“سائنس اور ایمان میں کوئی بھی بنیادی تضاد نہیں۔”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ دعوی کیا ہے پروفیسر یونس چنگیل (Prof. Yunus Cengel) نے جو ایک معروف مکینیکل انجینئر، توانائی کے ماہر (Energy Specialist)، استاد اور متعدد معروف درسی و تحقیقی کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی سے بی ایس اور امریکہ کی نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی۔ وہ کئی سال یونیورسٹی آف نیواڈا، رینو میں تدریس سے وابستہ رہے اور توانائی، انجینئرنگ اور سائنس کے موضوعات پر کتابیں، تحقیقی مضامین اور لیکچرز پیش کرتے رہے ہیں۔ اس گفتگو کے میزبان ٹُوورڈز اٹرنٹی (Towards Eternity) پروگرام کے میزبان ہیں، جو سائنس، مذہب، ایمان اور جدید فکری مباحث سے متعلق اہم شخصیات سے گفتگو کرتے ہیں۔
اس خصوصی انٹرویو میں میزبان نے پروفیسر یونس چنگیل سے سائنس اور ایمان کے تعلق، مستقبل کی سائنس، خدا کے وجود، مادیت (Materialism)، زندگی، معلومات (Information)، شعور (Consciousness)، روح (Soul) اور کائنات کے نظام جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی۔ آئیے اس بصیرت افروز علمی گفتگو سے مستفیض ہوتے ہیں۔
میزبان: السلام علیکم، پروفیسر یونس چنگیل! ٹُوورڈز اٹرنٹی (Towards Eternity) میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہماری دعوت قبول کرنے پر ہم آپ کے بے حد شکر گزار ہیں۔ ہمارے لیے یہ بہت اعزاز کی بات ہے کہ آپ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ انجینئرنگ کی جامعات میں پڑھائی جانے والی کئی معروف اور مقبول کتابوں کے مصنف ہیں اور آپ کی متعدد ایوارڈ یافتہ تصانیف دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ آپ نے اب تک کس نوعیت کا کام کیا ہے اور آج کل بھی کن کاموں میں مصروف ہیں؟
پروفیسر یونس چنگیل: وعلیکم السلام۔ میں بنیادی طور پر مکینیکل انجینئر (Mechanical Engineer) ہوں۔ میں نے استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی سے بی ایس کیا۔ اس کے بعد میں نے امریکہ کی نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی سے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی۔ پھر میں کئی سال یونیورسٹی آف نیواڈا، رینو میں فیکلٹی ممبر رہا۔ میری تخصصی فیلڈ توانائی (Energy) ہے۔ میں توانائی کے موضوع پر کتابیں اور تحقیقی مضامین لکھتا ہوں اور اسی موضوع پر لیکچرز بھی دیتا ہوں۔
میزبان: آپ کے خیال میں آج سے سو سال بعد سائنس کہاں پہنچ چکی ہوگی؟ جب لوگ اس وقت سڑکوں پر نکلیں گے تو انہیں کیسی دنیا نظر آئے گی؟
پروفیسر یونس چنگیل: اوہ، یہ بہت مشکل سوال ہے۔ غالباً مستقبل کے بارے میں ہم آج سے پچاس یا سو سال آگے کی جو پیش گوئیاں (Predictions) کرتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر غلط ثابت ہوں گی۔ میں بھی ایک اندازہ پیش کر سکتا ہوں، لیکن مجھے یقین ہے کہ اس میں بھی بہت بڑی غلطی کا امکان ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم آج کی چیزوں اور آج کے علم کو سامنے رکھ کر سوچتے ہیں۔ ہم موجودہ چیزوں کو بس آگے بڑھا کر مستقبل کا تصور کرتے ہیں۔ لیکن ممکن ہے کہ پچاس یا سو سال بعد ہمارے پاس ایسی چیزیں موجود ہوں جن کا ہم آج تصور بھی نہیں کر سکتے۔ وہ انسانی تخیل سے بالکل باہر ہوں گی۔ یہ بہت حیران کن اور دلچسپ ہوگا۔ اچھی چیزیں تو ناقابلِ یقین حد تک حیرت انگیز ہوں گی، لیکن بری چیزیں بھی بہت خوفناک ہو سکتی ہیں۔
میں نے ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی مثال دی۔ ہم انہیں براہِ راست محسوس نہیں کر سکتے، نہ انہیں عام طریقے سے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر سمجھ سکتے ہیں، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ وہ موجود ہیں۔ اب ذرا تصور کریں کہ ہم مستقبل میں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ لیں اور ان پر کسی حد تک قابو حاصل کر لیں۔ اگر ہم انہیں استعمال یا تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیں تو کائنات میں کھیل ہی بدل جائے گا۔ ہم ایسے مادے کے ساتھ کام کر سکیں گے جو ہماری موجودہ مادی دنیا میں موجود عام چیزوں، مثلاً الیکٹرانز، پروٹانز، نیوٹرانز اور فوٹونز سے بالکل مختلف ہو، لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہو رہا ہو۔
فرض کریں آپ ایسی گاڑی یا نقل و حمل کا کوئی ذریعہ بنا سکیں جس کا وزن ہی نہ ہو اور جس میں رگڑ بھی نہ ہو، اور جو موجودہ بہت سی پابندیوں سے آزاد ہو۔ تو پھر سوچیں کہ ایسی دنیا میں ہماری نقل و حمل کیسی ہوگی۔ کون جانتا ہے کہ مستقبل میں ہم کس قسم کی گاڑیاں یا ذرائعِ سفر استعمال کریں گے۔ اسی لیے مستقبل کا تصور کرنا واقعی بہت مشکل ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ آج سے پچاس سال بعد جب لوگ ہمارے زمانے کو دیکھیں گے تو انہیں ہمارا دور پتھر کے زمانے جیسا محسوس ہوگا۔ اس لیے مستقبل کے بارے میں ہماری موجودہ پیش گوئیاں اس حقیقت کے مقابلے میں بہت محدود ثابت ہوں گی کہ حقیقت میں مستقبل میں ہمارے پاس کیا کچھ ہوگا۔
میزبان: کیا یہ بات درست ہے کہ زیادہ تر سائنس دان ملحد ہیں؟ اور یہ تصور کیوں پایا جاتا ہے کہ انسان جتنا زیادہ سائنس میں آگے بڑھتا ہے، اتنا ہی ایمان سے دور ہوتا جاتا ہے؟
پروفیسر یونس چنگیل: اگر اعداد و شمار (Statistics) کو دیکھا جائے تو عام آبادی میں تقریباً نوے فیصد لوگ کسی نہ کسی خالق (Creator) پر ایمان رکھتے ہیں۔ دنیا کے سائنس دانوں کو دیکھا جائے تو میرے علم میں موجود تازہ ترین تحقیق کے مطابق یہ تناسب تقریباً پچاس فیصد ہے۔ یعنی نصف سے زیادہ سائنس دان کسی اعلیٰ ہستی (Higher Being)، کسی بالاتر اقتدار (Higher Authority) یا خالق کے وجود پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ تصور کہ سائنس دان خدا پر ایمان نہیں رکھتے، درست نہیں ہے۔ تحقیق اس تصور کی تائید نہیں کرتی۔ مسئلہ شاید یہ ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں رکھتے، وہ زیادہ بلند آواز میں اپنی بات کرتے ہیں۔ اس لیے وہ زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں اور ان کے خیالات زیادہ سنائی دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور ایمان میں کوئی بنیادی تضاد نہیں۔ سائنس بنیادی طور پر مشاہدہ پذیر (Observable) اور طبعی (Physical) دنیا کا مطالعہ کرتی ہے، جبکہ مذہب غیر مادی (Nonphysical) حقائق، مثلاً خدا، فرشتوں اور دیگر مابعد الطبیعیاتی (Metaphysical) امور سے متعلق ہے۔ لہٰذا جب کوئی سائنس دان یہ کہتا ہے کہ خدا موجود ہے تو یہ اس کا ایمان ہے۔ اسی طرح جب کوئی سائنس دان یہ کہتا ہے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں تو یہ بھی اس کا ایک اعتقادی موقف ہے، سائنس کا ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ سائنس یہ لازم نہیں کرتی کہ انسان خدا پر ایمان نہ رکھے۔ ایسا کوئی اصول نہیں ہے۔
میزبان: تو پھر اتنے ذہین لوگ اس نتیجے تک کیوں نہیں پہنچ پاتے؟ انہیں یہ حقیقت نظر آنے سے کیا چیز روکتی ہے؟
پروفیسر یونس چنگیل: اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ میرے خیال میں انا (Ego) ہے۔ بہت سے سائنس دانوں میں اپنی علمی قابلیت کا بہت زیادہ احساس ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ جاننے والے لوگ ہیں۔ جب وہ ایسی ہستی کا تصور کرتے ہیں جو ہر چیز پر قادر ہو اور پوری کائنات کو بیک وقت دیکھ رہی ہو تو ان کے لیے ایسی ہستی کا تصور کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ اپنی تحقیق کے دوران انہوں نے ایسی ہستی کو براہِ راست نہیں دیکھا۔ جب آپ کسی ایسی چیز کے بارے میں بات کریں جسے انہوں نے کبھی نہیں دیکھا تو وہ اس سے دور رہنے لگتے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ اچھا، مجھے اس جیسی کوئی چیز دکھائیں۔ وہ علت و معلول (Cause and Effect) کے تعلقات کو دیکھتے ہیں اور پھر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کسی چیز کی وجہ جان لینا ہی کافی ہے۔ یہی چیز انہیں ایک اہم حقیقت دیکھنے سے روک دیتی ہے۔ وہ پردے کے پیچھے موجود اس خفیہ ہاتھ کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو پورے نظام کو قائم رکھتا ہے۔
مثلاً جب بھی آپ ہائیڈروجن (Hydrogen) اور آکسیجن (Oxygen) کو مخصوص حالات میں ملاتے ہیں تو پانی (Water) بنتا ہے۔ چونکہ یہ نتیجہ ہر مرتبہ سامنے آتا ہے، اس لیے ہمیں یہ سب کچھ خودکار (Automatic) محسوس ہونے لگتا ہے۔ اسی طرح ایک بیج کو مٹی میں ڈالیں اور انتظار کریں تو اس سے جڑیں نکلتی ہیں، پھر پتے اور تنا بنتا ہے، اور آخرکار وہ سیب، چیری یا کوئی اور پھل پیدا کرنے والا درخت بن جاتا ہے۔ جب ہم صرف علت کو دیکھتے ہیں اور نتیجہ مسلسل سامنے آتا دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ تاثر پیدا ہونے لگتا ہے کہ نتیجہ خود بخود وجود میں آ رہا ہے۔ یہی چیز ایک فریب (Illusion) پیدا کرتی ہے کہ تمام چیزیں خود ہی ہو رہی ہیں اور طبیعی قوانین (Laws of Physics) اور قوتیں (Forces of Physics) ہی کافی ہیں۔ لیکن وہ کافی نہیں ہیں۔
ایک سادہ سی سوئی کو دیکھیں۔ اس کے ایک سرے پر سوراخ اور دوسرے سرے پر نوک دار کنارہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو آثارِ قدیمہ (Archaeology) کی کسی کھدائی میں ایسی سوئی ملے تو آپ فوراً کہیں گے کہ اسے کسی باشعور اور ارادے رکھنے والی ہستی نے بنایا ہوگا، جس کے پاس علم اور اسے بنانے کی صلاحیت تھی۔ لیکن جب یہی لوگ سیب کے درخت کو دیکھتے ہیں، یا ایک خلیے (Cell) کو دیکھتے ہیں جس کے اندر اربوں مالیکیولز (Molecules) باہم مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں، یا ایک پتے کو دیکھتے ہیں جو ایک کیمیائی کارخانے (Chemical Factory) کی طرح کام کر رہا ہے، تو نہ جانے کیوں وہ اسی منطق کو یہاں استعمال نہیں کرتے۔ یہاں بھی بے پناہ علم، نظم، مقصد اور حکمت نظر آتی ہے۔
طبیعی قوانین اور قوتیں بذاتِ خود کسی مقصد کا تعین نہیں کرتیں۔ اس لیے میرے خیال میں بالآخر لوگ اس حقیقت تک پہنچیں گے کہ قوانینِ طبیعیات سے آگے بھی کچھ موجود ہے۔ میرا خیال ہے کہ سائنسی برادری (Scientific Community) صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور بالآخر سائنس دان یہ سمجھیں گے کہ اس مادی دنیا سے آگے بھی کچھ ہے۔
میزبان: تو کیا خدا پر ایمان رکھنے والے سائنس دان اکثریت میں ہیں؟ لیکن سائنسی برادری میں طاقت اور اختیار کیا ایسے سائنس دانوں کے ہاتھ میں ہے جو خدا کو نہیں مانتے؟ مثلاً اگر آپ کسی تحقیقی مضمون میں خالق کا حوالہ دیں تو کیا آپ آزادانہ طور پر اسے شائع کر سکتے ہیں؟
پروفیسر یونس چنگیل: مجھے تو اس میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔ میری اپنی تحقیق کا میدان توانائی ہے اور اس میں کوئی نظریاتی یا مذہبی وابستگی نہیں۔ توانائی، توانائی ہے۔ اسی طرح طبیعی علوم (Physical Sciences)، مثلاً طبیعیات (Physics)، کیمسٹری (Chemistry) اور انجینئرنگ (Engineering) میں مجھے کوئی خاص مسئلہ نظر نہیں آتا۔ لیکن حیاتیاتی علوم (Life Sciences) میں، جہاں زندہ مخلوقات کا معاملہ آتا ہے، وہاں میرے خیال میں بہت زیادہ تعصب (Prejudice) موجود ہے۔ وہاں ایک رجحان پایا جاتا ہے کہ ہر چیز کو طبیعیات تک محدود کر دیا جائے، حتیٰ کہ زندگی کو بھی۔
مثلاً زندگی کو صرف کیمیائی تعاملات (Chemical Reactions) کا نام دے دیا جاتا ہے۔ لیکن کیمیائی تعاملات نے کبھی زندگی پیدا نہیں کی۔ اس لیے یہ دعویٰ ابتدا ہی سے ایک مسئلہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ نظریہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ ہر چیز اتفاقاً (Randomly) وجود میں آئی اور سب کچھ خود بخود ہو گیا۔ میرے خیال میں یہ ایک طرح سے مسلط شدہ نظریہ بن جاتا ہے۔ اگر آپ ایسی بات کریں جو اس نظریے کے خلاف ہو تو مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
لیکن مجھے لگتا ہے کہ اب ماحول زیادہ صحت مند سمت میں جا رہا ہے۔ ماضی میں مادہ (Matter) ہی سب کچھ سمجھا جاتا تھا، یعنی مادیت پسندانہ تصورِ کائنات (Materialistic Worldview) غالب تھا۔ لیکن آج میرا خیال ہے کہ تقریباً پوری سائنسی دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ بنیادی اہمیت صرف مادے کی نہیں بلکہ معلومات اور علم (Information and Knowledge) کی بھی ہے۔ آج بہت سے نمایاں مصنفین زندگی کو “علم” سے تعبیر کرتے ہیں، اور علم بذاتِ خود غیر مادی (Nonphysical) چیز ہے۔
مثال کے طور پر ڈی این اے (DNA) میں موجود معلومات کو دیکھیں۔ وہاں کچھ ایٹمز (Atoms) کے مجموعے اور مخصوص علامات موجود ہیں جو معلومات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان علامات اور معلومات کو بعض اوقات ایسے دکھایا جاتا ہے جیسے وہ خود ایک بااختیار، باشعور اور ماہر ایجنٹ (Agent) ہوں، حالانکہ وہ خود ایسا نہیں ہیں۔ اس لیے ابھی بھی بات مکمل طور پر واضح نہیں ہوئی۔ تاہم یہ ایک پیش رفت ضرور ہے کہ علم کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
میزبان: آپ معلومات اور علم کی اس مثال کو مزید آسان انداز میں کیسے سمجھائیں گے؟
پروفیسر یونس چنگیل: بالآخر لوگ یہ سمجھیں گے کہ علم کی علامتیں خود کسی کام کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ مثلاً ایک نسخہ (Recipe) لیجیے کہ کیک کیسے بنانا ہے۔ آپ کے پاس کیک بنانے کے تمام اجزا موجود ہیں اور ساتھ ایک نسخہ بھی موجود ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کیا کرنا ہے۔ اب اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ معلومات خود ان اجزا کو لے کر کیک بنا دے گی تو ایسا نہیں ہوگا۔ معلومات خود کچھ نہیں کرتی۔ اس وقت بعض لوگ معلومات کو ایک باشعور اور طاقتور ہستی کی طرح پیش کرتے ہیں، حالانکہ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ بالآخر لوگ سمجھیں گے کہ ایٹمز کے یہ مجموعے، چاہے وہ کسی جین (Gene) میں ہوں یا کسی لفظ، جملے یا نسخے کی کتاب میں، خود کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ خود کو پڑھ نہیں سکتے، خود معلومات کو سمجھ نہیں سکتے اور نہ ہی خود ان ہدایات پر عمل کر سکتے ہیں۔ مثلاً ایک خلیے میں آر این اے (RNA) کسی جین کی نقل (Copy) بناتا ہے اور پھر درست امائنو ایسڈز (Amino Acids) استعمال کرکے درست پروٹین (Protein) تیار کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ اس پورے عمل کا کریڈٹ جین میں موجود ہدایات کو دے دیتے ہیں۔ لیکن ہدایات خود کچھ نہیں کرتیں۔
ہم ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ ایک سائیکل منگواتے ہیں جسے جوڑنے کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔ آپ سائیکل کے تمام پرزے نکال کر ہدایات کی کتاب ان کے پاس رکھ دیں اور انتظار کریں کہ ہدایات خود پرزوں کو جوڑ کر سائیکل بنا دیں گی۔ ایسا نہیں ہوگا۔ آپ کو ایک ایسے عامل یا ایجنسی (Agency) کی ضرورت ہوگی جو ان ہدایات کو پڑھ سکے، انہیں سمجھ سکے اور اپنی مہارت سے ان پر عمل کرکے مختلف حصوں کو جوڑ سکے۔ اس کے لیے قدرت (Power) اور صلاحیت بھی درکار ہوگی۔
میزبان: اور شعور، آزاد ارادہ اور کسی عمل کو شروع کرنے کی صلاحیت کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
پروفیسر یونس چنگیل: شعور (Consciousness)، آزاد ارادہ (Free Will) اور کسی عمل کو شروع کرنے کی صلاحیت (Initiation) جیسے موضوعات بھی اسی بحث کا حصہ ہیں۔ یہ محض برقی سگنلز (Electrical Signals) سے متعلق بات نہیں۔ مثلاً ایک موبائل فون کو دیکھیں۔ اس میں بے شمار سرگرمیاں جاری رہتی ہیں، کچھ اعتبار سے وہ دماغ کی طرح پیچیدہ معلوم ہوتا ہے، لیکن موبائل فون خود کسی شخص کو فون کرنے کا فیصلہ نہیں کرتا۔ وہ محض ایک غیر فعال نظام (Passive System) ہے۔ ان سگنلز کو خود کوئی ارادہ حاصل نہیں۔ اسے کسی بیرونی عامل (Agency) کی ضرورت ہوتی ہے جو فیصلہ کرے کہ کس شخص کو فون کرنا ہے۔ آپ کمپیوٹر یا موبائل فون کو میز پر رکھ دیں تو وہ وہیں پڑا رہے گا۔ وہ خود سے کوئی مقصد طے کرکے عمل شروع نہیں کرے گا۔ میرا خیال ہے کہ بالآخر ہم اس حقیقت تک پہنچیں گے۔
تخلیق (Creation) اور وجود (Existence) کے مرکز میں علم کو تسلیم کرنا ایک بہت بڑا قدم ہے۔ اور یہ بات آج بھی کسی حد تک سامنے آ رہی ہے۔ میں جتنی کتابیں اور تحقیقی مضامین پڑھتا ہوں، ان میں زندگی کو تقریباً ہمیشہ مقصد رکھنے والی (Purposive) چیز کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی مقصد موجود ہے تو ظاہر ہے کہ اس مقصد کے پیچھے کوئی ایسی ہستی ہوگی جو مقصد رکھتی ہے۔ اور جب کسی کام میں مقصد کے ساتھ عمل ہو رہا ہو تو اس کے ساتھ علم، مہارت اور قدرت بھی موجود ہوگی۔
میزبان: کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کو ہر لمحے ہر واقعے میں براہِ راست مداخلت کرکے کائنات کو چلانا پڑتا ہے؟ کیونکہ بظاہر بعض لوگوں کے لیے یہ بات مشکل ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ خدا نے ایک مکمل اور بہترین نظام قائم کر دیا ہو اور پھر اسے خود بخود چلنے کے لیے چھوڑ دیا ہو؟ لوگ اس کی مثال ایک قدیم پینڈولم گھڑی (Pendulum Clock) سے دیتے ہیں۔ آپ گھڑی کو ایک بار چلا دیں تو اس کا پینڈولم آگے پیچھے حرکت کرتا رہتا ہے۔
پروفیسر یونس چنگیل: سادہ چیزوں کے لیے یہ مثال قابلِ فہم ہے، لیکن کائنات اتنی سادہ نہیں۔ کائنات ایک نہایت پیچیدہ نظام (Complex System) ہے۔ فرض کریں ایک کارخانہ (Factory) قائم کیا جائے۔ ابتدا میں آپ نے تمام مشینیں نصب کر دیں، قوانین اور نظام بنا دیے اور پھر کہا کہ اب کسی مینیجر (Manager)، کسی کارکن (Worker) یا کسی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں، کارخانہ خود ہی ہمیشہ چلتا رہے گا۔ دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا کرنے کی جرأت نہیں کرے گا، کیونکہ جب نظام پیچیدہ ہو تو بہت سی چیزیں خراب ہوتی ہیں اور وہ بہت جلد رک جاتا ہے۔ اسے مسلسل دیکھ بھال (Maintenance) کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور فرض کریں کہ کارخانہ کسی طرح چلتا بھی رہے، لیکن اگر اس میں نئی چیزیں پیدا کرنے کی صلاحیت نہ ہو تو پھر سب کچھ جامد (Static) ہو جائے گا۔
کائنات کی آج ایک تصویر لے کر اگلے دن دیکھیں تو سب کچھ ویسا ہی نہیں ہوتا۔ کائنات میں ہر لمحہ تبدیلی آ رہی ہے۔ نئی چیزیں وجود میں آ رہی ہیں۔ پھول کھل رہے ہیں، جانور پیدا ہو رہے ہیں، خلیے بن رہے ہیں۔ ہر لمحہ ایک نئی کیفیت سامنے آ رہی ہے۔ اس قدر پیچیدہ کائنات کو محض خود اپنے حال پر چھوڑ دینا اور یہ توقع کرنا کہ وہ ہمیشہ اسی طرح چلتی رہے گی، ایک قابلِ اطمینان تصور نہیں۔ لاشعور (Unconscious)، بے مقصد قوانین اور طبیعی قوتیں خود سے ان تمام چیزوں کو پیدا نہیں کر سکتیں۔ ان کے پیچھے ارادہ (Intent)، معلومات (Information) اور قدرت (Power) موجود ہے، اور یہی چیز مسلسل عمل اور نگہداشت کا تقاضا کرتی ہے۔
میزبان: مادی نقطۂ نظر رکھنے والے سائنس دان یہ کہتے ہیں کہ ماضی میں بہت سی چیزیں ایسی تھیں جن کی ہمیں وضاحت معلوم نہیں تھی، لیکن سائنس ترقی کرتی گئی اور وہ خلا آہستہ آہستہ پُر ہوتے گئے۔ اگر خدا کے وجود کے لیے آپ ایسی چیزوں کو دلیل بناتے ہیں جن کی آج سائنسی وضاحت نہیں، تو مستقبل میں سائنس شاید ان کی وضاحت کر دے گی۔ اس اعتراض کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
پروفیسر یونس چنگیل: جب زندگی کی بات آتی ہے تو معاملہ مختلف ہے، کیونکہ زندگی غیر مادی (Nonphysical) ہے۔ اگر زندگی مکمل طور پر مادی ہوتی تو شاید ہم اب تک اسے دریافت کر چکے ہوتے۔ لیکن صرف کسی چیز کی وضاحت کر دینا مسئلے کو ختم نہیں کرتا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب کسی چیز کی وضاحت ہو جائے تو بات ختم ہوگئی۔ مثلاً ایک انجینئر موبائل فون کے بارے میں مکمل وضاحت دے سکتا ہے کہ یہ کیسے کام کرتا ہے، اس کے تمام حصے کیا ہیں اور ہر حصہ کیا کرتا ہے۔ لیکن اس سے یہ حقیقت ختم نہیں ہو جاتی کہ اس فون کے پیچھے انجینئرز کی ایک پوری ٹیم موجود تھی۔
قدرت کے قوانین اور قوتیں خود کسی مقصد کے ساتھ کام نہیں کرتیں۔ اگر کوئی چیز کسی خاص مقصد کے لیے کام کر رہی ہے اور مخصوص وظائف (Functions) انجام دے رہی ہے تو اس کے پیچھے ارادہ، شعور، علم اور قدرت موجود ہوگی۔ یعنی ایسی ہستی موجود ہوگی جس کے اندر یہ صفات ہوں۔ مثلاً میں آپ کو ڈائیلاسس مشین (Dialysis Machine) دکھا سکتا ہوں جو مصنوعی گردے (Artificial Kidney) کا کام کرتی ہے۔ میں ایک انجینئر کی حیثیت سے آپ کو پوری وضاحت دے سکتا ہوں کہ یہ کیسے بنائی گئی، اس کے حصے کیا ہیں اور وہ کس طرح کام کرتے ہیں۔ لیکن اس وضاحت سے بات ختم نہیں ہوتی۔ اس مشین کے پیچھے انجینئرز کی ایک پوری ٹیم موجود ہے، جنہوں نے پہلے اس کا تصور پیش کیا، پھر اس کا ڈیزائن بنایا، اس کے لیے علم اور مہارت استعمال کی اور آخرکار اسے تیار کیا۔ اس لیے کسی چیز کی کارکردگی کی وضاحت کر دینا اس کے پیچھے موجود علم، ارادے اور بنانے والے کو ختم نہیں کرتا۔
میزبان: تو سائنس روح (Soul) کے تصور کو کیسے سمجھاتی ہے؟ کیا ہمارے تمام تجربات صرف ہارمونز (Hormones) کے ذریعے سمجھائے جا سکتے ہیں؟ ہماری خوشی، غم اور دوسرے جذبات کا کیا معاملہ ہے؟ جب ہم خوش ہوتے ہیں تو کیا ہماری روح خوشی محسوس کرتی ہے، یا ہم صرف اس لیے خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے جسم میں کچھ ہارمونز خارج ہوتے ہیں؟
پروفیسر یونس چنگیل: ظاہر ہے کہ ہماری تمام داخلی اور شخصی کیفیات (Subjective Experiences) غیر مادی ہیں۔ مثلاً اگر میں اپنے ہاتھ میں سوئی چبھنے کا احساس کرتا ہوں تو مجھے درد محسوس ہوتا ہے۔ جسمانی طور پر دیکھا جائے تو وہاں ایک برقی سگنل (Electrical Signal) پیدا ہوتا ہے جو دماغ تک پہنچتا ہے۔ دماغ بھی آخرکار جسم کا ایک مادی عضو ہے۔ یہ بھی الیکٹرانز، پروٹانز اور دوسرے ذرات ہی سے بنا ہوا ہے، اس میں نیورونز (Neurons) موجود ہیں۔ یہ کوئی ایسا عضو نہیں جس میں کوئی الگ قسم کی طبیعیات (Physics) کام کر رہی ہو۔ لیکن پھر اچانک مجھے درد کا احساس ہوتا ہے۔ اسی طرح جب میں کوئی انتہائی خوشگوار چیز کرتا ہوں تو برقی سگنلز دماغ تک پہنچتے ہیں، لیکن مجھے وہاں لذت (Pleasure) کا احساس ہوتا ہے۔ خوف، خوشی، ذائقہ، لمس اور بصارت، یہ سب ہماری داخلی کیفیات ہیں۔ طبیعی ذرات صرف الیکٹران، پروٹان اور نیوٹران کو جانتے ہیں۔ وہ خود درد، خوشی یا ذائقے کو نہیں جانتے۔ تو پھر یہ تجربات کہاں پیدا ہوتے ہیں؟
مثلاً آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، لیکن حقیقت میں آپ براہِ راست مجھے نہیں دیکھ رہے۔ یہاں روشنی موجود ہے۔ وہ میرے جسم سے منعکس ہوتی ہے، آپ کی آنکھوں تک پہنچتی ہے، آنکھ اسے جذب کرکے برقی سگنل میں تبدیل کرتی ہے، اور پھر وہ سگنلز دماغ تک پہنچتے ہیں۔ اس مرحلے پر اصل روشنی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ صرف برقی سگنلز دماغ تک پہنچتے ہیں۔ دماغ میں ہزاروں بلکہ کبھی لاکھوں سگنلز موجود ہوتے ہیں، لیکن پھر ان سگنلز سے ایک ایسا تجربہ وجود میں آتا ہے جس میں میرے چہرے اور جسم کی ایک تصویر آپ کے ذہن میں بنتی ہے۔ جو کچھ آپ دیکھتے ہیں، وہ دراصل آپ کے دماغ میں تشکیل پانے والی ایک ورچوئل رئیلٹی (Virtual Reality) جیسی تصویر ہے۔ آپ براہِ راست مجھے نہیں دیکھتے، بلکہ آپ کے ذہن میں میری تصویر تشکیل پاتی ہے۔
اسی طرح آپ حقیقتاً میری آواز بھی براہِ راست نہیں سنتے۔ آواز کے ذریعے پیدا ہونے والی لہریں آپ کے کان تک پہنچتی ہیں، وہاں برقی سگنلز بنتے ہیں اور وہ دماغ تک پہنچتے ہیں۔ دماغ کے اندر کوئی آواز کی لہریں نہیں ہوتیں۔ وہاں صرف برقی اور کیمیائی سرگرمیاں ہوتی ہیں، لیکن ان سے ہمارے لیے آواز کا تجربہ پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم کچھ کھاتے ہیں تو ذائقے اور لذت کا تجربہ بھی اسی طرح پیدا ہوتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ دماغ کے ساتھ کوئی ایسی چیز وابستہ ہے جو ان تمام تجربات کو محسوس کرتی ہے۔ دنیا کے تقریباً ہر معاشرے میں اس چیز کو روح (Soul) کہا گیا ہے۔ کیونکہ دماغ بذاتِ خود محض مادی مادہ ہے، اور محض مادے سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ درد، خوشی، آواز، ذائقہ یا بصارت جیسے شخصی تجربات کیسے محسوس کرتا ہے۔ درحقیقت ہماری تمام حسی کیفیات، یعنی آواز، ذائقہ، لمس، درد اور خوشی، ہمارے اندر تشکیل پاتی ہیں۔ پھر ہم اسی تشکیل دی ہوئی دنیا میں زندگی گزارتے ہیں۔ ایک لحاظ سے ہم ایک تین بُعدی (Three-dimensional) ورچوئل رئیلٹی میں رہ رہے ہوتے ہیں۔ آج ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی نہیں جو اس تجربے کو مکمل طور پر نقل کر سکے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا کوئی غیر مادی چیز بھی موجود ہے؟ میرا جواب یہ ہے کہ آپ پہلے ہی ایک غیر مادی تجربے کی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔
میزبان: آپ نے کہا کہ طبیعیات بھی صرف مادے اور ذرات کا نام نہیں۔ اس بات کو آپ مزید واضح کریں گے؟
پروفیسر یونس چنگیل: طبیعیات (Physics) کے قوانین (Laws of Physics) خود کسی ذرے سے نہیں بنے۔ وہ الیکٹران، پروٹان یا نیوٹران سے نہیں بنے۔ لیکن ان قوانین کے بغیر طبیعیات کا وجود ہی ممکن نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تخلیق کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جو غیر مادی ہے اور جو طبیعی دنیا کے معاملات پر اثر انداز ہوتا ہے، یعنی یہ طے کرتا ہے کہ چیزیں کس طرح عمل کریں گی اور کیا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح طبیعی قوتیں (Physical Forces) بھی محض مادی اجزا نہیں بلکہ اثرات (Influences) ہیں۔ قوانین اور قوتیں مل کر طبیعی دنیا کے نظام کو چلاتی ہیں۔ بعض مفکرین نے انہیں کائنات کی حکومت (Government of the Universe) سے تعبیر کیا ہے، جبکہ آئن اسٹائن نے طبیعی قوانین کو کائنات کی روح (Spirit of the Universe) سے تشبیہ دی۔ گویا کائنات کی ایک روح یا نظام ہے جو اسے منظم کرتا ہے۔ طبیعی قوانین اور قوتیں خود مادی ذرات نہیں ہیں، لیکن ان کے بغیر مادی دنیا کا نظام قائم نہیں رہ سکتا۔
مثلاً ہائیڈروجن میں ایک پروٹان ہوتا ہے اور وہ ہائیڈروجن کی مخصوص خصوصیات (Properties) ظاہر کرتا ہے۔ ہیلیم میں دو پروٹان ہوتے ہیں اور اس کی خصوصیات ہائیڈروجن سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ اسی طرح سونے (Gold) کی مثال لیجیے۔ جب ایٹمی ساخت مخصوص ترتیب اختیار کرتی ہے تو مادہ سونے کی مخصوص خصوصیات ظاہر کرتا ہے۔ ایک ہی بنیادی قسم کے ذرات مختلف ترتیب اور ساخت میں مختلف خصوصیات پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ہائیڈروجن اور آکسیجن کو ملا کر پانی بنائیں تو پانی کی خصوصیات دونوں عناصر کی الگ الگ خصوصیات سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ آپ صرف ہائیڈروجن اور آکسیجن کو دیکھ کر پانی کی تمام خصوصیات کا اندازہ نہیں لگا سکتے، آپ کو اسے دیکھنا پڑتا ہے۔ اور جب پانی کو دوبارہ ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کر دیا جاتا ہے تو پانی کی وہ خصوصیات ختم ہو جاتی ہیں۔ گویا نئی خصوصیات ایک نئی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں اور پھر ساخت کے بدلتے ہی غائب ہو جاتی ہیں۔
میزبان: پروفیسر یونس چنگیل، آپ کے جوابات کا بہت شکریہ۔ آپ نے نہایت معلوماتی اور بصیرت افروز گفتگو کی۔ ان شاء اللہ مستقبل میں بھی آپ سے مختلف موضوعات اور منصوبوں کے حوالے سے ملاقات کا موقع ملے گا۔
پروفیسر یونس چنگیل: بہت شکریہ۔ آپ سے گفتگو کرکے مجھے بھی بہت خوشی ہوئی۔
ویڈیو لنک:
![]()

