Daily Roshni News

زندگی کا قدرتی سرکل اور انسان ۔۔۔ انتخاب ۔ ۔۔محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ زندگی کا قدرتی سرکل اور انسان ۔۔۔ انتخاب ۔ ۔۔محمد جاوید عظیمی)عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان کی شروعات اس کی پیدائش سے ہوتی ہے، لیکن اس تصور کے مطابق پیدائش دراصل زندگی کے قدرتی سرکل کا آخری مرحلہ ہے۔ زندگی کا مادّی سفر انسان کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو چکا ہوتا ہے، اور موت کے بعد بھی قدرتی سرکل کا حصہ بن کر جاری رہتا ہے۔ اس اعتبار سے زندگی ایک مسلسل قدرتی سرکل میں سفر کرتی ہے، جس کا آغاز اور اختتام ایک ہی قدرتی حالت میں مل جاتے ہیں۔ ہر کیفیت اپنی الگ دنیا ہوتی ہے، اس لیے زندگی جب ایک کیفیت میں ہوتی ہے، تو دوسری کیفیت کی یاد باقی نہیں رہتی۔ دنیا کے بدلنے کے ساتھ محسوس کرنے، سمجھنے اور زندگی گزارنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے۔ موجودہ سائنس عام طور پر شعور کو دماغ اور نیورونز سے وابستہ کرتی ہے، لیکن اس تصور کے مطابق شعور صرف دماغ تک محدود نہیں ہو سکتا۔ مختلف حیاتیاتی حالتوں میں احساس، ردِعمل اور ادراک کی نوعیت بھی مختلف ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر سپرم کا اپنی منزل کی طرف بڑھنا ایک منظم حیاتیاتی عمل ہے۔ اس تصور کے مطابق اسے ابتدائی درجے کی ادراکی یا شعوری کیفیت کی ایک مثال سمجھا جا سکتا ہے۔ چونکہ یہ دنیا انسانی تجربے سے مختلف ہے، اس لیے انسان اس کیفیت کو براہِ راست محسوس یا سمجھ نہیں سکتا۔ اسی طرح مرد کے جسم کی زندگی، رحمِ مادر کی زندگی، اور پیدائش کے بعد کی زندگی تین مختلف ماحول ہیں، جن میں ہر ایک کے اپنے اصول اور اپنی کیفیت ہوتی ہے۔ انسان کو اپنی پیدائش کے بعد بچپن کی بیشتر باتیں بھی یاد نہیں رہتیں، تو اگر ایک وجود ایک دنیا سے نکل کر بالکل دوسری دنیا میں داخل ہو جائے، تو پچھلی کیفیت کی یادیں باقی رہنا اور بھی مشکل ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ ہر کیفیت میں یادداشت محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی مختلف ہو۔ اسی لیے مختلف جاندار ایک ہی دنیا کو مختلف انداز سے محسوس کرتے اور دیکھتے ہیں۔ ان کے احساس، ادراک اور تجربات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ماحول اور کیفیت بدلنے سے شعوری تجربہ بھی بدل جاتا ہے، اگرچہ وجود کا بنیادی تسلسل برقرار رہتا ہے۔ اس تصور کے مطابق زندگی کا مادّی سفر چار بنیادی ماحولوں سے گزرتا ہے۔ پہلا مرحلہ غیر مرئی قدرتی ماحول ہے، جہاں زندگی کے بنیادی عناصر قدرت کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان ابھی ظاہر نہیں ہوا ہوتا۔ دوسرا مرحلہ مرد کے اندر کا ماحول ہے، جہاں قدرتی مادّہ ایک حیاتیاتی عمل سے گزر کر سپرم کی شکل اختیار کرتا ہے۔ تیسرا مرحلہ عورت کے اندر کا ماحول ہے، جہاں سپرم بیضے سے مل کر نئی زندگی کی بنیاد رکھتا ہے اور رحم کے اندر ایک مکمل جسم کی تشکیل شروع ہوتی ہے۔ چوتھا مرحلہ ظاہری دنیا کا ماحول ہے، جہاں پیدائش کے بعد انسان سانس، خوراک، حرکت، تجربات اور شعور کے ساتھ بچپن، جوانی، بڑھاپے اور آخرکار موت تک کا سفر طے کرتا ہے۔ موت کے بعد جسم کے عناصر دوبارہ  اسی غیر مرئی قدرتی ماحول کا حصہ بن جاتے ہیں جہاں سے یہ سفر شروع ہوا تھا۔ اس طرح زندگی کا مادّی سفر ایک مسلسل سرکل کی شکل اختیار کرتا ہے: غیر مرئی قدرتی ماحول۔ مرد کا ماحول۔ عورت کا ماحول۔  ظاہری دنیا۔ غیر مرئی قدرتی ماحول۔ اس تصور کے مطابق انسان کی حقیقت کو صرف پیدائش اور موت کے درمیان محدود نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اسے ایک مسلسل قدرتی سرکل کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے، جہاں ہر کیفیت اپنی الگ دنیا رکھتی ہے، ہر دنیا اپنے الگ اصول رکھتی ہے، اور ہر مرحلہ اگلے مرحلے سے جڑ کر وجود کے ایک مسلسل سفر کو مکمل کرتا ہے۔ اس سرکل میں زندگی کبھی بھی ایک ہی کیفیت میں ہمیشہ نہیں رہتی، بلکہ ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں داخل ہوتی رہتی ہے، اور یہ قدرتی سرکل مسلسل جاری رہتا ہے”۔۔۔۔۔۔۔ ✍️ پریم بابو

Loading