ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔ سید اسلم شاہ)دوست نے سوال کیا کہ میری والدہ ایک جگہ میرا رشتہ طے کرنا چاہ رہی ہیں، میں چاہتا ہوں کہ رشتہ طے ہونے سے قبل اس لڑکی سے چندملاقاتیں کرلوں تا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھ کر یہ اندازہ لگا لیں کہ ہم آگے کی پوری زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزار سکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لڑکی کے گھر والے نہایت سخت اور دینی قسم کے لوگ ہیں۔ وہ مجھے لڑکی کی تصویر تک دکھانے کے حق میں نہیں چہ جائیکہ مجھے اس کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت دیں۔ سو اس سلسلے میں اسلام کیا کہتا ہے، وہ بتائیں تاکہ میں لڑکی کے گھر والوں کو رضامند کرسکوں۔
دیکھئے جو صورتحال بیان کی گئی ہیں، میرے ناقص علم کے تحت تو وہ دونوں ہی افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ آپ جو کچھ چاہتے ہیں وہ کچھ نہیں محض مغربی معاشرے سے مرعوبیت کا شکار ہونے کا شاخسانہ ہے جہاں مردوعورت ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارے بغیر شادی کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے اور بالفرض محال اگر اس بات کی اجازت دے بھی دی جائے تو اس کی حدود کون متعین کرے گا کہ یہ میل ملاپ کس حد تک ہوگا۔ جوانی کے جوش اور شیطان کے بہکاوے میں بات صرف بات چیت تک محدود رہنا کم ہی ممکن رہتا ہے اور ھل من مزید کے مصداق شادی شدہ زندگی کے تمام لوازم کو ٹیسٹ کرنے کی سعی کی جاتی ہے تاکہ اس بات کا اطمینان کرلیا جائے کہ بعد میں مزاج سے لیکر شہوانی خواہشات تک ہر شے میں فریقین ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور موافقت و مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں ۔ اگر اس نظریہ پر عمل کرلیا جائے تو لڑکی کی عزت کس قدر محفوظ رہ سکتی ہے، اس کا اچھے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ خاص کر ایسے موقعوں پر جب کہ لڑکا لڑکی دونوں ایک ساتھ ایک مدت تک رہ چکے ہوں اور اس کے بعدمزاج نہ ملنے کے سبب لڑکا رشتے سے انکار کردے۔ ا س کے بعد جتنے منہ ہونگے اتنی باتیں ہونگی اور لڑکی کے ساتھ ساتھ اس کے گھر والوں کی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔
مذکورہ بالا مبحث تو آپ کی سوچ پر عمل پیرا ہونے کے نقصانات تھے۔ جبکہ دوسری سوچ جو کہ آپ کے متوقع سسرالیوں کی ہے وہ ایک دوسری تفریط ہے کہ وہ آپ کو آپ کی متوقع زوجہ کی تصویر تک دیکھانے کے قائل نہیں جب کہ ان کا یہ عمل سنتِ نبویﷺ سے براہِ راست متصادم ہے۔ کتب ِ احادیث میں ایسی معتدد روایات موجود ہیں جن میں آپﷺ نے خودمردوں کو حکم دیا کہ رشتے طے ہونے سے قبل عورت کو ایک نظر دیکھ لے۔ اس کا خود کا دیکھنا کسی وجہ سے ممکن نہ ہو، جیسے وہ ملک سے باہر ہو یا کوئی اور وجہ ، تو اپنے خاندان کی کسی عورت کو بھیج دے کہ وہ جاکر عورت کو دیکھ آئے۔ خیر آج کل ویڈیو کالنگ اور تصاویر کی فراوانی کے ضمن میں یہ محدودیت بھی مفقود ہوچکی ہے۔ اور مرد آرام سے عورت کو دیکھ سکتا ہے۔
دیکھئے اس بات میں کوئی دو رائے ہونے کا احتمال نہیں ہے کہ شریعت اسلامیہ نے اجنبی عورتوں کو دیکھنے سے منع کیا ہے تاکہ عورت کی عزت و عصمت برقرار رہے تاہم کچھ معاملات و حالات ایسے ہیں جہاں شریعت نے اس کی اجازت دی ہے کہ مرد و عورت ایک دوسرے کو دیکھ سکیں اور ان میں سے ایک موقع رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے قبل کا ہے۔ سنن ابو داؤد کی روایت میں مذکور ہے کہ سیدنا جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا “جب تم میں سے کوئی کسی عورت سے منگنی کرے تو اگراس میں نکاح میں رغبت دلانے والی چيز دیکھ سکے تو اسے ایسا کرنا چاہیے”، پس میں نے بنوسلمہ کی ایک لڑکی سے منگنی کی اورمیں اسے دیکھنے کے لیے کھجور کے تنوں میں چھپ جایا کرتا تھا حتی کہ میں نے اس میں نکاح کی رغبت دیکھی تو اس سے شادی کرلی۔ اسی طرح صحیح مسلم کی روایت میں سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺکے پاس تھا توایک شخص نبی ﷺکے پاس آیا اورکہنے لگا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے ، رسول اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اسے دیکھا ہے ؟ وہ کہنے لگا نہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ اسے جاکر دیکھو کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے ۔ سنن دارقطنی اور ابن ماجہ کی روایت میں مذکور ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے منگنی کا ارادہ کیا اور آپﷺ سے بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تو نے اسے دیکھا ہے، میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ جاکر اسے ایک دفعہ دیکھ لو کیونکہ ایسا کرنا تم دونوں کے مابین زیادہ استقرار کا باعث بنے گا۔ سیدنا مغیرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا ۔ اسی طرح بخاری، مسلم اور سنن نسائی کی اُس مشہور روایت کا تو سب کو معلوم ہے جہاں ایک عورت آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنے آپ کو آپﷺ کو ہبہ کرتی ہیں، آپﷺ ایک نگاہ اٹھا کر اسکی طرف دیکھتے ہیں اور پھر نظر جھکالیتے ہیں۔ اس پر ایک دوسرے صحابی اٹھ کر اس عورت سے نکاح کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ الغرض کتب حدیث کے مطالعے سے یہ بات مترشح ہوجاتی ہے کہ منگنی سے قبل متوقع زوجین کو ایک دوسرے کو دیکھ لینا بہتر ہے.
تاہم یہ دیکھنے کی حدود کیا ہونگی تو اس متعلق فقہاء کے مختلف اقوال ہیں۔ امام ابو حنیفہؓ کے نزدیک دونوں پاؤں، ہتھیلیاں اور چہرہ دیکھنے کی اجازت ہے اور یہی بات ابن عابدین شامی نے حاشیہ ابن عابدین میں لکھی ہے اور اس سے زیادہ تجاوز کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے۔ جبکہ امام مالک کے نزدیک صرف چہرہ اور ہتھیلیاں ہی دیکھی جاسکتی ہیں اور امام احمد کے نزدیک عام طور پر جو ظاہر ہو وہ دیکھا جا سکتا ہے جیسے چہرہ، ہتھیلیاں،گردن، پنڈلیاں وغیرہ۔ امام شافعی کا ماننا ہے کہ جب مرد کسی عورت سے شادی کرنا چاہے تو اس کے لیے عورت کو بغیر اوڑھنی کے دیکھنا جائز نہيں ، ہاں اس کا سر ڈھانپے ہونے کی صورت میں صرف چہرہ اورہاتھ اس کی اجازت اوراجازت کے بغیر بھی دیکھ سکتا ہے ( یعنی چھپ کر ) ۔
امام نوویؒ نے روضۃ الطالبین جلد ۷ میں اس متعلق تفصیل سے کلام کیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ جب لڑکی سے نکاح میں رغبت ہو تو اسے دیکھنا مستحب ہے تا کہ بعد میں ندامت نہ اٹھانی پڑے ۔اورایک قول یہ بھی ہےکہ دیکھنا مستحب نہیں بلکہ مباح ہے ، اور احادیث کی روشنی میں پہلی بات ہی صحیح ہے ۔ دیکھنے میں تکرارعورت کی اجازت اوربغیر اجازت دونوں طریقوں سے جائز ہے ، اگر دیکھنا ممکن نہ ہوسکے تو کسی عورت کو اسے دیکھنے بھیجے جو اسے اچھی طرح دیکھ کر اس کی صفات مرد کے سامنے رکھے ۔اورعورت بھی جب شادی کرنا چاہے تو وہ بھی مرد کودیکھ سکتی ہے اس لیے کہ جس طرح مرد کی پسند ہے اسی طرح عورت کی بھی پسند ہے۔ عورت کا چہرہ اورہتھیلیاں دونوں طرف سے دیکھ سکتے ہیں اس کے علاوہ کوئي اورچیز نہیں دیکھی جاسکتی ۔ (صفحہ ۲۰)
البتہ یہ بات یاد رہے کہ تمام فقہاء اس بات پر متفق رہے ہیں کہ یہ دیکھنا جلوت میں ہوگا۔ شادی سے قبل متوقع زوجین کو ایک دوسرے کے ساتھ خلوت میں وقت گزارنے کی سختی سے ممانعت ہے۔اسی طرح وہ ایک دوسرے کو چھو بھی نہیں سکتے۔ چہ جائیکہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ساتھ گھومیں جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں مغربی تہذیب کی نقالی اور حیا باختہ میڈیا کے زیرِ اثر مروج ہوچلا ہے اور کئی گھرانے اب اس میں کوئی قباحت بھی محسوس نہیں کرتے۔ اگر اس سلسلے میں ان سے کچھ عرض کیا جائے تو کہتے ہیں کہ کیا کریں، آج کے لڑکے لڑکیاں سنتے ہی کہاں ہیں۔ جبکہ اس سلسلے میں سب بہترین عمل موجود زمانے کے تقاضوں کے لحاظ سے یہ ہے کہ منگنی ہوتے ہی لڑکا لڑکی کو عقدِ نکاح میں باندھ دیا جائے تاکہ اس کے بعد فریقین کا فون پر باتیں کرنا، ساتھ گھومنا پھرنا اور ایسے جتنے کام ہوں وہ شرعی حدود کے اندر آجائیں۔ رخصتی اس وقت کروالی جائے جس وقت آسانی اور ارادہ ہو۔ پاکستانی معاشرے میں موجودہ دور میں لڑکا لڑکی کو منگنی کرکے ان کے حال پر چھوڑ دینا سخت مضر اور غیر شرعی اثرات کا حامل ہوسکتا ہے اور ہو بھی رہا ہے۔ آج کل کے منگیتر جوڑے والدین کی ڈھیلی گرفت اور میڈیا کی حیا باختہ ثقافت کے پرچار کے تحت منگنی کے دوران وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جن کے بعد منگنی ختم ہونے کی صورت میں اس لڑکی سے کسی دوسرے لڑکے کا رشتہ کرنا کافی مشکل ہوجاتا ہے کیونکہ دوسرا لڑکا بھی اسی معاشرے کا پروردہ ہوتا ہے اور اسکو اندازہ ہوتا ہے کہ عام گھرانوں میں منگنی کے بعد منگیتروں میں کس قسم کے روابط رواں ہوجاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ فقہاء نے نہایت سختی سے منگیتروں کا شادی سے قبل خلوت میں ملنے یا ایک دوسرے کو چھونے کی ممانعت کی ہے۔ علامہ ابن قدامہ حنبلی فرماتے ہیں کہ منگیتر سے خلوت کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ حرام ہے ، اورشریعت میں دیکھنے کے علاوہ کچھ وارد نہيں اس لیے خلوت بدستور حرام رہے گی ، اوراس لیے بھی کہ خلوت کی بنا پر حرام کام کے وقوع کا اندیشہ موجود رہتا ہے۔ امام زیلعی حنفی سے منقول ہے کہ مرد کے لیے اپنی منگیتر کے چہرہ اورہتھیلیوں کو چھونا جائز نہیں ۔ اگرچہ شہوت کا خدشہ نہ بھی ہو ۔ ایک تو اس کی حرمت ہے اورپھر اس کی ضرورت بھی نہیں ۔
![]()

