زمین کا اندرونی مرکز اپنی گردش بدل رہا ہے؟ 5 ہزار کلومیٹر نیچے ہونے والی تبدیلی نے سائنس دانوں کو حیران کردیا
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ زمین کا اندرونی مرکز اپنی گردش بدل رہا ہے؟ 5 ہزار کلومیٹر نیچے ہونے والی تبدیلی نے سائنس دانوں کو حیران کردیا۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)
ہم جس زمین پر کھڑے ہیں، بظاہر وہ ہمارے لیے ایک مضبوط اور ساکن دنیا ہے، لیکن ہمارے قدموں سے ہزاروں کلومیٹر نیچے ایک ایسی دنیا موجود ہے جسے انسان نے آج تک اپنی آنکھ سے نہیں دیکھا۔ وہاں نہ کوئی کیمرہ پہنچا ہے، نہ کوئی مشین اور نہ ہی کوئی انسان۔ اس کے باوجود زلزلوں کی لہروں نے سائنس دانوں کو زمین کے عین مرکز میں ہونے والی ایک حیرت انگیز تبدیلی کا سراغ دیا ہے۔
زمین کا اندرونی مرکز یعنی Inner Core تقریباً 5,100 کلومیٹر کی گہرائی سے شروع ہوتا ہے اور زمین کے عین مرکز تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ تقریباً 1,220 کلومیٹر رداس رکھنے والا ٹھوس کرہ ہے، جس کا بڑا حصہ لوہے اور نکل پر مشتمل سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اردگرد مائع دھاتوں پر مشتمل بیرونی مرکز موجود ہے۔ اندرونی مرکز کا درجہ حرارت تقریباً 5,000 سے 6,000 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہوسکتا ہے، یعنی سورج کی ظاہری سطح کے درجہ حرارت کے آس پاس، لیکن بے پناہ دباؤ کی وجہ سے اس کا بڑا حصہ ٹھوس حالت میں رہتا ہے۔
ہزاروں کلومیٹر نیچے موجود اس مرکز کا علم کیسے ہوا؟
اس کا جواب زلزلے ہیں۔ جب زمین پر طاقتور زلزلہ آتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والی زلزلی لہریں پوری زمین کے اندر سفر کرتی ہیں۔ ان لہروں میں سے کچھ زمین کے Inner Core سے بھی گزرتی ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں نصب انتہائی حساس آلات ان لہروں کو ریکارڈ کرتے ہیں۔ اگر ایک ہی علاقے میں مختلف برسوں کے دوران ملتے جلتے زلزلے آئیں تو سائنس دان ان کی لہروں کا انتہائی باریک موازنہ کرکے دیکھ سکتے ہیں کہ زمین کے اندر ان کے راستے میں کوئی تبدیلی آئی یا نہیں۔
سال 2024 میں سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والی ایک اہم تحقیق میں سائنس دانوں نے 1991 سے 2023 تک جنوبی سینڈوچ جزائر کے علاقے میں آنے والے 121 بار بار واقع ہونے والے زلزلوں کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا۔ ان سے بننے والے 143 منفرد جوڑوں کی زلزلی لہروں کا موازنہ کیا گیا، خصوصاً ایسی لہروں کا جو زمین کے Inner Core سے گزرتی تھیں۔
نتیجہ حیرت انگیز تھا
تحقیق کے مطابق Inner Core نے تقریباً 2003 سے 2008 کے درمیان زمین کے مینٹل کے مقابلے میں نسبتاً آگے کی جانب حرکت دکھائی، جسے سائنسی زبان میں Super-rotation کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کے بعد صورتحال بدل گئی۔ تقریباً 2008 سے 2023 کے دوران اس کی نسبتی حرکت واپس اسی راستے کی طرف جانے لگی اور یہ واپسی پہلے کی حرکت کے مقابلے میں تقریباً دو سے تین گنا سست تھی۔
یہاں ایک بہت ضروری وضاحت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ زمین کا اندرونی مرکز اچانک رک گیا اور پھر کسی موٹر کی طرح الٹی سمت میں تیزی سے گھومنے لگا۔ اصل معاملہ نسبتی گردش کا ہے۔ زمین کی سطح، مینٹل اور Inner Core سب زمین کی مجموعی گردش کا حصہ ہیں، لیکن اندرونی مرکز کی گردش کی رفتار باقی زمین کے مقابلے میں انتہائی معمولی مقدار میں آگے یا پیچھے ہوسکتی ہے۔ جب سائنس دان کہتے ہیں کہ اندرونی مرکز ’’پیچھے جانے‘‘ لگا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی گردش زمین کے مینٹل یا سطح کے مقابلے میں نسبتاً سست ہوگئی ہے۔
سال 2024 کی تحقیق میں اندازہ ہوا کہ یہ تبدیلی تقریباً 2010 کے آس پاس خاص طور پر واضح ہوگئی تھی۔ کئی دہائیوں تک Inner Core کی نسبتی حرکت پر سائنس دانوں کے درمیان بحث جاری رہی، لیکن نئے زلزلی ریکارڈ نے اس تبدیلی کے حق میں زیادہ مضبوط شواہد فراہم کیے۔
فروری 2025: کہانی نے ایک نیا رخ اختیار کیا
جریدے Nature Geoscience میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں انہی قسم کی زلزلی لہروں کے مزید تفصیلی تجزیے سے معلوم ہوا کہ مسئلہ صرف گردش کا نہیں ہوسکتا۔ سائنس دانوں کو شواہد ملے کہ Inner Core کی بیرونی سطح کے قریب موجود مادہ وقت کے ساتھ شکل یا ساخت میں بھی معمولی تبدیلی دکھا رہا ہے۔
اس تحقیق میں 1991 سے 2023 تک کے 121 بار بار آنے والے زلزلوں کے جوڑوں سے حاصل ہونے والی لہروں کا جائزہ لیا گیا۔ سائنس دان ایسی صورتیں تلاش کررہے تھے جب Inner Core اپنی نسبتی حرکت کے باعث دوبارہ تقریباً اسی پوزیشن پر پہنچا جہاں وہ پہلے موجود تھا۔ اگر یہ مکمل طور پر سخت اور ناقابلِ تبدیلی کرہ ہوتا تو تقریباً اسی پوزیشن پر واپس آنے کے بعد زلزلی لہروں کے نمونے بھی تقریباً وہی ہونے چاہیے تھے۔
لیکن بعض ریکارڈ مختلف نکلے۔ اس سے یہ امکان سامنے آیا کہ Inner Core کی بالائی سطح کے کچھ حصے مکمل طور پر جامد نہیں، بلکہ ان میں وقت کے ساتھ معمولی Deformation یا ساختی تبدیلی ہوسکتی ہے۔
زمین کے عین مرکز میں یہ تبدیلیاں کیوں ہورہی ہیں؟
سائنس دانوں کے مطابق Inner Core کے اردگرد مائع لوہے اور نکل پر مشتمل بیرونی مرکز مسلسل حرکت میں ہے۔ اسی مائع دھاتی حصے کی پیچیدہ حرکت زمین کے مقناطیسی میدان کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ بیرونی مرکز کی حرکت Inner Core پر برقی مقناطیسی قوتیں ڈال سکتی ہے، جبکہ اوپر موجود مینٹل کی غیر یکساں کمیت کششِ ثقل کے ذریعے اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ یوں زمین کا مرکز کوئی مردہ، جامد دھاتی گیند نہیں بلکہ ایک انتہائی پیچیدہ اور متحرک نظام کا حصہ ہے۔
یہ تبدیلی کتنی بڑی ہے؟
یہاں بھی سنسنی خیزی سے بچنا ضروری ہے۔ ایسا نہیں کہ زمین کے اندر کوئی بہت بڑا حصہ اچانک کئی کلومیٹر الٹا گھوم گیا ہو۔ ماضی کی تحقیقات میں Inner Core کی نسبتی گردش کے اندازے عموماً ڈگری کے بہت چھوٹے حصوں فی سال کی سطح پر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی ہمارے روزمرہ کے احساس سے انتہائی معمولی ہے، لیکن جدید زلزلہ پیمائی اتنی حساس ہے کہ کئی برسوں اور دہائیوں کے ریکارڈ ملا کر اس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔
ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ Inner Core اور باقی زمین کے درمیان زاویائی حرکت کا تبادلہ زمین کے دن کی طوالت میں بھی انتہائی معمولی تبدیلیوں سے منسلک ہوسکتا ہے۔ یہاں بات گھنٹوں یا منٹوں کی نہیں بلکہ ملی سیکنڈ کی سطح کی نہایت چھوٹی تبدیلیوں کی ہے۔
سال 2023 کی ایک الگ تحقیق نے یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ Inner Core کی نسبتی گردش کئی دہائیوں پر محیط ایک بڑے چکر کا حصہ ہوسکتی ہے۔ اس تحقیق میں تقریباً سات دہائیوں کے Oscillation کا امکان پیش کیا گیا اور 1970 کی دہائی کے آغاز کے قریب بھی ایک ممکنہ Turning Point کی نشاندہی کی گئی۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ زمین کے Inner Core کی حرکت کے مکمل نمونے پر ابھی سائنسی بحث جاری ہے۔ مختلف تحقیقی گروہ زلزلی لہروں کی تبدیلیوں کی مختلف تشریحات پیش کرتے رہے ہیں۔
زمین، سائنس اور قرآن
قرآن مجید انسان کو زمین کے بارے میں غوروفکر کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ﴾
ترجمہ: ’’اور زمین میں یقین رکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اور خود تمہارے وجود میں بھی، تو کیا تم دیکھتے نہیں؟‘‘ (سورۃ الذاریات: 20–21)
یہ آیت زمین کے Inner Core کی گردش کی سائنسی پیش گوئی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ قرآن یہاں زمین اور انسان میں موجود نشانیوں پر وسیع معنوں میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ آج جدید سائنس اسی زمین کی تہوں میں چھپی ایسی حقیقتیں دریافت کررہی ہے جنہیں انسانی آنکھ براہِ راست کبھی نہیں دیکھ سکتی۔
حاصلِ کلام
ہم زمین کی سطح پر شہر بناتے ہیں، سمندروں کو عبور کرتے ہیں، پہاڑوں پر چڑھتے ہیں اور خلا میں مشینیں بھیجتے ہیں، لیکن ہمارے اپنے قدموں سے تقریباً 5 ہزار کلومیٹر نیچے ایک ایسی دنیا موجود ہے جس کے بارے میں ابھی بھی بہت سے بنیادی سوالات حل نہیں ہوئے۔
اور شاید سب سے حیران کن حقیقت یہی ہے: جس زمین کو ہم اپنے قدموں کے نیچے بالکل مضبوط اور خاموش سمجھتے ہیں، اس کے عین قلب میں تقریباً چاند کے حجم کے قریب ایک انتہائی گرم ٹھوس دھاتی کرہ موجود ہے، جو مائع دھات کے سمندر میں گھرا ہوا ہے، باقی زمین کے مقابلے میں اپنی نسبتی گردش بدل سکتا ہے، اور نئی تحقیق کے مطابق اس کی بیرونی سطح کے کچھ حصے اپنی ساخت بھی تبدیل کرسکتے ہیں۔ زمین ہمارے لیے صرف رہنے کی جگہ نہیں، اپنے اندر چھپی ہوئی ایک پوری پراسرار دنیا بھی ہے۔
#زمین #زمین_کا_مرکز #جدید_سائنس #قرآن_اور_سائنس #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں
حوالہ جات:
-
رپورٹ Nature — Inner Core Backtracking by Seismic Waveform Change Reversals
-
رپورٹ Nature Geoscience — Annual-scale Variability in Earth’s Inner Core
-
رپورٹ Nature Geoscience — Multidecadal Variation of the Earth’s Inner-core Rotation
-
ادارہ USC — Earth’s Inner Core Rotation Research
![]()

