ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جیسا کہ تحریر “زمین سے نکلنے والا جانور یعنی دابۃ الارض کیا ہے” میں بیان کیا گیا کہ قرآن مجید نے ہمیں اتنا ضرور بتایا ہے کہ قیامت کے قریب زمین سے ایک ایسی مخلوق نکالی جائے گی جو لوگوں سے کلام کرے گی اور یہ قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہوگی۔ لیکن اس کے بعد اس مخلوق کی مکمل ہیئت بارے میں بہت سی تفصیلات روایات اور تفسیری و تاریخی آثار اور احتمالات زیر غور ہیں ان میں سے بعض باتیں ایسی ہیں جن کی صحت اور درجہ الگ الگ ہے اور بعض صرف اہل علم کے پیش کردہ احتمالات ہیں۔ اس لیے ان سب کو ایک ہی درجے کی قطعی حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا تاہم یہ روایات دابۃ الارض کے تصور کو سمجھنے کے لیے ایک دلچسپ اور وسیع پس منظر ضرور فراہم کرتی ہیں۔
دابۃ الارض کے بارے میں ایک اہم تفصیل یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کے ظہور کے بعد لوگوں کے چہروں پر ایسے نشانات ظاہر ہوں گے جن سے مومن اور کافر کی پہچان ہو جائے گی۔ بعض روایات میں یہاں تک ذکر ملتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے چہروں پر موجود ان نشانات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ ایک شخص دوسرے سے پوچھے گا کہ تم نے یہ اونٹ کس سے خریدا؟ جواب ملے گا کہ اس شخص سے جس کے چہرے پر فلاں نشان تھا۔ اس طرح دابہ کا نشان صرف ایک ظاہری علامت نہیں رہے گا بلکہ معاشرتی تعلقات اور باہمی پہچان تک کو متاثر کرے گا۔
بعض روایات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ لوگ ایک دسترخوان پر جمع ہوں گے اور ان کے چہروں پر موجود نشانات سے واضح ہوگا کہ کون مومن ہے اور کون کافر۔ یہاں تک کہ باہمی تجارت اور تعلقات میں بھی فرق پیدا ہو جائے گا۔ مومن کافر کو اور کافر مومن کو ایک ہی انداز سے قبول نہیں کرے گا۔ لوگ ایک دوسرے کو ان نشانات کے مطابق پکاریں گے۔ یعنی یہ وہ مرحلہ ہوگا جب ایمان اور کفر کی حقیقت کسی باطنی دعوے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک نمایاں علامت کے ذریعے ظاہر ہو جائے گی۔
بعض اہل علم نے اس سے یہ بات اخذ کی ہے کہ دابۃ الارض کے ظہور کا تعلق اس مرحلے سے ہوگا جب ایمان لانے اور کفر چھوڑنے کا معمول کا امتحانی دور تقریباً ختم ہو چکا ہوگا۔ اسی لیے بعض تفسیری اقوال میں یہ ذکر ملتا ہے کہ دابہ کے ظہور کے بعد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مرحلہ ختم ہو جائے گا اور اس کے بعد ایمان لانے کا وہ اختیار اور موقع باقی نہیں رہے گا جو اس سے پہلے موجود تھا۔ یہ بات اس تصور سے جڑی ہوئی ہے کہ قیامت کی بعض بڑی نشانیاں جب مسلسل ظاہر ہونا شروع ہوں گی تو دنیا دارالامتحان کے آخری مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔
دابۃ الارض کے مقام کے بارے میں بھی مختلف روایات ملتی ہیں۔ بعض روایات میں صفا کا ذکر ہے جبکہ بعض میں مکہ کے قریب اجیاد کی وادی کا ذکر آتا ہے۔ بظاہر یہ دونوں باتیں مختلف محسوس ہوتی ہیں لیکن بعض اہل علم نے ان میں تطبیق کی کوشش کی ہے۔ ایک احتمال یہ بیان کیا گیا ہے کہ دابہ کا ظہور مختلف مراحل میں ہوگا۔ بعض روایات میں اس کے تین مرتبہ ظاہر ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ پہلی مرتبہ وہ کسی دور دراز علاقے میں ظاہر ہوگی، دوسری مرتبہ مکہ کے قریب اور تیسری مرتبہ مقدس حرم میں۔ اگر اس تطبیق کو سامنے رکھا جائے تو اجیاد اور صفا سے متعلق روایات میں بظاہر موجود فرق کو مختلف مراحل کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اسی ضمن میں حضرت عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب ایک اثر کا ذکر کیا جاتا ہے کہ انہوں نے صفا پر اپنی لاٹھی سے زمین کو ٹھوکا دیا اور کہا کہ دابہ اس وقت میری لاٹھی کی ٹھوکن سن رہی ہے۔ یہ ایک عجیب اور غیر معمولی تصور ہے کہ جس مخلوق کے ظہور کا ذکر قیامت کی نشانیوں میں کیا گیا ہے وہ کہیں ایسی حالت میں موجود ہو جہاں عام انسان اس کے وجود سے واقف نہ ہوں۔ البتہ اس طرح کی روایات کو ان کے اپنے درجے کے مطابق ہی بیان کرنا چاہیے اور ان سے کوئی قطعی جغرافیائی یا سائنسی دعویٰ قائم نہیں کرنا چاہیے۔
دابۃ الارض کے ظہور کے وقت کے بارے میں بھی ایک غیر معمولی روایت بیان کی جاتی ہے جس میں سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے واقعے کو دابہ کے ظہور سے جوڑا گیا ہے۔ اس روایت کے مطابق جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو ابلیس سجدے میں گر جائے گا اور اپنی مہلت ختم ہونے پر چیخے گا۔ اس کے بعد دابۃ الارض کے صفا کی چٹان سے نکلنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ روایت اپنے اندر ایک انتہائی خوفناک منظر پیش کرتی ہے کہ جس وقت دنیا کے امتحان کے خاتمے کی بڑی نشانی ظاہر ہوگی اسی وقت دابہ بھی ظاہر ہو کر لوگوں کے ایمان اور کفر کو نمایاں کر دے گی۔
صفا کا ذکر یہاں خاص طور پر معنی خیز ہے کیونکہ صفا اور مروہ محض دو مقامات کے نام نہیں بلکہ اسلامی تاریخ کے ایک عظیم واقعے کی یادگار ہیں۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اپنے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں۔ اس وقت مکہ میں نہ کوئی آباد شہر تھا نہ کوئی انسانی سہارا۔ ایک ماں اپنے پیاسے بچے کے لیے کبھی صفا پر چڑھ کر دیکھتی اور کبھی مروہ کی طرف دوڑتی۔ یہی جدوجہد بعد میں عبادت بن گئی اور آج دنیا بھر کے مسلمان حج اور عمرہ کے دوران صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔
اسی واقعے سے زمزم کا تعلق بھی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس آئے اور اللہ کے حکم سے زمین پر ضرب لگائی جس سے پانی جاری ہوا۔ حضرت ہاجرہ علیہا السلام پانی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اسے جمع کرنے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے بارے میں رحمت کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ پانی کو روکنے کی کوشش نہ کرتیں تو وہ ایک بہتا ہوا چشمہ بن جاتا۔ یوں صفا اور مروہ ایک ایسی ماں کی جدوجہد کی یادگار بن گئے جس نے اپنے بچے کے لیے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے کوشش کی۔
اسی لیے اگر دابۃ الارض کے صفا سے نکلنے کے احتمال کو سامنے رکھا جائے تو صفا کی علامت مزید دلچسپ محسوس ہوتی ہے۔ ایک طرف یہ ایک ماں کی اپنے بچے کے لیے جدوجہد کی یادگار ہے اور دوسری طرف قیامت کے آخری دور میں اسی مقام سے ایک ایسی مخلوق کے ظہور کا ذکر آتا ہے جو لوگوں کے ایمان اور کفر کو ظاہر کرے گی۔ یہ تعلق اپنی جگہ ایک فکری اور علامتی پہلو ضرور رکھتا ہے، اگرچہ اس علامتی تعبیر کو قطعی نہیں کہا جا سکتا۔
دابۃ الارض کے جسم اور شکل کے بارے میں بھی مختلف روایات اور احتمالات بیان کیے گئے ہیں۔ بعض روایات میں اس کا چہرہ انسان جیسا اور جسم پرندے جیسا بیان کیا گیا ہے۔ بعض آثار میں اسے بالوں والی مخلوق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یہی مختلف اوصاف بعض اہل علم کے ہاں اس سوال کا سبب بنے کہ آخر یہ مخلوق کس نوعیت کی ہوگی؟ کیا یہ کوئی بالکل نئی مخلوق ہوگی یا پہلے کسی موقع پر انسانوں کے سامنے آ چکی ہوگی؟
ایک احتمال یہ پیش کیا گیا ہے کہ دابۃ الارض دراصل جساسہ کی حقیقی شکل ہو سکتی ہے۔ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کے مشہور واقعے میں جساسہ کا ذکر آتا ہے، جسے انہوں نے ایک جزیرے پر دیکھا تھا اور جو انہیں دجال تک لے گئی تھی۔ اس احتمال کی بنیاد یہ ہے کہ جساسہ بھی ایک غیر معمولی مخلوق تھی اور اس واقعے میں اس کے انسانوں سے تعلق اور گفتگو کا ذکر ملتا ہے۔ بعض روایات میں جساسہ کے لیے دابہ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھی دابہ کے بالوں والی مخلوق ہونے کی نسبت کی جاتی ہے۔ چنانچہ ایک فہم یہ بن سکتا ہے کہ جس مخلوق کو تمیم داری رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا وہی آخری زمانے میں ایک دوسرے مرحلے میں دابۃ الارض کے طور پر ظاہر ہو۔
دوسرا احتمال ایک بہت بڑے سانپ کے واقعے سے متعلق ہے۔ بعض تاریخی روایات میں آتا ہے کہ قریش جب کعبہ کی تعمیر یا مرمت کر رہے تھے تو ایک غیر معمولی بڑا سانپ کعبہ کی دیوار پر ظاہر ہوا۔ اس کی پشت سیاہ اور پیٹ سفید بتایا جاتا ہے۔ وہ اتنا خوفناک تھا کہ جب کوئی شخص قریب جانے کی کوشش کرتا تو وہ منہ کھول کر اس کی طرف لپکتا۔ قریش اس صورت حال سے پریشان ہوئے اور اللہ سے دعا کی کہ اگر وہ واقعی اس کے گھر کی تعمیر کر رہے ہیں تو اس مشکل کو دور کر دے۔
روایت میں اس کے بعد ایک انتہائی عجیب واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ آسمان سے ایک زوردار آواز سنائی دی اور ایک بہت بڑا پرندہ نمودار ہوا۔ اس کی رنگت بھی سانپ جیسی بیان کی جاتی ہے۔ اس نے اپنے پنجوں سے اس بڑے سانپ کو پکڑا اور اٹھا کر اجیاد کے پہاڑوں کی طرف لے گیا۔ بعض لوگ اس واقعے کو دابۃ الارض کے ساتھ جوڑنے کا احتمال بیان کرتے ہیں اور یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ وہ سانپ دابہ کی ایک سابقہ صورت یا اس کی اصل ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک احتمالی تعبیر ہے نہ کہ قرآن یا صحیح حدیث سے ثابت شدہ شناخت۔
سب سے زیادہ غیر معمولی احتمال حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے بچے سے متعلق ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود نے ان سے ایک نشانی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر چٹان سے ایک اونٹنی نکال کر دکھا دو تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نشانی عطا فرمائی اور چٹان سے اونٹنی ظاہر ہوئی۔ لیکن نشانی دیکھنے کے باوجود قوم نے سرکشی اختیار کی اور آخرکار اس اونٹنی کو قتل کر دیا۔
بعض روایتی تفصیلات میں اس اونٹنی کے بچے کا بھی ذکر آتا ہے۔ جب اس کی ماں کو قتل کیا گیا تو بچہ چیخا اور بھاگ کر ایک چٹان کی طرف گیا۔ وہاں چٹان پھٹ گئی اور وہ اس کے اندر داخل ہو گیا۔ اسی واقعے کو بنیاد بنا کر ایک انتہائی غیر معمولی نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا وہ بچہ آج تک کسی غیبی حالت میں محفوظ ہے اور قیامت کے قریب یہی دابۃ الارض بن کر دوبارہ ظاہر ہوگا۔
اس نظریے کو بعض لوگ اس وجہ سے بھی دلچسپ سمجھتے ہیں کہ دابہ کے صفا کی چٹان سے نکلنے کا ذکر آتا ہے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے بچے کے چٹان میں داخل ہونے کا قصہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب اس اثر کو بھی اس نظریے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جس میں صفا پر لاٹھی مار کر دابہ کے اس ٹھوکن کو سننے کا ذکر ہے۔ یوں اس احتمال کے مطابق ایک مخلوق جو ماضی میں ایک نشانی کے طور پر ظاہر ہوئی تھی دوبارہ آخری زمانے میں ایک عظیم نشانی کے طور پر سامنے آئے گی۔
دابۃ الارض کے بارے میں موجود روایتی مواد انتہائی دلچسپ لیکن ساتھ ہی انتہائی محتاط مطالعے کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں یہ فرق ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید میں دابۃ الارض کا اصل ظہور واضح طور پر بیان ہوا ہے، جبکہ اس کی شناخت جساسہ، کسی عظیم سانپ یا صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے بچے کے ساتھ کرنا مختلف روایات اور اہل علم کے احتمالات سے متعلق ہے۔ ان احتمالات کو دلچسپ فکری تعبیر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے لیکن انہیں قطعی بنا دینا درست نہیں۔
دابہ کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہونے کا ذکر بھی بعض روایات میں آتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا قرآن مجید میں ایک عظیم نشانی کے طور پر معروف ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی کے بارے میں قرآن و حدیث میں اتنی تفصیل موجود نہیں، البتہ بعد کے اسلامی ادب اور اہل کتاب کے روایتی ادب میں اس کے بارے میں مختلف قصے ملتے ہیں۔ اس لیے ان تفصیلات کو بیان کرتے وقت قرآن و صحیح حدیث اور بعد کے روایتی ادب کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی کے بارے میں بعض روایات میں یہ تصور ملتا ہے کہ وہ ان کی جو سلطنت کی علامت تھی اور اس کے ذریعے انہیں اللہ کے حکم سے جنات اور دوسری مخلوقات پر اختیار حاصل تھا۔ اہل کتاب کے بعض روایتی ادب میں اس سے بھی زیادہ عجیب تفصیلات ملتی ہیں، لیکن ان سب کو اسلامی عقائد کا لازمی حصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
دابۃ الارض کے بارے میں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ قرآن نے اسے صرف جانور کے معنی میں کیوں بیان کیا؟ عربی میں دابہ کا لفظ عام طور پر زمین پر چلنے والی مخلوق کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سورۃ النمل میں اسے نکرہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور بعض اہل علم نے اس سے یہ احتمال نکالا کہ یہ کوئی عام اور معروف جانور نہیں ہوگا بلکہ ایسی مخلوق ہوگی جس کی نوعیت انسانوں کے لیے غیر معمولی اور اجنبی ہوگی۔ تاہم صرف نحوی ساخت سے اس کی مکمل جسمانی شکل متعین کرنا ممکن نہیں۔
ایک اور دلچسپ تفصیل اس روایت سے متعلق ہے جس میں دابہ کے لوگوں کے درمیان آنے اور ان کے ساتھ تجارت کے دوران اس کے نشان کی پہچان کا ذکر ہے۔ حدیث میں یں اونٹ کے لیے استعمال ہونے والے لفظ پر بھی بعض اہل علم نے غور کیا ہے اور اسے عام بڑے اونٹ کے لیے استعمال ہونے والے لفظ سے مختلفب قرار دیا ہے۔ اس لفظی فرق سے بھی دابہ کی نوعیت کے بارے میں بعض احتمالات قائم کیے گئے ہیں، لیکن اس سے کوئی قطعی نتیجہ نکالنا مشکل ہے۔
یوں دابۃ الارض کے بارے میں ہمارے سامنے ایک وسیع روایتی تصویر بنتی ہے۔ ایک طرف قرآن کا واضح بیان ہے کہ قیامت کے قریب زمین سے ایک مخلوق نکلے گی اور لوگوں سے کلام کرے گی۔ دوسری طرف مختلف روایات میں اس کے چہرے، جسم، مقام، نشانات، تین مرتبہ ظہور، عصا اور انگوٹھی اور لوگوں کے مومن و کافر ظاہر ہونے جیسے مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں۔ پھر بعض اہل علم نے اسے جساسہ سے جوڑا، بعض نے بڑے سانپ کے واقعے سے تعلق کا احتمال پیش کیا اور بعض نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے بچے کو اس کی ایک ممکنہ شناخت قرار دیا۔
ان تمام احتمالات میں سب سے اہم بات شاید یہ نہیں کہ ہم دابہ کی جسمانی شکل کے بارے میں اپنی طرف سے کوئی حتمی فیصلہ کر دیں۔ اصل اہمیت اس حقیقت کی ہے کہ دابۃ الارض قیامت کی ایک ایسی نشانی ہوگی جس کے ظاہر ہونے کے بعد دنیا کے امتحان کا مرحلہ اپنے آخری انجام کے قریب پہنچ چکا ہوگا۔ انسان کو اس سے پہلے اپنے ایمان کو درست کرنا ہے، کیونکہ جب وہ نشانیاں ظاہر ہو جائیں گی جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے تو اس وقت ایمان لانا اس طرح مفید نہیں ہوگا جیسے غیب پر ایمان لانا اس سے پہلے مفید تھا۔
اسی لیے دابۃ الارض کی بحث کا اصل سبق محض یہ نہیں کہ وہ کیسی ہوگی، کہاں سے نکلے گی یا اس کا جسم کیسا ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب وہ ظاہر ہوگی تو ہم کس حالت میں ہوں گے۔ کیا ہمارا ایمان اس وقت تک صرف ایک دعویٰ ہوگا یا ہم آج ہی اپنے رب کو پہچان کر اس کے سامنے جھک چکے ہوں گے؟ قیامت کی نشانیوں کا مقصد انسان کو صرف حیران کرنا نہیں بلکہ اسے غفلت سے جگانا ہے۔ دابۃ الارض بھی اسی آخری بیداری کی ایک عظیم نشانی ہوگی۔
دابتہ الارض کے بارے میں بیشتر احتمالات بیان ہو چکے ہیں آئندہ آنے والی تحریریں امام مہدی علیہ الرحمہ کا ظہور ، یاجوج و ماجوج پہ ہوں گی ان شاءاللہ اکاؤنٹ کو لازمی فالو کریں۔
جزاکم اللہ خیرا کثیرا۔
#غزالیات #غــزالیــات #احـمــدالــغــزالی
🖋️ — احمـــد الغــزالی
![]()

