Daily Roshni News

دیدار کی اقسام۔۔۔۔

دیدار کی اقسام۔۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہر انسان جسم اور روح سے مرکب ہے جیسے اعضاء بدنیہ کے متناسب اور سڈول ہونے کا نام حسن الخلق یعنی خوب سیرتی ہے ویسے ہی روح کی خوب سیرتی بھی بیشمار مراتب اور رنگوں میں ہے ، ان میں سے ایک اہم موضوع دیدار کا ہے دیدار کی عام طور پر چھ اقسام بیان کی جاتی ہیں

دیدار کی اقسام ۔۔

  1. دیدار نفس…

دیدار نفس میں سالک کو اپنے نفس کے بارے میں معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ قول مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر عمل شروع کرتا ہے اس کو عمل قولی بھی کہتے ہیں اپنے آپ کو ظاہری احکامات شریعت کا پابند بناتا ہے اور اپنے وجود کی ایک ظاہری کیفیت سے گزرتا ہے اس کیفیت کو واجب الوجود کہتے ہیں ۔دیدار نفس اپنے نفس کی پہچان جس نے نفس کو پہچانا اس نے رب کو پہچانا ۔سالک طریقت اس حالت میں مرید کہلاتا ہے ۔

  1. دیدار قلب ۔۔۔۔

دیدار قلب میں سالک کو عرش الہٰی کا دیدار ہوتا ہے یہ باطنی دنیا میں ایک خاص شعور ہے ۔

یہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فعل مبارک کی اتباع سے ہوتا ہے اس کو عمل فعلی بھی کہا جاتا ہے اس کا ایک نام ممکن الوجود بھی ہے ۔سالک طریقت اس حالت میں طالب کہلاتا ہے ۔

  1. دیدار روح۔۔۔۔۔۔

یہ سالک طریقت کو روح کا دیدار ہوتا ہے یہ جبروتی عالم ہے اس میں آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احوال مبارک سے کیفیت حال عطا ہوتی ہے اس کو ممتنع الوجود بھی کہتے ہیں اور اس کو عمل احوالی بھی کہا جاتا ہے ۔ سالک طریقت اس حالت میں طائر کہلاتا ہے ۔

  1. دیدار سر۔۔۔۔۔۔

اس دیدار میں سالک کو مختلف  صفات الہٰیہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اس کو عمل صفاتی بھی کہا جاتا ہے اور عارف الوجود بھی کہا جاتا ہے اس میں سالک طریقت کا نام سائر کہلاتا ہے ۔

  1. دیدار نور ۔۔۔۔

دیدار نور  میں نور محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیدار ہوتا ہے یہ بہت بڑا مقام اور دیدار ہے اس کو عمل حرکت بھی کہا جاتا ہے اور یہ شاہد الوجود کہلاتا ہے اس میں سالک طریقت کو واصل کا نام دیا جاتا ہے۔

  1. دیدار ذات۔۔۔

یہ دیدار الٰہی ہے مقام فنا حاصل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوتا ہے پھر اس میں ہی ایک خاص مجلس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری ہوتی ہے باقی باللہ کا مقام ملتا ہے اس کو وحدت الوجود بھی کہا جاتا ہے اور خلیفہ فی الارض بنا کر دوبارہ عالم ناسوت میں زمہ داری دے کر بھیجا جاتا ہے ۔

یہ باتیں اپنے وقت پہ آہستہ آہستہ کھلتی جاتی ہیں جب ہم نیکی اور عبادات کا راستہ استقامت اور مداومت کے ساتھ اختیار کرتے ہیں تو اسکے نتیجے میں ہماری روح میں بالیدگی پیدا ہوتی جاتی ہے اور روح لطیف ہوتی جاتی ہے جوں جوں ہماری روح لطیف ہوگی اسی قدر اسکی پرواز بڑھتی جائے گی وہ ایکٹیویٹ ہوتی جائے گی،جس قدر روح کی پرواز بڑھے گی اتنی ہی زیادہ وہ سیر کو نکلے گی

سائنس اور نفسیات میں بھی اس پہ تجربات ہوئے ہیں امریکہ میں بہت سے ایسے بچوں پہ اسٹڈی ہوئ جو بہت سے علاقوں میں کبھی نہیں گئے تھے لیکن اسکے باوجود وہ ان علاقوں کے نشانات اور لینڈ مارکس بہت تفصیل سے بتا سکتے تھے سائنس باوجود حیرت کے اسے کوئ نام نہ دے سکی محض یہ کہا کہ

” کسی شخص کی ذہنی صلاحیتیں بعض اوقات اس قدر تیز ہو جاتی ہیں کہ وہ زمان و مکان سے بالا تر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ہی جگہ پر بیٹھا بیٹھا ذہنی طور پر دوسرے مقام کی سیر کر لیتا ہے”

یہ درحقیقت روح کی سیر یے اور اس ہی دوران مختلف شعور بیدار ہوکر مختلف دیدار ملاحظہ کرتے ہیں

پارہ اکیس میں سورہ العنکبوت کی آیت نمبر 29  میں ہے

” اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انکو ضرور اپنے راستے دکھائیں گے اور بیشک اللہ تعالیٰ ایسے خلوص والوں کے ساتھ ہے “

جو لوگ اللہ کے راستے ثابت قدمی کے ساتھ کوشش میں لگے رہیں تو رفتہ رفتہ انکا نخل تمنا ضرور سرسبز ہونے لگتا ہے اگر اس کوشش کا نتیجہ خاطر خواہ نکلتا ہوا نہ بھی محسوس ہو تو پھر بھی لگے رہنا چاہیے اس راہ میں اس مقولے کو پیش نظر رکھنا تقویت دیتا ہے

یابم اورا یا نیابم جستجوئے می کنم

حاصل آید یانیابد  آرزوئے  می  کنم

( اسکو پاؤں نہ پاؤں اس کی طلب میں لگا رہونگا وہ ملے نہ ملے آس کے ملنے کی آرزو برابر کرتا رہوں گا)

اللہ کریم آپ کو اور ہمیں استقامت عطا فرمائیں

اب جسکے دل میں آئے وہی پائے روشنی

ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا۔

#trending #everyone #facebookpost #friends #viewersfriendsfollowers #evryactiveperson #foryoupageシforyou #رِحمتہُ_اللّعَالمِین_مُحمدﷺ #fypシ゚ #محبت_مصطفیٰﷺ #اصل_بندگی #عبدِمصطفٰی

Loading