Daily Roshni News

ری کا خونی خیمہ اور کمان کی ریشمی ڈوری (1059 عیسوی / 451 ہجری)

ری کا خونی خیمہ اور کمان کی ریشمی ڈوری (1059 عیسوی / 451 ہجری)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)1059 عیسوی کی ایک شدید گرم دوپہر۔ ری (Rey) کے شاہی عسکری کیمپ میں سلجوقی سلطنت کے سلطان، طغرل بیگ کے خیمے کے سامنے ایک خستہ حال، گرد آلود اور بھاری لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا سالار لایا گیا۔

یہ ‘ابراہیم ینال’ (Ibrahim Inal) تھا—طغرل بیگ کا مادری بھائی، اناطولیہ کے دفاعی حصار توڑنے والا اعظم ترین ترکمان سپہ سالار، اور بازنطینی سلطنت کی فصیلوں کو لرزانے والا جنگجو۔

آج وہ اپنے بھائی کے سامنے ایک شکست خوردہ باغی کی حیثیت سے کھڑا تھا۔ طغرل بیگ کی آنکھوں میں اس بار کوئی رحم نہیں تھا، کیونکہ ینال نے عین اس وقت بغاوت کی تھی جب سلطنت بغداد میں فاطمی حملے اور خانہ جنگی کے ہولناک بحران کا شکار تھی۔

قدیم ترک قبائلی روایت کے مطابق شاہی خاندان کا خون زمین پر بہانا ممنوع تھا؛ چند لمحوں بعد جلادوں نے کمان کی ریشمی ڈوری (Bowstring) ابراہیم ینال کی گردن میں ڈالی اور اس کا سانس گھونٹ دیا۔

یہ سلجوقی تاریخ کے سب سے خطرناک، سرکش اور ناقابلِ شکست سالار کی وہ 100 فیصد مستند داستان ہے، جس کی تلوار نے سلجوقی سلطنت کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت بنایا، لیکن تخت کی اندھی لالچ نے اسے اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں عبرتناک انجام تک پہنچا دیا۔

  1. پس منظر: مادری بھائی کا خون اور خانہ بدوش زندگی کے کھردرے خدوخال

ابراہیم ینال کا تعلق سلجوقی خاندان کی بنیاد رکھنے والے قبیلے ‘قنِق’ (Qiniq) سے تھا۔ وہ سلجوقی سلطنت کے بانیوں، طغرل بیگ اور چغری بیگ کا سگا نہیں بلکہ مادری بھائی (Maternal half-brother) تھا؛ ان کی والدہ نے میکائیل بن سلجوق کی موت کے بعد یوسف ینال سے نکاح کیا تھا، جس کے بطن سے ابراہیم ینال پیدا ہوا۔

ینال کی پرورش اصفہان یا مرو کے محلات میں نہیں، بلکہ وسطی ایشیا اور خراسان کے کھردرے صحراؤں اور سیاہ ترکمان خیموں میں ہوئی تھی۔ اس کا جسم گھوڑے کی پیٹھ پر مسلسل سفر کرنے، مائنس درجہ حرارت کی برف اور کڑک دھوپ کے باعث فولاد کی طرح سخت ہو چکا تھا۔

اس کی چمڑی کھردری، کندھے چوڑے اور آنکھیں کسی شکاری عقاب کی طرح تیز تھیں۔ جب طغرل اور چغری سلطنت کا انتظامی ڈھانچہ اور سفارت کاری سنبھال رہے تھے، تو ابراہیم ینال ان لاکھوں بے قرار، سرکش اور جنگجو خانہ بدوش ترکمانوں (غز ترکوں) کا متفقہ قائد بن کر ابھرا، جن کا واحد مقصد جنگ، مالِ غنیمت اور نئی چراگاہوں پر قبضہ کرنا تھا۔

عروج: جنگِ کپیترون اور بازنطینیوں کا صفایا (1048 عیسوی)

1040 عیسوی میں غزنوی سلطنت کے خلاف ‘دندانقان کی جنگ’ میں فیصلہ کن عسکری کردار ادا کرنے کے بعد، ینال نے مغربی سرحدوں کی کمان سنبھالی۔ اس نے ہمدان، کرمانشاہ اور جبال کے سنگلاخ علاقوں کو روندتے ہوئے اپنی تلوار بازنطینی سلطنت کے دروازوں پر رکھ دی۔

اس کی عسکری زندگی کا سب سے بڑا عروج 1048 عیسوی میں ‘جنگِ کپیترون’ (Battle of Kapetron) میں ہوا۔ ابراہیم ینال اور قتلمش نے 20 ہزار ترکمان گھڑ سواروں کے ساتھ مشرقی اناطولیہ (ارض روم کے قریب) میں 50 ہزار سے زائد بازنطینی اور جارجیائی (کرج) زرہ پوش فوج کا سامنا کیا۔

ینال نے اپنی شاطرانہ عسکری حکمتِ عملی اور تیز رفتار گھڑ سواروں کے ذریعے بازنطینی لشکر کے پرخچے اڑا دیے۔ اس جنگ میں بازنطینیوں کا سب سے بڑا اور ناقابلِ شکست سمجھا جانے والا جارجیائی سالار، شہزادہ ‘لیپارت چہارم’ (Liparit IV)، ینال کے ہاتھوں زندہ گرفتار ہوا۔

ینال جب اس تاریخی فتح کے بعد ری (Rey) واپس لوٹا، تو اس کے ساتھ ہزاروں اونٹوں پر لدا ہوا بازنطینی سونا، زرہیں اور ہزاروں قیدی تھے۔ اس ایک جنگ نے ابراہیم ینال کو پوری سلجوقی سلطنت میں طغرل بیگ سے بھی زیادہ مقبول عسکری ہیرو بنا دیا۔

اندرونی سازشیں: تخت کی لالچ اور بساسیر کا خفیہ معاہدہ (1050 تا 1058 عیسوی)

جنگِ کپیترون کی بے پناہ شہرت اور دولت نے ینال کے دماغ میں تختِ سلطنت کی لالچ کا بیج بو دیا۔ وہ طغرل بیگ کی طرف سے فارسی وزیروں کو اہمیت دینے اور ترکمان جنگجوؤں کو کنٹرول کرنے کی پالیسی سے شدید متنافر تھا۔

اس نے پہلی بغاوت 1050 عیسوی میں ہمدان میں کی، جہاں اس نے خود مختاری کا اعلان کیا۔ طغرل بیگ نے اپنی فوج کے ساتھ اسے گھیر کر شکست دی، لیکن خاندانی خون اور اس کی عسکری ضرورت کے پیشِ نظر اسے معاف کر دیا اور موصل و مغربی سرحدوں کی گورنری سونپ دی۔

تاہم، 1058 عیسوی (450 ہجری) میں ینال نے سلطنت کے سب سے نازک موڑ پر اپنی زندگی کی خطرناک ترین اور خونی سازش رچی۔ بغداد میں شیعہ فاطمی سلطنت کے حمایت یافتہ باغی سالار ‘ارسلان البساسیری’ نے عباسی خلیفہ کو تخت سے اتار کر قید کر دیا تھا۔ طغرل بیگ عباسی خلافت کو بچانے کے لیے اپنی مرکزی فوج لے کر عراق اور موصل کے محاذ پر الجھا ہوا تھا۔

اسی دوران، ینال نے البساسیری اور مصر کے فاطمی خلیفہ (المستنصر باللہ) کے ساتھ خفیہ معاہدہ کر لیا۔ فاطمیوں نے ینال کو سلجوقی تخت اور بے پناہ سونے کا لالچ دیا۔ ینال نے عین میدانِ جنگ میں طغرل کا ساتھ چھوڑا، مغربی محاذ کو خالی چھوڑا اور اپنے ہزاروں ترکمان جنگجوؤں کے ساتھ سلجوقی دارالحکومت ری (Rey) پر قابض ہونے کے لیے مارچ کر دیا تاکہ پیچھے سے طغرل بیگ کا تخت الٹا جا سکے۔

زوال اور موت: ری کا محاصرہ اور ریشمی ڈوری (جولائی 1059 عیسوی)

ابراہیم ینال کی اس غداری نے طغرل بیگ کو دو محاذوں پر ہولناک عسکری شکنجے میں جکڑ لیا؛ آگے بغداد میں بساسیر کی فوج تھی اور پیچھے ایران میں ینال کی بغاوت۔

طغرل بیگ نے انتہائی عسکری بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغداد کا محاذ عارضی طور پر چھوڑا اور ایک مختصر دستے کے ساتھ تیزی سے ری کی طرف پلٹا، جبکہ ساتھ ہی اس نے خراسان میں اپنے بھتیجوں—چغری بیگ کے بیٹوں ‘الپ ارسلان’ اور ‘یاقوتی’—کو فوری کمک لے کر پہنچنے کا ہنگامی حکم بھیجا۔

جولائی 1059 عیسوی (جمادی الآخر 451 ہجری) میں ری کے قریب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے۔ الپ ارسلان اور یاقوتی کے تازہ دم خراسانی دستوں نے ینال کے ترکمان لشکر پر دائیں اور بائیں بازو سے ہولناک یلغار کی۔ گھمسان کی لڑائی کے بعد ینال کی فوج کے قدم اکھڑ گئے، اس کے دستے تتر بتر ہو گئے اور ابراہیم ینال میدانِ جنگ میں زندہ گرفتار کر لیا گیا۔

جب ینال کو طغرل بیگ کے خیمے میں لایا گیا، تو طغرل جانتا تھا کہ اس باغی کو دوبارہ معاف کرنے کا مطلب پوری سلطنت کو خانہ جنگی میں جھونکنا ہے۔ سلطان کے حتمی حکم پر، شاہی خون بہائے بغیر، خیمے کے اندر ہی کمان کی ریشمی ڈوری سے ابراہیم ینال کا گلا گھونٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

 انجام: ترکمانوں کا کنٹرول اور بغداد کی فتح (Aftermath)

ابراہیم ینال کی موت محض ایک باغی سالار کا خاتمہ نہیں تھا، بلکہ یہ سلجوقی سلطنت میں سرکش اور خود سر ترکمان قبائل کی متوازی عسکری طاقت کا حتمی جنازہ تھا۔

ینال کے مرتے ہی سلطنت کے اندرونی تمام خطرات دم توڑ گئے اور طغرل بیگ کی مطلق العنان مرکزی طاقت قائم ہو گئی۔ جو ترکمان جنگجو ینال کے ساتھ تھے، الپ ارسلان نے ان کی عسکری صلاحیتوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں اپنی فوج میں ضم کر لیا اور ان کا رخ دوبارہ بازنطینی سرحدوں کی طرف موڑ دیا۔

پیچھے سے مکمل طور پر محفوظ ہونے کے بعد، طغرل بیگ نے اسی سال کے اواخر (دسمبر 1059) میں ایک دیوہیکل لشکر لے کر بغداد پر طوفانی حملہ کیا۔ اس نے البساسیری کی بغاوت کو کچلا، اسے میدانِ جنگ میں قتل کیا، اور عباسی خلیفہ القائم بامرہ کو باعزت طریقے سے دوبارہ بغداد کے تخت پر بٹھا کر پوری اسلامی دنیا پر سلجوقی سلطنت کی غیر متنازع بالادستی پر مہر ثبت کر دی۔

ینال کی بپا کی گئی خونی بغاوت کا خاتمہ ہی وہ بنیاد بنا جس پر بعد میں الپ ارسلان نے سلطنت کو مستحکم کر کے 1071 میں ‘ملازکرد’ کا تاریخ ساز میدان مارا۔

تاریخی حوالہ جات:

الکامل فی التاریخ (ابن الاثیر)

اخبار الدولۃ السلجوقیۃ (صدر الدین الحسینی)

راحت الصدور و آیۃ السرور (محمد بن علی راوندی)

زبدۃ الحلب من تاریخ حلب (کمال الدین ابن العدیم)

تاریخِ ابنِ خلدون (علامہ ابن خلدون)

جامع التواریخ (رشید الدین فضل اللہ ہمدانی).

اگر آپ سلطنت سلجوقیہ کےسب سے خطرناک شخص حسن بن صباح  کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Hassan ibn Sabbah Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/791456834004024

Loading