Daily Roshni News

رموزِ بے خودی ۔۔۔۔علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ۔۔ شرح : پروفیسر یوسف سلیم چشتی۔۔۔ پیشکش : قیصر ندیم

رموزِ بے خودی

علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ

در معنی حریتِ اسلامیہ و سرِ حادثہِ کربلا
(بیان حریتِ اسلامیہ اور سرِ حادثہِ کربلا)

آں امامِ عاشقان پورِ بتول
سروِ آزادے ز بستانِ رسول

ترجمہ: وہ عاشقوں کے امام اور پیشوا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فرزندِ ارجمند جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باغ میں سروِ آزاد کی حیثیت حاصل تھی۔

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنیِ ذبحِ عظیم آمد پسر

ترجمہ: اُن کے والد ماجد حضرت علی رضی اللہ عنہ بسم اللہ کی ب تھے اور فرزند یعنی امام حسین رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت، وفدینہ بذبح عظیم کا مطلب و مفہوم بن گئے۔

بہر آں شہزادہِ خیر الملل
دوشِ ختم المرسلین نعم الجمل

ترجمہ : سب سے بہتر امت یعنی ملتِ اسلامیہ کے اس شہزادے کی شان یہ تھی کہ رسول خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوش مبارک اُن کے لیے اچھی سواری قرار پایا۔

سرخ رو عشقِ غیور از خونِ او
شوخیِ ایں مصرع از مضمونِ او

ترجمہ: عشقِ غیور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ہی کے خون سے سرخرو ہوا۔ انہی کے مضمون سے اس مصرع میں شوخی پیدا ہوئی۔ (عشق کو غیور اس لیے کہا کہ وہ باطل کے مقابلے میں دبنا یا پیچھے ہٹنا گوارا ہی نہیں کر سکتا)

درمیانِ امت آں کیواں جناب
ہمچو حرفِ قل هو اللہ در کتاب

ترجمہ: امت کے درمیان اُن کی حیثیت وہی تھی جو سورۃ اخلاص کو قرآن کے درمیان حاصل ہے یعنی جس طرح سورہ اخلاص کو قرآن مجید میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اسی طرح امام حسین رضی اللہ کو ملتِ اسلامیہ میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔

موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید

ترجمہ: موسیٰ اور فرعون، شبیر اور یزید یہ دو قوتیں ہیں جو زندگی سے ظاہر ہوئیں۔ ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حق کے علمدار ہیں جبکہ فرعون اور یزید نے باطل کی پاسداری کی۔ دونوں قوتیں ابتداء ہی سے چلی آ رہی ہیں ان کے درمیان کشمکش بھی ہوتی رہی ہے۔

زندہ حق از قوتِ شبیری است
باطل آخر داغِ حسرت میری است

ترجمہ: تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حق قوتِ شبیری سے زندہ ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ اس کی خدمت انجام دیتے ہیں۔ باطل آخر حسرت کی موت کا داغ بن جاتا ہے۔ (حق کا بول بالا قوتِ خیر سے ہوتا ہے جبکہ باطل قوتوں کا انجام ذلت و خواری ہے)۔

تشریح

اس شاندار تمہید کے بعد اقبال نے اولاً سات اشعار میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی منقبت لکھی ہے، بعد ازاں واقعہ کربلا کا فلسفہ بیان کیا ہے۔

کہتے ہیں کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے عالی مرتبہ کا کیا پوچھنا! سیدة النساء حضرت بتول رضی اللہ عنہا اُن کی ماں ہیں۔ اور سید الانبیاء سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے نانا ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اُن کے پدرِ بزرگوار ہیں جو بسم اللہ کی ” ب ” ہیں یعنی قرآنی علوم کا دروازہ ہیں۔ اور وہ خود قرآن کی اس آیت کی تفسیر ہیں۔

وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (الصافات – آیت 107)
یعنی ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے عوض دے دیا۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کی رفعتِ شان کا اندازہ اس بات سے بھی ہو سکتا ہے کہ ایک دفعہ جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ دونوں صاحب زادے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوشِ مبارک پر بیٹھے ہوئے تھے تو ایک صحابی نے یہ کہا کہ ان صاحب زادوں کی خوش نصیبی کا کیا ٹھکانہ ہے کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوشِ مبارک پر سوار ہیں۔ اس پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:

نعم الجمل جملكما و نعم العدلان انتما.
یعنی تمہارا دونوں کا اونٹ بہترین اونٹ ہے اور تم دونوں بہترین سوار ہو۔

عدلان اُن دو سواریوں کو کہتے ہیں جو کجاوہ میں آمنے سامنے بیٹھتی ہیں تاکہ وزن برابر رہے۔

جس طرح سورہ اخلاص سارے قرآن میں ممتاز ہیں، اسی طرح امام حسین رضی اللہ عنہ ساری امت میں بلند پایہ مقام رکھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور فرعون یا شبیر رضی اللہ عنہ اور یزید یہ دو آدمیوں ہی کے نام نہیں ہیں، بلکہ حیات کے دو مختلف اور متضاد مظہر ہیں جو قیامت تک اسی طرح بر سرِ پیکار رہیں گے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز​
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی​

مطلب یہ کہ دنیا میں شروع ہی سے حق و باطل میں آویزش چلی آ رہی ہے۔ اور اگر دنیا میں قوتِ شبیری نہ ہوتی تو حق کب کا مٹ چکا ہوتا۔ سچ تو یہ ہے کہ

حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیریؓ
بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی !

نوٹ : اقبال نے قیامِ پاکستان سے قبل مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

قوم خانقاہوں سے تو باہر نکل آئی، لیکن افسوس کہ بعض اسباب ایسے پیدا ہو گئے کہ وہ رسمِ شبیری ادا کرنے کے لیے میدانِ کربلا کی طرف جانے کے بجائے ہوٹلوں کی طرف چلی گئی۔ اور وہاں جا کر خدا معلوم کیا دیکھا کہ اب باہر نکلنے کا نام ہی نہیں لیتی۔

شرح: پروفیسر یوسف سلیم چشتی

پیشکش : قیصر نديم

Loading