رات صرف گہری نہیں تھی بھاری تھی۔
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عثمان عاشق
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ رات صرف گہری نہیں تھی بھاری تھی۔ تحریر ۔۔۔۔۔ عثمان عاشق) آسمان پر بادل اس طرح گرج رہے تھے جیسے کسی نے صدیوں کا دکھ ایک ہی رات میں زمین پر اتارنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ بارش کی ہر بوند چھت پر نہیں، جیسے دل پر گر رہی تھی، مسلسل، بے رحم، اور بے آواز چیخوں کے ساتھ۔
ایک کچی سی جھونپڑی کے اندر، ایک مدھم سا چراغ جل رہا تھا۔
اور اس چراغ کی لو بھی جیسے تھک چکی تھی۔
وہاں ایک بیوہ عورت بیٹھی تھی، حلیمہ۔
اس کے چہرے پر وقت کے نشان تھے، آنکھوں میں وہ خالی پن، جو صرف مسلسل صبر سے پیدا ہوتا ہے، اور دل میں ایک ایسی خاموش جنگ، جس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا۔
اس کے شوہر، اکرم، کو گزرے تین سال ہو چکے تھے، مگر اس کے جانے کے بعد جو خلا پیدا ہوا تھا، وہ وقت بھی پُر نہ کر سکا۔
کونے میں اس کے تین بچے سمٹے بیٹھے تھے،
آٹھ سالہ علی، چھ سالہ مریم، اور ننھا حسن،
ان کی آنکھوں میں سوال نہیں تھا، انتظار تھا۔
اور انتظار بھی ایسا، جس کے پیچھے امید نہیں بچتی۔
“اماں، کچھ کھانے کو ہے؟”
یہ سوال نہیں تھا، ایک فریاد تھی۔
حلیمہ نے نظریں جھکا لیں۔
“بیٹا، بس تھوڑی دیر اور صبر کرو”
مگر بھوک صبر نہیں مانتی، وہ صرف اپنا حق مانگتی ہے۔
اچانک
ٹھک، ٹھک، ٹھک…
دروازے پر دستک ہوئی۔
یہ آواز بارش کے شور میں بھی الگ تھی، صاف، ٹھہری ہوئی، جیسے کسی کو یقین ہو کہ دروازہ کھلے گا۔
حلیمہ کا دل ایک لمحے کو رک گیا۔
اتنی رات، اتنے طوفان میں
کون؟
وہ آہستہ سے دروازے کے قریب گئی۔
“کون ہے؟”
باہر سے ایک آواز آئی
کمزور، مگر عجیب حد تک پُرسکون:
“ بارش بہت تیز ہے، کیا ایک مسافر کو رات بھر کی پناہ مل سکتی ہے؟”
اس آواز میں کوئی درخواست نہیں تھی، بس ایک یقین تھا۔
حلیمہ نے دروازہ کھول دیا۔
دروازے پر ایک بوڑھا کھڑا تھا۔
بھیگا ہوا لباس، لمبی سفید داڑھی، اور وہ آنکھیں
وہ آنکھیں عام نہیں تھیں۔
ان میں وقت ٹھہرا ہوا تھا… جیسے وہ ماضی، حال، اور وہ سب کچھ دیکھ چکی ہوں جو ابھی ہونا باقی ہے۔
وہ اندر آیا، خاموشی سے بیٹھ گیا۔
کچھ دیر بعد اس نے بچوں کی طرف دیکھا۔
“یہ کیوں رو رہے ہیں؟”
حلیمہ نے نظریں جھکا کر کہا:
“بھوک ہے”
بوڑھے نے ایک گہری سانس لی، اور کمرے کے ایک کونے کی طرف دیکھا، جہاں بارش کی آواز دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔
پھر بولا:
“تمہیں یاد ہے، وہ رات؟”
حلیمہ کے چہرے پر جھٹکا آیا۔
“کون سی رات؟”
بوڑھا آہستہ سے بولا۔
“جب بارش اسی طرح ہو رہی تھی، جیسے آج ہو رہی ہے”
حلیمہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“آپ کون ہیں؟”
“آپ کو یہ سب کیسے معلوم؟”
بوڑھے نے بات کاٹ دی، مگر آواز نرم تھی:
“جب وہ گیا تھا، تو بھی یہی بارش تھی نا؟”
کمرے کی فضا یکدم بھاری ہو گئی۔
حلیمہ نے بمشکل کہا:
“آپ، اکرم کے بارے میں کیوں بات کر رہے ہیں؟”
بوڑھے نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، اور پہلی بار اس کی آواز میں ایک عجیب سی لرزش آئی، نہ ہمدردی، نہ الزام، بس ایک گہرا سوال:
“میں اکرم کے بارے میں نہیں بات کر رہا”
وہ رکا۔
جیسے لفظ بھی اس سے ڈر رہے ہوں۔
پھر آہستہ سے بولا:
“میں اُس دن کے بارے میں بات کر رہا ہوں جب وہ بارش کے باوجود واپس نہیں آیا”
یہ جملہ کمرے میں ایسے گرا جیسے کسی نے چراغ بجھا دیا ہو۔
بوڑھا چند لمحے چپ رہا۔ پھر بہت آہستہ سے بولا:
“اگر وہ نہ جاتا”
وہ رک گیا، جیسے خود بھی اگلا جملہ مکمل نہیں کرنا چاہتا۔
“تو آج، یہ حالات آپ لوگوں کیلئے کچھ مختلف ہوتے”
حلیمہ نے چونک کر پوچھا:
“کیا مطلب؟”
کمرے میں پھر خاموشی اتر گئی۔
خاموشی، ایسی خاموشی جو چیخ سے زیادہ خوفناک تھی۔
صرف بارش بول رہی تھی۔
رات اب بھی بارش میں ڈوبی ہوئی تھی۔
مگر حلیمہ کو یوں لگ رہا تھا جیسے بارش اب باہر نہیں، اندر برس رہی ہو۔
بوڑھا خاموشی سے جھونپڑی کے اندر بیٹھا تھا۔ نہ اس کے کپڑوں سے پانی ٹپک رہا تھا، نہ اس کے وجود میں جلدی یا بےچینی تھی۔ وہ ایسے بیٹھا تھا جیسے یہ طوفان اس کے لیے کوئی نئی بات نہ ہو۔
پھر اچانک ہوا کا ایک جھونکا آیا، چراغ کی لو بجھ گئی۔
اندھیرا۔
مکمل اندھیرا۔
بچوں کی سانسیں تیز ہو گئیں۔ حلیمہ نے گھبرا کر دیوار پکڑ لی۔
“چراغ، چراغ کہاں گیا؟”
اسی اندھیرے میں بوڑھے کی آواز آئی:
“اندھیرا ہمیشہ روشنی کو نہیں مارتا، کبھی کبھی روشنی خود حقیقت میں اس کی ذمے دار ہوتی ہے”
حلیمہ نے دھیمی آواز میں کہا:
“آپ مجھے ڈرا رہے ہیں”
بوڑھے نے سر آہستہ سا ہلایا:
“نہیں”
پھر اس نے پہلی بار سیدھا اس کی طرف دیکھا:
“میں تمہیں یاد دلا رہا ہوں”
حلیمہ کے جسم میں جیسے بجلی دوڑ گئی۔
“آپ، آپ کو یہ سب کچھ کیسے معلوم؟”
بوڑھا خاموش رہا۔
پھر اس نے سر ذرا سا جھکایا اور کہا:
“وہ درخت، یاد ہے؟ جہاں پہلی بار تم نے اس سے کہا تھا ‘اگر کبھی بھی میں مشکل میں ہوئی، تو مجھے اکیلا نہ چھوڑنا’”
یہ سن کر حلیمہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔
یہ بات، یہ لمحہ،
یہ راز تو صرف وہ اور اکرم جانتے تھے۔
بارش اب بھی ہو رہی تھی، مگر حلیمہ کو لگا جیسے دنیا خاموش ہو گئی ہو۔
“آپ، ہے کون؟”
اس کی آواز میں خوف بھی تھا، امید بھی۔
بوڑھے نے سیدھا جواب نہیں دیا۔
وہ بس مسکرایا، ایک ایسی مسکراہٹ، جو کسی پرانی یاد کی طرح دل میں اتر جائے۔
“کچھ وعدے، وقت بھی نہیں توڑ سکتا”
بوڑھے نے آہستہ سے کہا:
“کچھ پانی ملے گا؟”
حلیمہ نے ایک خالی پیالہ لا کر دیا۔
بوڑھے نے اس پر ہاتھ رکھا
پھر اس نے پیالہ بچوں کی طرف بڑھا دیا۔
“پی لو”
علی نے ہچکچاتے ہوئے گھونٹ لیا
پھر اس کی آنکھیں پھیل گئیں:
“اماں، یہ تو دودھ ہے”
مریم اور حسن بھی لپک کر پینے لگے، جیسے انہیں پہلی بار سیر ہو رہی ہو۔
حلیمہ ساکت کھڑی تھی،
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی یہ معجزہ ہے یا کوئی راز۔
بارش تھمنے لگی۔
بوڑھا آہستہ سے اٹھا۔
“اب مجھے جانا ہوگا”
حلیمہ کے اندر کچھ ٹوٹا۔
اور پوچھا کہ آپ پھر کبھی آئے گئے ؟
بوڑھے نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا:
“جو کبھی گیا ہی نہیں، وہ لوٹتا بھی نہیں، لوٹتا وہ ہے جو کبھی گیا ہوتا ہے”
حلیمہ اسے باہر چھوڑ کر
اندر واپس آئی
تو ایک پرانا تھیلا وہیں پڑا تھا۔
وہ فوراً اسے اٹھا کر باہر بھاگی “بابا! یہ آپ کا رہ گیا!”
اگے سے کچھ نہیں تھا،
نہ کوئی سایہ، نہ قدموں کے نشان۔
صرف گیلی زمین اور ایک عجیب سی خاموشی۔
وہ دور تک چاروں اطراف دیکھتی رہی اندھیرے میں، بارش کے بعد کی نمی میں
مگر وہاں کہیں نہیں تھا۔
وہ واپس آئی، تھیلا کھولا
اندر آٹا تھا، چاول تھے اور چند سکے، جو ان کو عمر بھر کیلئے کافی تھے۔
مگر عجیب بات یہ تھی
وہ سب چیزیں ایسی لگ رہی تھیں، جیسے ابھی ابھی کسی نے رکھ دی ہوں۔
بچے خوشی سے لپک پڑے۔
“اماں! وہ کون تھے؟”
حلیمہ نے آہستہ سے آنکھیں بند کی
اور پہلی بار تین سال بعد اس کے چہرے پر سکون آیا۔
“وہ، تمہارے ابا تھے”
پھر وہ رکی
اور دھیرے سے بولی:
“یا شاید کوئی ایسا جو ان کا وعدہ نبھانے آیا تھا”
“سچی اور پاکیزہ محبت کرنے والوں کے کچھ وعدے قدرت ادھورے نہیں رہنے دیتی، چاہیے پھر قدرت کو اپنے اصول ہی کیوں نہ بدلنے پڑے۔”
کیوں کہ کچھ وعدے، زمین پر نہیں، آسمان پر لکھے جاتے ہیں۔
اس رات کے بعد بارش کئی بار ہوئی،
طوفان بھی آئے
مگر حلیمہ نے کبھی دروازہ بند کرتے ہوئے خوف محسوس نہیں کیا۔
کیوں کہ اب اسے یقین ہو چکا تھا
مرنے کے بعد ہمارے پیارے ختم نہیں ہو جاتے، بلکہ وہ صرف نظر آنا چھوڑ دیتے ہیں۔
اس رات کے بعد بارشیں تو اس جھونپڑی پر بہت برسیں، موسم بھی بدلتے رہے، آسمان بھی کبھی رویا، کبھی ہنسا، مگر جو بارش اُس ایک رات ہوئی تھی، وہ پھر کبھی دوبارہ لوٹ کر نہ آئی۔
وہ بارش نہیں تھی،
وہ تو کسی خاموش آسمان کا ٹوٹا ہوا صبر تھا، جو بوند بوند بن کر زمین پر گر رہا تھا۔
اس رات ہر قطرہ جیسے کچھ کہہ رہا تھا، ہر ہوا میں ایک ادھورا سا نوحہ تھا، اور ہر چھت کے نیچے کوئی نہ کوئی خاموش یاد جاگ رہی تھی۔
پھر وقت گزرتا رہا،
گلیاں بدل گئیں، موسم بدل گئے، برسوں نے چہروں پر نئی لکیریں کھینچ دیں۔
مگر اُس رات کی بارش جیسا نہ کوئی حلیمہ کے ہاں موسم آیا، نہ کوئی لمحہ واپس لوٹا۔
کیونکہ کچھ راتیں بارش نہیں ہوتیں،
وہ یاد بن جاتی ہیں، اور یادیں پھر کبھی بارش بن کر نہیں گرتیں۔
تحریر: عثمان عاشق
کہانی نمبر 22
![]()

