روایتی فہم کی موت، پیرل ٹریکس کا کائناتی اصول اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں دعوتِ توحید: ایک الہیاتی، سائنسی اور منہاجی وضاحتی مقالہ! – بلال شوکت آزاد
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد )انسانی شعور کی ارتقائی تاریخ اور فکریات کا سب سے بھیانک، کڑوا اور اعصاب شکن المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی معاشرہ صدیوں کی فکری جمود (Intellectual Stagnation)، اندھی تقلید اور سطحی سوچ کا شکار ہو جاتا ہے، تو وہ کسی بھی نئے، عمیق اور کائناتی زاویہِ نگاہ کو سمجھنے کی صلاحیت سے مکمل طور پر محروم ہو جاتا ہے۔
آج جب میں جدید دور کی الحادی اور مادہ پرست یلغار کے سامنے الہیات اور عصری علوم کا ایک نیا فکری محاذ کھڑا کر رہا ہوں، تو مجھے شدت سے اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ ہمارے معاشرے کا ”سافٹ ویئر“ اس قدر پرانا اور کرپٹ (Corrupt) ہو چکا ہے کہ وہ میری ”پیرل ٹریکس میتھڈولوجی“ (Parallel Tracks Methodology) اور تحقیق کے عمودی اور افقی (Vertical and Horizontal) طرزِ عمل کو سمجھنے کے بجائے، اس پر انتہائی سطحی اور بچگانہ فتوے صادر کر رہا ہے۔
اس فکری اندھے پن کا شکار صرف کوئی ایک طبقہ نہیں ہے، بلکہ انتہائی حیرت انگیز طور پر روایتی مذہبی مائنڈ سیٹ اور جدیدیت زدہ غیر مذہبی (سیکولر/ملحد) مائنڈ سیٹ، دونوں ہی اس میتھڈولوجی کے مقاصد کو سمجھنے میں ایک ہی جیسی ”کگنیٹو ڈس اونینس“ (Cognitive Dissonance – ذہنی الجھن) کا شکار ہیں۔
مذہبی طبقے کو یہ وہم لاحق ہو گیا ہے کہ میں معاذ اللہ قرآن کی حتمی اور ابدی آیات کو لیبارٹری میں بننے والی بدلتی ہوئی سائنس کی بیساکھیوں پر کھڑا کر کے مذہب کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، جبکہ سیکولر اور غیر مذہبی طبقہ اپنے اسی مخصوص تکبر کے ساتھ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ میں سائنس کے مسلمہ اصولوں کو زبردستی کھینچ تان کر مذہب اور قرآن کے ساتھ ملا رہا ہوں تاکہ کوئی من گھڑت کہانی (Apologetic Narrative) بنا کر اپنے عقیدے کو بچا سکوں۔
آج اس کائناتی غلط فہمی کا وہ حتمی اور دو ٹوک آپریشن کرنا ناگزیر ہو گیا ہے جو ان دونوں طبقات کے دماغی پردوں کو چاک کر کے انہیں تحقیق اور الہیات کی اصل ڈائمینشن میں لا کھڑا کرے۔
سب سے پہلے اس ”پیرل ٹریکس میتھڈولوجی“ (متوازی پٹریوں کے اصول) اور تحقیق کے اس عمودی و افقی (Vertical and Horizontal) ماڈل کی فزکس اور اس کے ایپسٹی مولوجیکل (Epistemological) فریم ورک کو سمجھیے۔
”پیرل ٹریکس“ کا سیدھا، سائنسی اور منطقی مطلب یہ ہے کہ ریل کی دو پٹریاں ہمیشہ ایک ساتھ، ایک ہی سمت میں، اور ایک ہی منزل کی طرف سفر کرتی ہیں، لیکن وہ کبھی ایک دوسرے کے اندر ضم (Intersect) نہیں ہوتیں، وہ کبھی ایک دوسرے کو کاٹتی نہیں ہیں، اور نہ ہی ایک پٹری دوسری پٹری کی محتاج ہوتی ہے۔
میں بارہا اپنے مضامین اور مقالات میں یہ کائناتی اصول واضح کر چکا ہوں کہ میں سائنس کو الہیات (Theology) کے ساتھ یا قرآن کو سائنس کے ساتھ ”مکس“ (Mix) نہیں کر رہا، اور نہ ہی میں ان دونوں کے درمیان کوئی زبردستی کی مماثلت (Forced Conformity) تلاش کر کے معذرت خواہانہ (Apologetic) رویہ اپنا رہا ہوں۔
میں قرآن کو سائنس سے ثابت نہیں کر رہا، کیونکہ جو کتاب اس کائنات کے احد و واحد خالق کا ڈائریکٹ اور ابدی کلام ہے، اسے انسان کی بنائی ہوئی اس ٹیسٹ ٹیوب سائنس کی کوئی حاجت نہیں جو ہر پچاس سال بعد اپنی ہی پچھلی تھیوری کو غلط ثابت کر دیتی ہے۔
کلامِ الہی مطلق (Absolute) ہے، اور سائنس ارتقائی (Evolutionary) ہے۔
میرا طریقہ کار یہ ہے کہ میں کائنات کے طبعی قوانین (سائنس) اور کائنات کے روحانی اور اخلاقی قوانین (قرآن اور الہیات) کو دو متوازی (Parallel) پٹریوں کی طرح لے کر چل رہا ہوں۔
میں دونوں طرف موجود اٹل قوانین کی تطبیق (Synthesis) اور تلخیص کر رہا ہوں تاکہ جدید انسان کو یہ بتایا جا سکے کہ جو رب اس فزیکل کائنات کا ماسٹر مائنڈ ہے، اسی رب نے یہ قرآن نازل کیا ہے۔
جب خالق ایک ہے، تو اس کی کائناتی ہارڈویئر (سائنس) اور اس کے نازل کردہ سافٹ ویئر (وحی) میں کوئی تضاد نہیں ہو سکتا۔
تحقیق کا عمودی (Vertical) طرزِ عمل یہ ہے کہ میں قرآن کی کسی ایک آیت یا سائنس کی کسی ایک تھیوری کی انتہائی گہرائی (Deep Dive) میں جا کر اس کا کھوج لگاتا ہوں، اور افقی (Horizontal) طرزِ عمل یہ ہے کہ میں اس ایک ڈسپلن (Discipline) سے حاصل ہونے والے علم کو دوسرے علوم (فزکس، بائیولوجی، عمرانیات، نفسیات) کے کینوس پر پھیلا کر کائنات کی پوری بڑی تصویر (Big Picture) مکمل کرتا ہوں۔
یہ ”اسٹوری ٹیلنگ“ (کہانی گھڑنا) نہیں ہے، بلکہ یہ اس بکھرے ہوئے کائناتی علم کو ایک وحدت (توحید) کی لڑی میں پرونا ہے۔
اس شدید اعصاب شکن، تنہا اور طویل مشق کو اختیار کرنے کے پیچھے میرا کوئی ذاتی شوق، شہرت کی طلب یا کوئی اکیڈمک تکبر شامل نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے وہ درد، وہ کائناتی چیخ اور وہ سنگین مقصد پوشیدہ ہے جس سے آج کا ہمارا روایتی مذہبی طبقہ اور منبر و محراب مکمل طور پر غافل ہو چکے ہیں۔
میرا الٹیمیٹ مطمحِ نظر اس دورِ جدید کی ان فکری خلیجوں (Gaps) کو فل کرنا ہے جو ٹیکنالوجی کے طوفان نے ہمارے عقائد اور ہماری نسلوں کے درمیان پیدا کر دیے ہیں۔
ہم تاریخ کے اس خطرناک ترین موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمارا واسطہ ”جین زی“ (Gen Z) اور ”جین الفا“ (Gen Alpha) جیسی ان نسلوں سے پڑ رہا ہے جن کے دماغوں کی وائرنگ (Neural Wiring) روایتی قصے کہانیوں، جذباتی بلیک میلنگ یا ڈنڈے کے زور پر نہیں، بلکہ الگورتھمز (Algorithms)، کوانٹم فزکس، کرپٹو گرافی، اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔
یہ وہ نسل ہے جس کے ہاتھ میں موجود ایک سمارٹ فون انہیں دنیا بھر کے ملحدین (Atheists)، فلسفیوں اور سائنسدانوں کے ان ہولناک سوالات تک براہِ راست رسائی دے رہا ہے جو ان کے عقیدے کو جڑوں سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔
جب یہ جین زی یا جین الفا کا نوجوان اپنے کسی وجودی اور فلسفیانہ سوال (Existential Crisis) کا جواب مانگنے کے لیے ہمارے کسی روایتی مولوی، سکالر یا والدین کے پاس جاتا ہے، تو اسے جواب میں یا تو کفر کا فتویٰ ملتا ہے، یا اسے کہا جاتا ہے کہ
”زیادہ مت سوچو، بس اندھا یقین کر لو ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے۔“
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ نوجوان مذہب سے مکمل طور پر بیزار ہو کر رچرڈ ڈاکنز (Richard Dawkins) اور یوول نوح ہراری (Yuval Noah Harari) جیسے ملحدین کے لٹریچر اور مصنوعی ذہانت کی پناہ میں چلا جاتا ہے۔
میری اس پوری میتھڈولوجی کا واحد اور حتمی مقصد ان جدید نسلوں کو، ان کے اپنے فکری لیول پر، ان کی اپنی سائنسی زبان میں، اور ان کی اپنی سائیکالوجی کے مطابق اللہ کی ذات اور اس کے نظام سے ”منطقی اور اصولی“ (Logically and Principally) طور پر جوڑنا ہے۔
میں انہیں یہ بتا رہا ہوں کہ خدا کا وجود کوئی اندھا عقیدہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایبسلوٹ سائنسی اور الہیاتی ضرورت ہے۔
ہمیں اس کڑوے سچ کو تسلیم کرنا ہوگا کہ روایتی دعوت و اصلاح، جو پچھلی کئی صدیوں سے ایک ہی فرسودہ، یک رخے اور جذباتی انداز میں چل رہی ہے، اب اس آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، میٹاورس (Metaverse) اور ڈیٹا سائنس کے دور میں مکمل طور پر اپنی افادیت اور کاٹ کھو چکی ہے۔
آپ آج کے نوجوان کو، جو چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) وغیرہ سے اپنے فلسفیانہ جوابات لے رہا ہے، اسے چودہویں صدی کی پرانی مثالوں سے قائل نہیں کر سکتے۔
تاریخ کا ہر دور اپنا ایک نیا فرعون اور اپنا ایک نیا دجالی نظام لے کر آتا ہے، اور اللہ کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ ہر دور کے فرعون کو مارنے کے لیے اسی دور کی زبان اور اسی دور کی ٹیکنالوجی کا اعجاز دے کر اپنے بندوں کو کھڑا کرتا ہے۔
جب سحر (جادو) کا عروج تھا، تو موسیٰ علیہ السلام کو عصا کا معجزہ ملا۔
جب طب (Medicine) کا عروج تھا، تو عیسیٰ علیہ السلام کو مردے زندہ کرنے کا معجزہ ملا۔
جب فصاحت و بلاغت کا عروج تھا تو کائنات کے سب سے بڑے نبی ﷺ کو قرآن کا لسانی معجزہ ملا۔
اسی طرح، پچھلی صدی میں جب عیسائی مشنریز (Missionaries) کا کفر پوری دنیا میں پھیل رہا تھا، تو اللہ نے احمد دیدات (رحمہ اللہ) جیسی جلیل القدر ہستی کو پیدا کیا جنہوں نے بائبل اور تقابلی ادیان (Comparative Religion) کے اسی ہتھیار سے ان کے گھر میں گھس کر ان کے بخیے ادھیڑے۔
جب سیٹلائٹ ٹی وی اور عالمی میڈیا کا دور آیا، تو ڈاکٹر ذاکر نائیک (حفظہ اللہ) نے اسی میڈیا اور منطق کو استعمال کر کے پوری دنیا میں توحید کا ڈنکا بجایا اور اپنا ایک طریق کار وضع کیا۔
آج، ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، یہ دور نہ تو عیسائی مشنریز کے غلبے کا ہے اور نہ ہی محض تقابلی ادیان کا۔ یہ دور ”ڈیجیٹل ایتھزم“ (Digital Atheism)، بائیولوجیکل ڈی کنسٹرکشن (Biological Deconstruction) اور الگورتھمک مائنڈ کنٹرول کا دور ہے۔
آج کے فرعون سائنسدان، ٹیک جائنٹس (Tech Giants) اور لبرل فلاسفرز ہیں۔ اس لیے، جس طرح کبھی احمد دیدات نے اپنے دور کی ضرورتوں کے مطابق ٹیکنالوجی اور طریقہ وضع کیا تھا، اور جس طرح ذاکر نائیک نے اپنے دور کا چیلنج قبول کیا تھا، بالکل ویسے ہی آج، میں اس انتہائی کٹھن اور اکیلے راستے پر، لانگ ٹرم (Long-term) میں ایک نیا الہیاتی اور سائنسی سسٹم، ایک نیا فکری طریق کار وضع کرنے کی ادنیٰ سی، مگر انتہائی دیوانہ وار کوشش کر رہا ہوں۔
میں دین کا کوئی نیا ورژن نہیں لا رہا، بلکہ میں دینِ خالص کو آج کی نیورولوجی، کوانٹم فزکس اور ڈیٹا سائنس کے لباس میں پیش کر رہا ہوں تاکہ آج کا ملحد اور آج کا الجھا ہوا مسلمان نوجوان جب میری تحریر پڑھے تو اسے محسوس ہو کہ قرآن کوئی پرانی تاریخ کی کتاب نہیں، بلکہ یہ کائنات کی سب سے جدید، سب سے ایڈوانسڈ اور سب سے الٹیمیٹ ہارڈ ڈرائیو ہے جس میں اس کے آج کے ہر سائنسی اور فلسفیانہ سوال کا جواب پہلے سے موجود ہے۔
یہ کوئی ذاتی انا کی جنگ یا کوئی اکیڈمک بحث نہیں ہے۔
اسلام میں دعوت و اصلاح صرف چند مخصوص جبہ و دستار والے لوگوں کی جاگیر نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائنات کے خالق کی طرف سے ہر بیدار ضمیر مومن پر عائد کی گئی ایک حتمی اور کائناتی ذمہ داری ہے۔
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں اپنی امت کو جس کام کی بنیاد پر ”خیر الامم“ (بہترین امت) کا خطاب دیا تھا، وہ محض نمازیں پڑھنا یا روزے رکھنا نہیں تھا، بلکہ وہ کائناتی ڈیوٹی یہ تھی:
”تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ“
(تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو)۔
آج کا سب سے بڑا ”منکر“ (برائی) شراب یا چوری نہیں ہے، بلکہ آج کا سب سے بڑا منکر وہ ”الحاد“ (Atheism) اور ”علمی تکبر“ ہے جو ہماری نسلوں کے دماغوں سے خدا کے تصور کو کھرچ رہا ہے۔
اور آج کا سب سے بڑا ”معروف“ (نیکی) روایتی واعظ نہیں ہے، بلکہ وہ سائنسی اور الہیاتی دلیل ہے جو اس جدید الحاد کی کمر توڑ کر نوجوانوں کی روحوں کو دوبارہ ان کے خالق سے جوڑ دے۔
الحمدللہ، میرا یہ قلم، میری یہ ”پیرل ٹریکس میتھڈولوجی“ اور میری یہ بے خواب راتیں اسی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وہ جدید ترین اور اپڈیٹڈ (Updated) شکل ہیں جو کائنات کے رب نے میرے ذمے لگائی ہے۔
جنہیں میری ان دو متوازی پٹریوں کا سفر محض کہانی یا بدعت لگتا ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی فکری بینائی کا علاج کروائیں، کیونکہ میں اس وقت تک نہیں رکوں گا جب تک میں اس جدید دجالی اور مادی نظام کی بنیادوں میں توحید کا وہ کوانٹم دھماکہ نہ کر دوں جس کی گونج آنے والی نسلوں کی روحوں تک سنائی دے۔
یہ کوئی دعویٰ نہیں، یہ کائنات کے رب سے کیا گیا ایک الہیاتی وعدہ ہے، اور کائنات کا رب اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے اپنے بندوں کے قلم کو خود رہنمائی عطا کرتا ہے۔
وہ رب میرا مددگار اور محافظ ہے, وہ میری مدد اور رہنمائی کرے گا۔ ان شاء اللہ۔
#سنجیدہ_بات
#آزادیات
#بلال #شوکت #آزاد
![]()

