Daily Roshni News

رسم ستم ہے کتنی پرانی؟ تحریر۔۔فاریہ اسلم۔۔۔قسط نمبر 1

رسم ستم ہے کتنی پرانی؟

تحریر۔۔فاریہ اسلم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ رسم ستم ہے کتنی پرانی؟ تحریر۔۔فاریہ اسلم)محرومیوں اور نامرادیوں کے زخم ہمیشہ تازہ ہی رہتے ہیں۔ وہ دوسرے زخموں کی طرح کبھی نہیں بھرتے۔ بس ذرا سی ٹھیس پر ان سے بوند بوند لہور سے لگتا ہے۔

وہ لوگ جو اپنی شادمانیوں اور آرزوؤں کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کا دکھ اور درد مثانے کے لیے جیتے اور مرتے ہیں اور ازل سے رسم وفا اورصداقت کی پاسبانی کرتے ہیں۔ ان ہی بلند کردار اور اعلیٰ صفات ہستہوں میں سے ایک ہستی فاخرہ کی تھی۔ جس گھر میں فاخرہ نے آنکھ کھولی تھی وہ ایک غریب لیکن شریف گھرانہ تھا۔ دقیانوسی اور بلا کا قدامت پرست، فرسودہ رسم و رواج کی آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا۔ اونچی اونچی دیواروں سے گھر ا ہو اگھر جہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا، اس گھرانے کی زندگیاں اور رہن سہن بہت سادہ تھا۔ اندر سے باہر تک مردوں کی حکومت اور راج تھا۔ ابھی فاخرہ صحیح معنوں میں بچپن کو خیر باد بھی نہ کہنے پائی تھی۔ نہ اس کی عقل و ہوش کے بال و پر نکلے تھے اور نہ ہی شعور بیدار ہوا تھا کہ والدین نے اس کے ہاتھ پیلے کر دیے۔ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے نہ سہی لیکن قدامت پرست خاندان نے اسے اس نو عمری میں زندگی کے اس موٹر پر لاکھڑا کیا جہاں وہ کچی کلی سے پھول بن گئی۔

عورت کسی عمر کی ہو کسی بھی ذات اور طبقے کی ہو اس کی فطرت بہتے پانی کی مانند ہوتی ۔ ہر ماحول اور سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔ اپنے حالات سے سمجھوتہ کر لیتی ہے۔

فاخرہ نے اپنے میکے میں غربت کی ہی زندگی گزاری تھی۔ کیونکہ خاندان کافی بڑا تھا۔ پانچ بہنیں اور دو بھائی۔ اس کے والدین ذمہ داریوں کے بوجھ کی وجہ سے خوشحالی کی زندگی کبھی گزارنہ سکے۔ سرال آکر بھی اس نے ناداری اور محتاجی دیکھی۔

مایوسی ان لوگوں کو ہوتی ہے جو جاہ و حشم، عیش و طرب اور دولت کے خواب دیکھتے ہیں اور جب ان کے خوابوں کی تعبیر بر عکس ہوتی ہے تو ان کا سکون اجڑ جاتا ہے۔ فاخرہ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔ وہ تو عمر ضرور تھی، اس کمسنی میں بھی اس کے پاس قناعت کی دولت تھی۔ وہ کم سخن، جفا کش اور صابر لڑکی تھی۔ اس نے ٹوٹ کر اپنے شوہر رضا کو چاہا۔ دل و جان سے سسرال والوں کی اطاعت، عزت اور احترام کیا۔

شادی کے کچھ عرصہ بعد اس نے سارے گھر کی ذمہ داری اور کام سنبھال لیا۔ رضا یوں تو طبیعتا بے حد شریف النفس، صادق اور باوفا تھا، مگر جذبات سے عاری، بے فکر اور مست انسان۔ اسے نہ کبھی نوکری کرنے کی توفیق ہوئی اور نہ ہیں کوئی دوسرا کام کیا۔ جو کچھ آبائی گزارہ اور پنشن تھی اسی آمدنی میں بسر اوقات کی۔ اسے کبھی بیومی کی دلجوئی یا دل بستگی کرنا نہ آیا۔ وہ جو ایک ہم آہنگی لگاؤ اور ہم خیالی کا رشتہ شوہر اور بیوی کے درمیان

ہوتا ہے۔ ان میں وہ نا پید تھا۔ بس وہ قانون کے لحاظ سے اس کی بیوی اور رسم و رواج کے مطابق خاندان کی بہو تھی۔

دو بچوں کی پیدائش کے بعد فاخرہ نے اپنی جوانی، راتوں کی نیند اور دن کا آرام بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال میں حج دیا۔ انہیں کلیوں اور پھولوں کی طرح پالا۔ اگر زندگی میں اسے صحیح معنوں میں کوئی روحانی شادمانی نصیب ہوئی تھی تو وہ خاور اور ملکہ کی ولادت کے بعد بچے جب پیار و محبت سے اپنی بانہیں اس کے گلے میں ڈال کر چھٹتے تو فرط نشاط سے اس کی روح کھل اٹھتی۔ ساری تھکاوٹ اور الجھنیں دور ہو جاتیں۔ بس ایک اذیت اس کے دل میں کوچے لگاتی رہتی کہ اپنے بچوں کی راحت اور دلجوئی کے لیے وہ کچھ بھی نہ کر پارہی تھی جو ہر ماں کی آرزو اور تمنا ہوتی ہے۔ اس کے پاس اتنا رو پھر کہاں تھا جو وہ اپنے بچوں کی مخواہشات پوری کرتی۔

رضا کو خاور سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ اسے دیکھ کر جیتا تھا۔ اس کی پیدائش پر اس کا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا۔ جیسے عام طور سے دیکھا گیا ہے والدین بیٹی پر بیٹے کو فوقیت دیتے ہیں خواہ وہ صاحب حیثیت لوگ ہوں یا غریب۔

جب خاور بڑا ہوا تو رضا کے بڑے بھائی عابد نے اس کی تعلیم کے اخراجات وغیرہ خاطر خواہ برداشت کیے لیکن گھر کے اطراف جو نئے بگڑے روسنا اور نوابین کے جو رنگ ڈھنگ تھے اس کا اثر خاور کے دل و دماغ پر برا پڑا۔ جب تک وہ چھوٹا تھا

جی لگا کر پڑھتا تھا اور اچھے نمبروں سے امتحانات پاس کر تا تھا مگر بڑے ہونے پر اس کا دل تعلیم سے اچاٹ ہو گیا۔ آٹھواں درجہ پاس کر کے اس نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ رضا کے دل کو دھچکا پہنچا۔ اسے خاور سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ سب کی سب خاک میں مل گئیں۔ گردو نواح کے جو رنگ تھے خاور اس میں رنگ گیا۔

اس سے قبل کہ خاور ہاتھوں سے نکل جاتا۔ عابد نے کوشش کر کے اسے ایک دفتر میں

ملازمت دلادی۔

ملکہ بڑی معصوم، بھولی اور سنجیدہ مزاج لڑکی تھی۔ وہ ڈھیلے ڈھالے بد وضع لباس میں بھی خوب جھتی تھی۔ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ خانہ داری کے ہر کام میں ماہر تھی۔

فاخرہ کے سسر اور ساس انتقال کر گئے۔ ملکہ بیاہ کر پردیس چلی گئی اور خاور کی شادی ماجدہ سے ہو گئی۔ اس نے جی بھر کے دلہن کے ناز اٹھائے، ہر طرح کی اسے راحت دی اور چاہا۔ مگر کچھ عمر سے بعد خلاف توقع ایک راز سے پردہ اٹھا۔ ماجدہ بہت ہی شاہانہ مزاج کی ، نہایت ہی تیز و طرار اور چرب زبان لڑکی تھی۔ وہ بہت مغرور واقع ہوئی تھی۔ خود پرستی اور خوش فہمی یہ دو خول تھے جن میں وہ مقید تھی۔ اگر کوئی جائزہ لیتا تو اس کی خود غرضیوں اور بد کلامی کی بڑی لمبی چوڑی فہرست بنتی بس یوں سمجھیے کہ وہ ہوا اور ہوس کے سحر میں جکڑی ہوئی تھی۔

معمولی سی بات پر اس کی تیوریوں پر بل پڑ جاتے اور اس کے کمرے سے اس قسم کی آوازیں سنائی دیتیں۔

یہ گھر ہے یا کباڑ خانہ … ؟ ” جانے ابا کو اس خاندان میں کیا خوبیاں نظر آئی تھیں جو مجھے

اس بھاڑ میں سلگنے کے لیے جھونک دیا۔“

” جب تمہارے گھر میں کچھ نصیب ہی نہ تھا تو تمہارے ابا و علماں کو تمہاری شادی کی کیا سوجھی تھی؟”

تمہاری بہن تو راج کر رہی ہے اور میں یہاں اپنی قسمت کو رورہی ہوں۔“

جب انسان کی ہوس بڑھ جاتی ہے تو وہ دوسروں کی زندگی بے سکون کر دیتا ہے غرضیکہ گھر میں سرد جنگ چھڑ گئی اور گھر جہنم بن کر رہ گیا۔ شروع شروع میں فاخرہ نے بہو کے زہر یلے طنزیہ اور جلے کٹے فقرے سنے تو اس کا وجود محرومیوں اور مایوسیوں میں کم ہو گیا۔ اس نے تو بھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ ماجدہ جو خود ایک غریب گھرانے کی لڑکی تھی وہ اس کے خاندان کو اس قدر حقیر اور کمتر سمجھے گی۔ جب کہ گھر کے بھی افراد کا حسن سلوک اس کے ساتھ اچھا تھا۔ ہر ایک حسب توفیق اپنا اپنا فرض ادا کر رہا تھا….. ہاں اگر خلوص اور محبت کی کمی تھی تو وہ خود ماجدہ میں ہی تھی۔ اس کی خود غرضیاں اور خواہشات ہی اسے بے سکون کیے ہوئے تھے۔ ناشکر گزار افراد کبھی فلاح نہیں پاتے۔ فاخرہ جب بھی خاور کو پریشان اور خاموش دیکھتی تو موقع ملنے پر چپکے چپکے اسے سمجھاتی ” بیٹے تم دلہن کی کسی بات کا برا نہ مانا۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2018

Loading