زرتشت کی صدا-3
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اچھائی اور برائی سے پرےزرتشت نے اپنے ساتھیوں سے کہا اب میں تمہیں سب سے خطرناک بات بتاتا ہوں۔وہ بات جو لوگوں کو سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے، جو سب سے زیادہ غلط سمجھی جاتی ہے۔اچھائی اور برائی جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔
رکو، غصہ مت ہو۔ پہلے سنو تو سہی۔
زرتشت یہ نہیں کہہ رہا کہ سب کچھ جائز ہے، کہ کوئی اخلاق نہیں ہے۔
وہ کہہ رہا ہے کہ جو چیزیں ہم اچھائی اور برائی کہتے ہیں، وہ کسی آسمان سے نہیں اتریں۔ یہ انسانوں نے بنائی ہیں۔اور مختلف لوگوں نے مختلف چیزوں کو اچھا اور برا کہا ہے۔
ایک قوم میں جو چیز اچھی ہے، دوسری قوم میں وہی چیز بری ہو سکتی ہے۔
تو پھر حقیقی اچھائی اور برائی کیا ہے؟
زرتشت کہتا ہے کہ ہر قوم نے اپنی قدریں خود بنائی ہیں۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہمارے لیے یہ اچھا ہے، یہ برا ہے۔
اور یہ فیصلے انہوں نے اپنی بقا کے لیے، اپنی طاقت کے لیے، اپنی ترقی کے لیے کیے۔
لیکن پھر وقت گزرا اور لوگ بھول گئے کہ یہ قدریں انسانوں نے بنائی تھیں۔ وہ سمجھنے لگے کہ یہ ہمیشہ سے ایسے ہی ہیں، یہ آسمانی ہیں، یہ بدل نہیں سکتیں۔
اور یہیں مسئلہ شروع ہوا۔
پرانے اخلاق کو توڑنا
زرتشت کہتا ہے دیکھو، جو اخلاق تمہیں سکھایا گیا ہے، وہ کمزوروں کا اخلاق ہے۔یہ ایک بہت بڑا الزام ہے۔ اسے سمجھنا ضروری ہے۔
نطشے کہتا ہے کہ جو اخلاق ہمیں سکھایا جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ عاجزی اچھی ہے، فروتنی اچھی ہے، اپنے آپ کو چھوٹا سمجھنا اچھا ہے، اپنی خواہشات کو مارنا اچھا ہے، تکلیف برداشت کرنا اچھا ہے۔
کیوں؟
کیونکہ یہ اخلاق ان لوگوں نے بنایا جو کمزور تھے، جو طاقتور نہیں تھے۔
ان کمزور لوگوں نے طاقتور لوگوں سے کہا تمہاری طاقت برائی ہے، تمہاری خواہش برائی ہے، تمہارا مضبوط ہونا برائی ہے۔اور انہوں نے کہا ہماری کمزوری اچھائی ہے، ہماری عاجزی اچھائی ہے، ہمارا چھوٹا ہونا اچھائی ہے۔
یہ ایک زہریلا کھیل تھا۔
کمزور لوگ طاقتور نہیں بن سکتے تھے تو انہوں نے طاقت کو ہی برائی قرار دے دیا۔اب یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نطشے یہ نہیں کہہ رہا کہ دوسروں کو نقصان پہنچانا اچھا ہے یا ظلم کرنا اچھا ہے۔وہ کہہ رہا ہے کہ اپنی طاقت کو چھپانا، اپنی صلاحیت کو دبانا، اپنی خواہشات کو مارنا غلط ہے۔
تم جو ہو، بنو۔ تم جتنے مضبوط بن سکتے ہو، بنو۔ اپنی زندگی کو پوری شدت سے جیو۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کو کچل دو۔
زرتشت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو مت کچلو۔
اپنی قدریں خود بنانا
زرتشت نے کہا اب سنو، سب سے بڑا کام کیا ہے؟
اپنی قدریں خود بنانا۔
یہ سب سے مشکل کام ہے۔ یہ سب سے خطرناک کام ہے۔
کیوں؟
کیونکہ جب تم پرانی قدروں کو توڑتے ہو تو تمہارے پاس کچھ نہیں بچتا۔ تم خالی ہو جاتے ہو۔اور خالی ہونا بہت خوفناک ہے۔لوگ اس سے ڈرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی انہیں بتائے کیا ٹھیک ہے، کیا غلط ہے۔
لیکن اگر تم واقعی آزاد ہونا چاہتے ہو تو تمہیں یہ خالی جگہ سے گزرنا ہوگا۔
تمہیں پرانی قدروں کو توڑنا ہوگا۔
اور پھر تمہیں خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ میرے لیے کیا اہم ہے، میرے لیے کیا قیمتی ہے، میں کیسی زندگی جینا چاہتا ہوں۔
زرتشت نے ایک مثال دی۔
ایک آدمی ہے جو ہر وقت دوسروں کی مدد کرتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ بہت اچھا آدمی ہے۔
لیکن زرتشت پوچھتا ہے کیوں؟ وہ کیوں مدد کرتا ہے؟
کیا اس لیے کہ اسے بتایا گیا ہے کہ مدد کرنا اچھا ہے؟
کیا اس لیے کہ وہ لوگوں کی تعریف سننا چاہتا ہے؟
کیا اس لیے کہ وہ جنت میں جانا چاہتا ہے؟
اگر یہ وجوہات ہیں تو یہ سچی اچھائی نہیں ہے۔ یہ تو ڈر ہے، لالچ ہے، کمزوری ہے۔
لیکن اگر وہ آدمی اس لیے مدد کرتا ہے کہ اس کی روح میں یہ طاقت ہے، یہ فیاضی ہے، یہ محبت ہے، اور وہ اسے بہانا چاہتا ہے، تو یہ سچی اچھائی ہے۔
فرق دیکھا؟
ایک آدمی قاعدے کی پیروی کر رہا ہے۔ دوسرا آدمی اپنی طاقت سے جی رہا ہے۔
زرتشت کہتا ہے میں دوسرے آدمی کی قدر کرتا ہوں۔
اب زرتشت نے سب سے اہم بات بتائی۔
زندگی کو ہاں کہو۔
اس دنیا کو ہاں کہو۔
اپنے آپ کو ہاں کہو۔
یہ کیا مطلب ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی جیسی ہے، اسے قبول کرو۔ اس سے محبت کرو۔
زندگی میں تکلیف ہے، مصیبت ہے، درد ہے۔ لیکن اس سے بھاگو مت۔
پرانے اخلاق کہتے تھے کہ یہ دنیا برائی ہے، تکلیف ہے، اصل زندگی تو دوسری دنیا میں ہے۔
زرتشت کہتا ہے نہیں، یہی دنیا ہے، یہی زندگی ہے۔ اور یہ خوبصورت ہے۔
ہاں، اس میں تکلیف ہے۔ لیکن تکلیف بھی زندگی کا حصہ ہے۔
ہاں، اس میں مصیبت ہے۔ لیکن مصیبت سے ہم مضبوط ہوتے ہیں۔
ہاں، اس میں موت ہے۔ لیکن موت زندگی کو معنی دیتی ہے۔
اگر ہم ہمیشہ زندہ رہنے والے ہوتے تو زندگی کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔
نطشے کہہ رہا ہے کہ زندگی سے بھاگنے کی بجائے، اسے گلے لگاؤ۔
تکلیف سے ڈرنے کی بجائے، اسے قبول کرو اور اس سے سیکھو۔
موت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے، اسے سمجھو کہ یہ زندگی کا حصہ ہے۔
اور پھر اپنی زندگی کو پوری شدت سے جیو۔
ہر لمحے کو جیو۔ ہر تجربے کو محسوس کرو۔ ہر جذبے کو اپنے اندر بہنے دو۔
یہی زندگی کو ہاں کہنا ہے۔
زرتشت نے اپنے ساتھیوں سے کہا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاتا ہوں جو دوسری دنیا کی باتیں کرتے ہیں۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیا جھوٹی ہے، فانی ہے، بےمعنی ہے۔ اصل دنیا تو وہ ہے جو موت کے بعد آئے گی۔
زرتشت نے کہا یہ زہر ہے۔
یہ لوگ اس لیے یہ باتیں کرتے ہیں کیونکہ وہ زندگی سے خوفزدہ ہیں۔
وہ تکلیف سے ڈرتے ہیں۔
وہ مصیبت سے ڈرتے ہیں۔
وہ زندگی کی مشکلات کا سامنا نہیں کر سکتے۔
تو انہوں نے ایک کہانی بنا لی کہ یہ سب تو بس عارضی ہے، اصل زندگی تو بعد میں ملے گی۔
لیکن زرتشت کہتا ہے یہ جھوٹ ہے۔
اور یہ خطرناک جھوٹ ہے۔
کیوں؟
کیونکہ جب تم دوسری دنیا کا انتظار کرتے ہو تو تم اس دنیا کو نہیں جیتے۔
تم کہتے ہو چلو یہ تکلیف سہہ لیتے ہیں، بعد میں آرام ملے گا۔
تم کہتے ہو چلو یہ زندگی تو گزار دیتے ہیں، اصل زندگی تو بعد میں ملے گی۔
لیکن بعد میں کچھ نہیں ملے گا۔
یہی زندگی ہے۔ یہی دنیا ہے۔
اگر تم نے اس دنیا کو نہیں جیا تو تم نے کچھ نہیں جیا۔
زرتشت نے کہا زمین کے وفادار رہو۔
اس دنیا سے محبت کرو۔
اس زندگی سے محبت کرو۔
جو تمہارے آسمانوں کی باتیں کرتے ہیں، ان پر یقین مت کرو۔
یہ زمین ہے، یہی سچ ہے، یہی خوبصورت ہے۔
اپنے جسم سے محبت
زرتشت نے ایک اور اہم بات کہی۔
پرانے اخلاق کہتے ہیں کہ جسم برا ہے، جسم گناہ ہے، جسم کو قابو میں رکھو، جسم کی خواہشات کو مارو۔
زرتشت کہتا ہے یہ بھی جھوٹ ہے۔
جسم برا نہیں ہے۔ جسم خوبصورت ہے۔
تمہارے جسم میں تمہاری عقل ہے، تمہاری روح ہے، تمہاری طاقت ہے۔
جسم کو حقیر مت سمجھو۔
جسم کی سنو۔
جب تمہارا جسم بھوکا ہے تو کھاؤ۔
جب تمہارا جسم تھکا ہے تو آرام کرو۔
جب تمہارے جسم میں خواہش ہے تو اسے دبانے کی کوشش مت کرو، اسے سمجھو۔
یہ نہیں کہ ہر خواہش پوری کرو۔ لیکن یہ بھی نہیں کہ ہر خواہش کو گناہ سمجھو۔
تمہارا جسم تمہارا دوست ہے، دشمن نہیں۔
جو لوگ جسم سے نفرت کرتے ہیں، وہ دراصل زندگی سے نفرت کرتے ہیں۔
جو لوگ اپنے جسم کو سزا دیتے ہیں، وہ دراصل خود کو سزا دیتے ہیں۔
زرتشت کہتا ہے میں ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہوں جو اپنے جسم سے محبت کرتے ہیں، جو صحت مند ہیں، جو مضبوط ہیں، جو زندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔
یہ نہیں کہ صرف جسم ہی سب کچھ ہے۔ لیکن جسم کو نظرانداز کرنا بھی غلط ہے۔
تمہاری عقل تمہارے جسم میں ہے۔ تمہاری روح تمہارے جسم میں ہے۔ یہ سب ایک ہیں۔
خلاصہ – نئی قدروں کی بنیاد
تو زرتشت کیا کہہ رہا ہے؟
وہ کہہ رہا ہے:
پرانی قدروں کو توڑو جو تمہیں کمزور بناتی ہیں۔
اپنی قدریں خود بناؤ جو تمہیں مضبوط بنائیں۔
زندگی کو ہاں کہو، اس سے بھاگو مت۔
اس دنیا سے محبت کرو، دوسری دنیا کا انتظار مت کرو۔
اپنے جسم سے محبت کرو، اسے دشمن مت سمجھو۔
اپنی طاقت کو چھپاؤ مت، اسے استعمال کرو۔
اپنی خواہشات کو مارو مت، انہیں سمجھو۔
یہ نئی زندگی کی بنیاد ہے۔
یہ انسان سے اوپر انسان کی بنیاد ہے۔
نوٹ : یہ فریڈریک نطشے کے خیالات ہیں
![]()

