دنیا کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ذہین لوگ شک و شبہات سے بھرے ہوئے ہیں، جبکہ بیوقوف لوگ خود اعتمادی سے لبریز ہیں۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وضاحت:یہ قول انسانی نفسیات کے ایک اہم پہلو کی نشاندہی کرتا ہے جسے اکثر “ڈیننگ-کروگر اثر” (Dunning-Kruger Effect) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے اہم نکات یہ ہیں:
ذہین لوگ اور شک: جو لوگ حقیقت میں علم رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کائنات اور معاملات کتنے پیچیدہ ہیں۔ وہ اپنی حدود سے واقف ہوتے ہیں، اس لیے وہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہزار بار سوچتے ہیں اور اکثر اپنی ہی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتے ہیں۔
بیوقوف اور حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی: دوسری طرف، جن لوگوں کے پاس علم کی کمی ہوتی ہے، وہ معاملے کی پیچیدگی کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔ انہیں لگتا ہے کہ وہ سب جانتے ہیں، اسی لیے وہ بلا جھجھک اور پورے اعتماد کے ساتھ غلط باتیں بھی کرتے ہیں۔
معاشرتی اثر: اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں اکثر وہ لوگ آگے نکل جاتے ہیں یا لیڈر بن جاتے ہیں جو صرف پراعتماد ہوتے ہیں (چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں)، جبکہ حقیقی دانشور اپنی ہچکچاہٹ اور سوچ بچار کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔
خلاصہ: یہ جملہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صرف “خود اعتمادی” سچائی یا ذہانت کی دلیل نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خاموشی اور سوال اٹھانا، اندھے اعتماد سے کہیں بہتر ہوتا ہے
![]()

