Daily Roshni News

دو بہت صالح آدمی سفر کرتے ہوئے۔۔۔

دو بہت صالح آدمی سفر کرتے ہوئے جب ایک جنگل میں پہنچے تو نماز کا وقت ہو گیا دونوں ایک دوسرے کی عزت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ” آپ امامت کروائیں “

دوسرا پھر پہلے کو یہی کہنے لگا کہ ” آپ امامت کروائیں” اتنے میں ایک چرواہا وہاں آگیا۔ اس نے ان دونوں کو دیکھا اور سوال کیا ” کیا میں نماز کی امامت کرواؤں ؟”

دونوں نے مثبت جواب دیا اور نماز شروع ہوئی۔ اب کیا ہوا کہ نماز ادا کرتے ہوئے ایسا ہوا کہ کبھی تو چرواہا امام سجدہ جلدی مکمل کروا لیتا اور کبھی کچھ دیر کر دیتا۔

جب نماز مکمل ہوئی تو جو دو نیک آدمی تھے۔ انہوں نے چرواہے سے سوال کیا کہ “نماز میں ایسا کیوں ہوا کہ کبھی تم سجدے سے جلدی اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھا رہے تھے اور کبھی بہت دیر دیر سے “

سوال پوچھنے والے دونوں شخص بہت زیادہ بلند مرتبے والے تھے۔

جس امام نے نماز کی امامت کروائی اس نے بہت سادگی سے جواب دیا کہ ” مجھے جب اوپر آسمان سے جلدی جواب آتا تھا کہ ہم نے سن لی تمہاری حمد ” تو میں جلدی سر اٹھا لیتا اور جب دیر سے جواب آتا تو مجھے دیر ہوئی۔ جب انہوں نے یہ جواب سنا تو ان کے پاس کچھ بات ہی نہ رہی کہ وہ اب کیا کہے۔

یہ واقعہ مجھے کسی نے کچھ دن قبل سنایا تھا اور میں اتنے سارے دنوں سے یہ سوچ رہی تھی کہ یہ اوپر سے جواب کیسے آتے ہیں اور انہیں سنا کیسے جاتا ہے۔ میری آنکھیں نم ہیں۔ مجھے یہ آپ کو پہلے ہی بتانا تھا یہ لیکن میں وہ بات آپ کو کبھی بتا نہیں پاتی جسے میں محسوس نہ کر سکوں

I am just in love-

میں نے بہت سوچا، بہت غور کیا تو سمجھ آئی کہ اوپر والے جواب سننے کے لیے نیچے والی آوازوں سے در گزر کرنا پڑتا ہے۔

جب دل رب کے قرب اور محبت کو حاصل کرنا چاہے تو اس کی مخلوق پر رحم کرنا ہوتا ہے۔ میں نے خود پر غور کیا تو میں تو بات بات پر غصہ کر رہی تھی۔ بے وجہ اپنی انرجی اور قوت ضائع کر رہی تھی میں تو اس دنیا میں ہی بس ڈور رہی تھی۔ میری پرواز تو بلند ہونی چاہیے نا! واللہ اس میں بہت لطف ہے۔ مشکل ہے لیکن ساتھ ہی آسانی بھی ہے۔

اس راہ کا مسافر بننے کی پہلی شرط یہی ہے کہ اپنے بہت پیاروں کو معاف کرنا سیکھ لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرما دیا ہے کہ تمہارے اپنے تمہارے لیے آزمائش بن سکتے ہیں تو تم بھلا ان کے ساتھ کیا کرو؟

تم انہیں معاف کر دیا کرو۔ ان کی غلطیاں ایسے معاف کر دو جیسے انہوں نے کی ہی نہیں ہیں۔

اور یہ جو معافی والا سودا ہے نا یہ ہم خالی نہیں کرتے یہ تو رب کے ساتھ ہمارا ایک تعلق ہوتا ہے۔

رحم اس پر کیا جاتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتا ہے۔ ہمارا کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا مالک ہے وہ ہر شے کا مالک ہے۔ بندوں کے دل اس کے ہاتھ میں ہیں۔ بھلا کیا! ہم کچھ لمحات کے لیے صبر کرتے ہیں تکلیف برداشت کرتے ہیں تو اس کے بدلے نجانے کہاں کہاں ہمیں نواز دیا جاتا ہے۔

یہ ہوتا ہے واقعی ہوتا ہے اور دل کی سر شاری تو الگ انعام ہے۔ پھر جب بندہ کچھ دن میں اس کوشش میں کامیاب ہو جائے تو پھر وہ آوازیں آتی ہیں اوپر والی آوازیں دل میں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں نا۔ جن بندوں نے اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مان لیا اور اس پر قائم رہے ان کے لیے فرشتے خوشخبریاں لیے اترتے ہیں۔ یہ خوشخبریاں پھر محسوس ہوتی ہیں۔ سنائی دیتی ہیں اور ہمارے درجات بہت بلند کر دیے جاتے ہیں پھر علم ملتا ہے۔

محبت کا علم ۔ انبیاء کرام علیہم السلام پر کیا کیا آزمائشیں آئی وہ سرخرو رہے۔
اللہ تعالیٰ کے محبوب ہمارے رحمت والے نبی ﷺ پر پتھر برسائے گئے اور پھر کیا ہوا ؟ آپ ﷺ کو معراج کا انعام عطا فرمایا گیا۔

اور ایک بہت اہم بات جب آپ ﷺ نے بہت دکھ کے ساتھ خون سے بھرے جوتوں کے ساتھ عتبہ کے باغ میں پناہ لی تھی تو وہاں آکر ایک اور کام بھی کیا تھا وہ کام ہم سب کو تب تب کرنا ہے جب جب ہم افسردہ ہوں گے ، جب جب دل غمگیں ہو گا پیارے نبی ﷺ نے وہاں پہنچ کر غم سے بھرے دل کے ساتھ دعا کی تھی۔

اللہ تعالیٰ کو پکارا تھا۔
یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو پکارنا یہ کیا کیا دلوادیتا ہے میں بتا نہیں سکتی۔ یہ سانس کی طرح ضروری ہے جو نہیں پکارتے ، دعا نہیں کرتے ان کے دل اندھیروں میں رہتے ہیں یہ دعا کرنا ایک روشنی ہے۔
گرمی میں ٹھنڈی ہوا اور بارش کے پہلے قطرے کی طرح ہے۔
یہ بے حد خوبصورت ہے۔

دعا مانگا کریں۔ نوازے جائیں گے اور دوسروں کو معاف کیا کریں آزاد ہو جائیں گے۔

سب رب کے حوالے کر دیا کریں اور خود کو آزاد کر دیا کریں۔ اور اپنی منزل بہت بلند رکھیں۔

رب کے قرب کی منزل اور اپنی پرواز کو بلند رکھیں۔ ادھر ادھر سے بے نیاز ہو جائیں اور اپنی ساری توجہ اوپر کی طرف رکھیے۔

بہت پر لطف سفر ہے۔ زندگی بھر کا سفر ہے۔ عزتوں والا سفر ہے مشکلات آئیں گی لیکن یہ باطن میں خیر لیے ہوں گی۔ پر یقین رہیے۔ اور سفر شروع کیجیے۔

اور ہم ان شاء اللہ تعالی بہت جلد اپریل کے وسط میں اپنا دعاؤں اور اسماء مبارکہ والا سفر بھی شروع کر رہے ہیں میں اس سفر کے لیے بہت پر جوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت اور استقامت عطا فرمائے آمین سلامت رہیے اور امید ہے کہ آج کی پوسٹ میں آپ کے کسی سوال کا جواب موجود ہو گا۔ مسکرائے اور ذکر کیا کریں۔
جزاکم اللہ

اللہ کے عفو کی طالب
عائشہ ملک بنت یعقوب

Loading