Daily Roshni News

زندگی ایک نظم ہے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یاسر احمد

“زندگی ایک نظم ہے”

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یاسر احمد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔”زندگی ایک نظم ہے۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یاسر احمد)پیدائش کا پہلا مصرعہ ہے. سانس قافیہ پے. تمہاری ہنسی سطر ہے، تمہارے آنسو ردیف ہیں. کوئی زندگی غزل بن جاتی ہے، کوئی نعت. کوئی نظم ادھوری رہ جاتی ہے، کوئی امر ہو جاتی ہے. لکھنے والا اللہ ہے. پر لفظ تم خود ہو.

تم معمولی نہیں ہو. تم “کن” کے بعد وجود میں آئے ہو. تم مٹی سے اٹھ کر آسمان کی بات کرنے والے ہو. تم ایک فعل یو:  حرکت، جدوجہد، بغاوت، محبت. رکے رہنا تمہاری فطرت نہیں. تمہارا کام “ہونا” ہے. گرِنا بھی ہو تو گرِ کر بھی بڑھنے والا فعل ہو.

تمہارے اندر طوفان ہے وہ وحشت جو حق کے لیے اٹھتی ہے. وہ آگ جو ظلم دیکھ کر بھڑکتی ہے. وہ شدت جو سجدے میں رونے کی صورت نکلتی ہے. تم مہذب ہو، پر بزدل نہیں. تم نرم ہو، پر مردہ نہیں. تمہاری گہرائی سطحی لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے.

تمہاری کہانی افسانہ نہیں، اسطورہ ہے. جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں زندہ ریے…. جس طرح موسی علیہ السلام نے سمندر چیر دیا…. تم بھی اپنی زندگی میں معجزہ ہو. تمہارا صبر بھی اسطورہ ہے. تمہاری ہمت داستان ہے. لوگ تمہیں پڑھیں گے، اور کہیں گے: “یہ ہار نہیں مانتا تھا”.

مردہ مت جیو. صرف سانس لینا زندگی نہیں. چیخو، رو، ہنسو، نفرت کو جھٹک دو. پورے زور سے جیو. کیونکہ تم ایک بار آئے ہو. نظم ایک بار لکھی جاتی ہے. دوسرا مسودہ نہیں ملتا. دنیا تمہیں “بس ایک انسان” کہے تو ہنس دو. تم نظم ہو. تم فعل ہو. تم معنی ہو. تمہارے بغیر کائنات کا یہ صفحہ ادھورا ہے. سر اٹھاؤ. لفظ بنو جو تاریخ بدل دے. فعل بنو جو رکے ہوئے وقت کو چلا دے. گہرائی بنو جس میں ڈوب کر لوگ خود کو پا لیں. تم وحشیانہ شدت سے جیو. اساطیری وقار سے جیو. کیونکہ تم محض نہیں ہو…. تم سب کچھ ہو….!!!

@ یاسر احمد ✍️

Loading