان کے خون سے لکھی جا رہی ہے۔
ایک وقت تھا جب مدرسوں کو بچوں پر کئے جانے والے ظلم و زیادتی کی وجہ سے ناصرف تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا بلکہ طرح طرح کے الزامات بھی لگائے گئے، گوکہ کسی حد تک ایسے شرمناک مصدقہ واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے ہمارے سر شرمندگی سے جھک گئے اور غیر ملکی ابلاغ اور ہمارے ملک میں بسنے والے بائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کو تقویت ملی اور انہوں نے خوب شور مچایا، کیونکہ مدرسوں کا ایک مضبوط نظام موجود ہے جس نے اپنے اندر موجود گندے لوگوں کی از خود صفائی کی اور اس میں مزید بہتری لانے کیلئے کام کرنا شروع کردیا۔ آج ملک میں بہت سے ایسے ادارے وجود میں آچکے ہیں جہاں دینی تعلیم بھی بہترین سہولیات کے ساتھ فراہم کی جارہی ہے۔لیکن یہاں مسلۂ حل نہیں ہوا بلکہ مزید خرابی کی خبریں آنا شروع ہوگئیں، اسکول، کالج یہاں تک کے جامعات سے بھی ایسے واقعات سامنے آنا شروع ہوگئے جو کسی بھی غیر مہذب معاشرے کی عکاسی کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔ ہم بین الاقوامی تعلیمی نظام سے متاثر لوگ ہیں اور بچوں بچیوں کو اسلامی اقدار پر چلتے دیکھنا چاہتے ہیں اس دوہرے میعار کی بدولت نئی نسل ذہنی طور پر بری طرح سے متاثر ہوچکی ہے۔
یہاں یہ تذکرہ بھی بہت ضروری ہے کہ سماجی ابلاغ کا بے تحاشہ اور لامحدود استعمال معاشرے میں بگاڑ کا سب سے بڑا عنصر ہے، جو ہمارے معاشرے میں تیزی سے عدم برداشت جیسی موذی بیماری کو بڑھا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس کی لپیٹ میں بغیر عمر کی قید کے لوگ پھنستے چلے جا رہے ہیں آج کینسر جیسے موذی مرض کا علاج دریافت کر لیا گیا ہے لیکن سماجی ابلاغ سے جان چھڑانا ممکن نظر نہیں آرہا۔ یہ ایسا مرض ہے جو ہم سے ہماری توجہ چھین چکا ہے، جس نے ہمارے گھروں کی اقدار کو برباد کر کے رکھ دیا ہے، نئی نسل طبعی طور پر کمزور ترین ہوچکی ہے، تعلیم کتابوں سے نکل کر ان برقی کتابوں میں منتقل ہو چکی ہے یعنی ایک ہی ڈیوائس پر آپ ساری کتابیں دیکھ سکتے ہیں، اب انہیں یہ کون سمجھائے کے کتابوں کو پڑھنے کیلئے جو اٹھانے کا عمل تھا اس سے کتابوں کا لمس دل و دماغ پر اپنے نقوش چھوڑا کرتے تھے جو دیرپا اور پائیدار ہوا کرتے تھے۔ غورطلب یہ بھی ہے کہ بے تحاشہ دین کا کام بھی ان ہی ڈیوائسوں کے ذریعے ہورہا ہے اور بہت زیادہ ہورہا ہے لیکن معاشرے میں اس کی عملی تصویر کہیں نظر نہیں آرہی، ایک مارا ماری ہے، ہر بندہ ہیجانی کیفیت سے دوچار ہے، شادی شدہ زندگیاں خراب ہورہی ہیں اور ان سب سے بڑھ کر معصوم بچے بچیوں کو ہوس کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ایسالگتا ہے کہ اسرائیل نے ہمارے بچوں کیلئے ہم میں سے ہی لوگ چن لیئے ہیں جو ان کے آلائے کار سہولت کار بن کران کا کام پاکستان میں سرانجام دے رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں چلتی پھرتی خواتین کیساتھ نازیبا حرکات کا ہونا ہمارے معاشرے کی انتہائی گراوٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آج تقریباً ہرگلی، محلے، بازاراور تمام عوامی مقامات پر حفاظتی کیمرے نصب ہیں لیکن جن کے دلوں میں اپنے خالق حقیقی اللہ رب العزت کا خوف نہیں رہا تو وہ بھلا ان حفاظتی کیمروں کو کہاں خاطر میں لاتے ہیں۔ سر بازار دکانوں پر ڈاکے ڈالے جارہے ہیں، سرعام لوگ گولیاں چلارہے ہیں لوگ مر رہے ہیں اور انکی وڈیوز ہر ایک کے موبائل میں بروقت پہنچ رہی ہیں لیکن کارگزاری کرنے والے دندناتے پھر رہے ہیں۔ کتنے ہی ایسے واقعات روزانہ کی بنیادپر ہورہے ہیں جن کی وڈیوز ہر خاص و عام دیکھ رہے ہیں۔ بے حسی اس عروج پر پہنچ چکی ہے کہ والدین کی حق تلفی پر بھی کوئی خوف خدا نہیں رہا۔رہی بات قانون کی تو وہ اپنے روائتی طریقہ کار سے کام کرنے کے عادی ہیں، تشویش اس بات کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے جج صاحبان ایسے لوگوں کو عبرت کا نشان کیوں نہیں بنادیتے کہ پھر کوئی دوسرا ایسا کرنے کی کوشش کرے۔لیکن حالات اب کسی کے بس میں نہیں ہیں نسلی فاصلہ (جنریشن گیپ)نا سننے کی وجہ سے والدین اولاد کی ہاں میں ہاں ملاتے چلے جارہے ہیں اور وہ اس راستے پر لے جارہے ہیں جہاں اندھیری کھائی ہے۔
اب کسی بات پر بھی واویلا نہیں مچتا، اب لوگوں کی ذہنی صلاحیت اتنی بڑھا دی گئی ہے کہ وہ اپنی انگلی سے اگلی اسکرین پر پہنچ جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ابھی کچھ لمحے پہلے انہوں نے کیا دیکھا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس بے حسی کا فائدہ وہ دشمن اٹھا رہے ہیں جنہیں یہ کام سونپا گیا ہے کہ آنے والی نسلوں کو مغربی ماحول کا عادی بنادوجہاں برائی کو برائی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور سب اپنی مستی میں مست رہنے کے عادی ہوتے ہیں۔جہاں جذبات پر عقلی دلائل کو اہمیت حاصل ہے جہاں والدین کیخلاف قانونی کاروائی ایک فون کال پر ہوجاتی ہے۔ آج ہمارے معاشرے سے لوگ نکل مکانی کر رہے ہیں وہ جو بو چکے ہیں اسے کاٹنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ایک طرف گولے بارود کی جنگ چل رہی ہے اور ہمارا دشمن ہمیں کمزور سمجھ کر ہم پر ہر طرح سے حملہ آور ہے اور ہماری توجہ کسی بڑے مقصد سے ہٹائے رکھی ہے۔
معصوم بچوں کے مستقبل کی حفاظت کیلئے منظم ہوجائیں۔اسکول مدرسے گلی محلے ہر جگہ گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے بچوں میں خوداعتمادی اور مزاحمت کی تربیت اجاگر کریں۔ محلہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے سب اکھٹے ہوجائیں۔ہمارا اتحاد کسی بھی سنگین صورتحال سے نمٹ سکتا ہے اور ہماری ہمت دشمن کو منہ توڑ جواب دے سکتی ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہم نے اپنا کردار دنیا میں احسن طریقے سے نبھایا ہے یا پھر کسی ایکسٹرا کی طرح منظر کے باہر سے ہی گزر تے جا رہے ہیں۔
![]()

