دی ہیگ،1400 قبروں پر مشتمل قبرستان کے قیام پر
مسلمانوں میں بے چینی، کیا یہ کام ہم انصاف سے کر رہے ہیں
مونسپل کو نسل میں اتحادی جماعت D66کے پارلیمانی لیڈر
یوسف اسد کا ردعمل ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔نیوز ڈیسک۔۔۔اومروپ ویسٹ) دی ہیگ کی مسلم برادری کے ایک حصے میں اسلامی قبرستان کے قیام کے منصوبوں پر تشویش پائی جاتی ہے۔ تین سال کی تلاش کے بعد ایک ایسی جگہ مل گئی ہے جہاں مسلمانوں کو دائمی آرام (ہمیشہ کی قبر) میسر ہو سکے گا۔ تاہم کچھ اسلامی کمیونٹیز کو خدشہ ہے کہ اس قبرستان میں ان کے لیے جگہ نہیں ہوگی۔ سیاسی جماعت D66 نے اس حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
“میرے لیے معاملہ صرف ایک سوال پر آ کر ٹھہرتا ہے: کیا ہم یہ کام انصاف کے ساتھ کر رہے ہیں یا نہیں؟”
یہ پیغام دینا چاہتے ہیں یوسف اسد، جو دی ہیگ کی میونسپل کونسل میں اتحادی جماعت D66 کے پارلیمانی لیڈر ہیں۔ وہ اس خبر پر ملے جلے جذبات رکھتے ہیں جس کا اعلان گزشتہ ہفتے فخر کے ساتھ بلدیاتی کونسلر نور اکار (DENK) نے کیا تھا۔
اکار نے سٹی کونسل کو لکھے گئے خط میں بتایا کہ دی ہیگ نے تقریباً ڈیڑھ ہیکٹر زمین مختص کی ہے، جس میں تقریباً 1400 قبروں کی گنجائش ہوگی۔ یہ زمین فلیت دریا اور شریپل پیڈ کے قریب واقع ہے، فوربورخ اور پرنس کلاوس پلین انٹرچینج سے زیادہ دور نہیں۔
دائمی آرام
اکار نے خط میں لکھا:
“دی ہیگ یا اس کے علاقے میں ایک ایسے اسلامی قبرستان کی مانگ بڑھتی جا رہی ہے جہاں دائمی آرام کی سہولت ہو، اور یہ مطالبہ دی ہیگ کی مسلم برادری کی جانب سے مسلسل سامنے آ رہا ہے۔”
اتحادی معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ بلدیہ اس مقصد کے لیے موزوں مقام تلاش کرے گی۔
اب وہ جگہ مل چکی ہے۔ اکار کے مطابق:
“ایک جامع اور سب کو شامل کرنے والے شہر میں اسلامی پس منظر رکھنے والے شہریوں کے لیے آخری آرام گاہ کی جگہ ہونی چاہیے۔ اس کا حقیقت بننا میرے لیے بے حد خوشی اور فخر کا باعث ہے۔”
یہ ایک نجی قبرستان ہوگا۔ اس اقدام کے محرکین، فیڈریشن آف اسلامک آرگنائزیشنز (FIO) اور ریجن ہیگ لینڈ کی اسلامی تنظیموں کا اتحاد (SIORH)، زمین کی خریداری اور قبرستان کے انتظام کے اخراجات خود برداشت کریں گے۔
لیکن اتحادی جماعت D66 کے مطابق مسئلہ یہی ہے۔ اسد کا کہنا ہے کہ بلدیہ نے مسلمانوں کے ایک مخصوص گروہ سے بات کی ہے۔ کچھ چھوٹی اسلامی کمیونٹیز کو منصوبوں میں شامل نہیں کیا گیا اور انہیں باقاعدہ طور پر مذاکرات میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اسد کے مطابق وہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا مستقبل میں ان کے لیے بھی قبرستان میں جگہ ہوگی یا نہیں۔
اسد وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
“سب سے پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ مجھے خوشی ہے کہ اسلامی قبرستان کے لیے جگہ مل گئی ہے۔ بہت سے دی ہیگ کے خاندانوں کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ اپنے پیاروں کو اپنے ہی شہر میں، خاندان کے قریب دفن کر سکیں۔”
تاہم وہ کہتے ہیں کہ انہیں چھوٹی کمیونٹیز کی جانب سے تشویش کے اشارے ملے ہیں۔
“یہ بلدیاتی قبرستان نہیں ہوگا بلکہ ایک نجی اقدام ہے۔”
اسی لیے کچھ کمیونٹیز کو خدشہ ہے کہ اگر وہ مستقبل کے خریداروں یا منتظمین کے اسی گروہ یا مکتب فکر سے تعلق نہیں رکھتیں تو شاید وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اسد کہتے ہیں:
“ہمیں یہ روکنا ہوگا کہ اسلامی قبرستان تک رسائی اس بات پر منحصر ہو کہ آپ کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔”
کونسلر اکار کے مطابق ایسا نہیں ہوگا۔
“بلدیہ کا اصول یہ ہے کہ ایک جامع قبرستان قائم کیا جائے۔ یہ بات کونسل کے خط میں بھی درج ہے۔”
وہ مزید کہتے ہیں:
“SIORH اور FIO نے تمام ملاقاتوں میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ دی ہیگ کے تمام مسلمانوں کے لیے دائمی آرام کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ موجودہ مرحلے میں یہ کافی ضمانت ہے۔”
ناکافی ضمانتیں
اسد ان ضمانتوں کو ناکافی قرار دیتے ہیں۔
“جب سیاست میں ‘اصول’ کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اکثر اس کا مطلب محض ایک ارادہ ہوتا ہے۔ اگر واقعی ایسا چاہتے تو دیگر کمیونٹیز کو بھی منصوبوں میں شامل کیا جانا چاہیے تھا، اور ایسا نہیں ہوا۔”
اسی لیے اسد چاہتے ہیں کہ بلدیہ زمین کی نیلامی یا فروخت کے وقت واضح شرائط اور حدود مقرر کرے۔
“صرف وہی خریدار زمین کا اہل ہوگا جو ان شرائط کی پابندی کرے گا۔”
D66 کا کہنا ہے کہ انہی شرائط کے ساتھ وہ منصوبے کی حمایت کرے گا۔
“سخت محنت کو بدنام کیا جا رہا ہے”
اکار کا کہنا ہے کہ دیگر کمیونٹیز سے بھی گفتگو کی گئی ہے۔
“میں نے مختلف تنظیمی اتحادوں اور دیگر کمیونٹیز کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا:
“میں نے دی ہیگ کے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں سے فرداً فرداً ملاقات نہیں کی، کیونکہ یہ ممکن نہیں۔ میں اسلامی برادری کی کوششوں پر فخر کرتا ہوں اور مجھے افسوس ہے کہ ان کی سخت محنت کو اس طرح مشکوک بنایا جا رہا ہے۔”
اسد کا کہنا ہے کہ بات یہ نہیں کہFIO اور SIORH اچھا کام کر رہی ہیں یا نہیں، بات یہ ہے کہ دی ہیگ میں تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں کی نمائندگی ہونی چاہئے
وہ مزید کہتے ہیں:
“اگر ہم بطور بلدیہ یہ کہتے ہیں کہ اسلامی قبرستان تمام مسلمانوں کے لیے ہوگا تو ہمیں واضح کرنا ہوگا کہ عملی طور پر یہ کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی اس سے محروم رہ جائے۔”
![]()

