” روحانی سفر ”
کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ… ہم جو کچھ کرتے ہیں ، وہ واقعی ہمارا اپنا فیصلہ ہوتا ہے… یا بس ہم ایک بہاؤ کے ساتھ بہہ جاتے ہیں؟
عظیم فلاسفر اوشو نے ایک بات بہت خوبصورت کہی تھی ۔۔
“جسم ایک سیڑھی ہے… جو روح کو اوپر بھی لے جا سکتی ہے اور نیچے بھی گرا سکتی ہے جسم کا خیال رکھو…مگر اسے اپنا مالک مت بناؤ… یہ روح کا نوکر ہے۔”
اور پھر کہا…
“عقل بھیڑ جیسی ہے…”
آیئے… اس ” بھیڑ ” کے استعارے کو ذرا گہرائی سے سمجھتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ انسان کے ذہن میں روزانہ ہزاروں خیالات آتے ہیں… کچھ اندازوں کے مطابق یہ تعداد 24 گھنٹوں میں پچاس سے ستر ہزار تک بھی ہو سکتی ہے… یہ بھیڑ جیسے خیالات … آتے ہیں… جاتے ہیں…اور ہمیں مسلسل اکساتے رہتے ہیں کہ ہم کچھ کریں…ردِعمل دیں…فیصلہ کریں۔
لیکن… ہر خیال پر عمل کرنا آزادی نہیں ، غلامی ہے۔
جب جسم کوئی خواہش کرتا ہے… عقل اس کے حق میں دلیل دیتی ہے اور انسان فوراً جھک جاتا ہے…مگر روح خاموشی سے کہتی ہے “رک جاؤ ، پہلے سمجھو…اور پھر فیصلہ کرو”
مثلاً…نفرت کرنا…بدلہ لینا…یہ عقل کے فیصلے ہیں…جسم جب تک بدلہ نہ لے لے اس وقت تک بے چین رہتا ہے لیکن روح کہتی رہتی ہے”اسے موقع دو…اس کی
بات سنو…اور اگر ممکن ہو تو اسے معاف کر دو” ۔۔لیکن عقل کو کچھ سنائی ہی نہیں دیتا۔
عزیز دوستو !
اصل طاقت یہ نہیں کہ ہم فوراً جواب دے دیں… اصل طاقت یہ ہے کہ ہم خود کو روک سکیں… کہ ہم انتخاب کریں…کون سا خیال رکھنا ہے ، اور کون سا چھوڑ دینا ہے۔ کس پر عمل کرنا ہے اور کس کو جانے دینا ہے۔
جسم اور عقل پر حکمرانی ہی اصل کامیابی ہے ، اور یہی حکمرانی روحانی سفر کی روداد ہے۔
آپ سب کے لئے بہت محبتیں اور دعایئں
ڈاکٹر نگہت نسیم
![]()

