سائنس کا آخری سوال — “خالق کون ہے؟”
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات بہت خاموش تھی۔ شہر کی روشنیاں آہستہ آہستہ مدھم ہو رہی تھیں، مگر ایک عمارت کی سب سے اوپر والی منزل میں اب بھی روشنی جل رہی تھی۔ وہاں ایک سائنسدان اپنی لیبارٹری میں اکیلا بیٹھا تھا۔ اُس کے سامنے کمپیوٹر اسکرینوں پر کائنات کی تصویریں تھیں۔ کہکشائیں، ستارے، بلیک ہولز، نیبولا، اور اربوں نوری سال دور موجود دنیائیں۔
وہ برسوں سے کائنات کے راز تلاش کر رہا تھا۔ اُس نے ایٹم کے اندر جھانکا تھا، ڈی این اے کو پڑھا تھا، خلا کی تصویریں دیکھی تھیں، اور وقت کے نظریات پر تحقیق کی تھی۔ دنیا اُسے ایک عظیم ذہن کہتی تھی۔ لوگ اُس کی باتیں سننے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ یونیورسٹیاں اُسے عزت دیتی تھیں۔ مگر آج… اُس کے دل میں عجیب سی خالی جگہ تھی۔
وہ خاموشی سے آسمان کی ایک تصویر دیکھ رہا تھا۔ ایک کہکشاں… جس میں اربوں ستارے تھے۔ اُس نے آہستہ سے خود سے پوچھا:
“اگر یہ سب اتنا منظم ہے… تو پھر اس کے پیچھے کون ہے؟”
یہ سوال اُس نے پہلے بھی کئی بار سنا تھا، مگر ہمیشہ فلسفہ کہہ کر آگے بڑھ گیا تھا۔ لیکن اب مسئلہ مختلف تھا۔ اب سوال صرف زبان پر نہیں، اُس کے دل میں اتر چکا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ سائنس “کیسے” کو سمجھاتی ہے۔ بارش کیسے برستی ہے؟ ستارے کیسے بنتے ہیں؟ جسم کیسے کام کرتا ہے؟ مگر ایک سوال ایسا تھا جس پر آ کر ہر مساوات خاموش ہو جاتی تھی:
“یہ سب کیوں ہے؟”
کائنات کیوں بنی؟ زندگی کیوں پیدا ہوئی؟ شعور کیوں موجود ہے؟ محبت کیوں محسوس ہوتی ہے؟ خوف کیوں ہوتا ہے؟ اور انسان آخر مرنے کے بعد کہاں جاتا ہے؟
اُس نے کرسی سے سر ٹیک دیا۔ اُس کی آنکھوں کے سامنے برسوں کی تحقیق گھومنے لگی۔
اُسے یاد آیا جب اُس نے پہلی بار دوربین سے آسمان دیکھا تھا۔ اُس وقت اُسے لگا تھا کہ شاید ایک دن انسان ہر راز جان لے گا۔ مگر جتنا وہ آگے بڑھتا گیا، راز اور گہرے ہوتے گئے۔
ایک وقت تھا جب انسان سمجھتا تھا کہ زمین پوری کائنات کا مرکز ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ زمین ایک معمولی سی جگہ ہے۔ پھر پتہ چلا کہ ہماری کہکشاں بھی اربوں کہکشاؤں میں سے صرف ایک ہے۔
انسان جتنا بڑا خود کو سمجھتا تھا، کائنات اُسے اتنا ہی چھوٹا ثابت کر دیتی تھی۔
سائنسدان نے اسکرین بند کر دی۔ کمرے میں ہلکا سا اندھیرا پھیل گیا۔ اُس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ آسمان پر چمکتے ستارے عجیب خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے۔
اُسے محسوس ہوا جیسے پوری کائنات کوئی خاموش پیغام دے رہی ہو۔
اُسی لمحے اُس کی نظر میز پر رکھی ایک کتاب پر پڑی۔ وہ قرآن تھا۔
یہ کتاب اُسے ایک مسلمان طالبِ علم نے تحفے میں دی تھی۔ اُس وقت اُس نے صرف رسمی شکریہ ادا کیا تھا۔ مگر آج نہ جانے کیوں اُس نے قرآن کو ہاتھ میں اٹھا لیا۔
اُس نے آہستہ سے پہلا صفحہ کھولا۔
الفاظ اُس کے دل میں اترتے چلے گئے۔
وہ آیات پڑھتا گیا جن میں آسمانوں، زمین، ستاروں، سورج، چاند، پہاڑوں، بارش اور انسان کی تخلیق کا ذکر تھا۔
وہ حیران تھا۔
یہ کتاب انسان کو صرف عبادت کی دعوت نہیں دے رہی تھی… بلکہ غور و فکر کی دعوت دے رہی تھی۔
قرآن بار بار کہہ رہا تھا:
“کیا تم غور نہیں کرتے؟”
“کیا تم دیکھتے نہیں؟”
“کیا تم سمجھتے نہیں؟”
اُسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید ایمان اندھی تقلید نہیں… بلکہ شعور کا ایک سفر ہے۔
وہ دیر تک ایک آیت پر رکا رہا:
“اور زمین میں یقین رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، اور خود تمہاری اپنی ذات میں بھی۔ کیا تم دیکھتے نہیں؟”
اُس نے اپنی ہتھیلی کو غور سے دیکھا۔
یہ ہاتھ… یہ جلد… یہ رگیں… یہ دھڑکتا ہوا دل… یہ سوچنے والا دماغ… آخر یہ سب کیسے وجود میں آیا؟
سائنس اُسے مراحل بتا سکتی تھی، مگر ابتدا کا راز اب بھی پردے میں تھا۔
وہ سوچنے لگا:
اگر ایک چھوٹی سی مشین کے پیچھے انجینئر ہوتا ہے، تو پھر اس عظیم کائنات کے پیچھے کوئی خالق کیوں نہیں؟
اگر ہر قانون کے پیچھے قانون بنانے والا ہوتا ہے، تو پھر کائنات کے قوانین خود کیسے وجود میں آ گئے؟
وہ خاموش ہو گیا۔
پہلی بار اُس کی عقل اپنے ہی سوالوں کے سامنے ٹھہر گئی تھی۔
اُسے احساس ہوا کہ سائنس ایک طاقتور چراغ ہے… مگر اُس چراغ کی بھی ایک حد ہے۔
وہ مادّہ دیکھ سکتی ہے، مگر روح نہیں۔
وہ جسم کو سمجھ سکتی ہے، مگر محبت کی اصل حقیقت نہیں۔
وہ دماغ کے سگنلز کو پڑھ سکتی ہے، مگر خوابوں کی گہرائی نہیں۔
وہ کائنات کی وسعت ناپ سکتی ہے، مگر انسان کے دل کی بے چینی نہیں۔
اور پھر ایک لمحہ ایسا آیا جب اُس کے اندر عجیب سا سکون اترنے لگا۔
جیسے دل کہہ رہا ہو:
“تم نے کائنات کو بہت دیکھا… اب اُس کو پہچانو جس نے کائنات بنائی۔”
اُس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
وہ برسوں تک سمجھتا رہا تھا کہ علم انسان کو خدا سے دور لے جاتا ہے۔ مگر آج اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ حقیقی علم انسان کو عاجز بنا دیتا ہے۔
جتنا انسان جانتا ہے، اُتنا ہی اُسے احساس ہوتا ہے کہ ابھی کتنا کچھ باقی ہے۔
اُس نے دوبارہ آسمان کی طرف دیکھا۔
ستارے اب بھی وہیں تھے۔
مگر آج پہلی بار اُسے لگا کہ وہ صرف جلتے ہوئے گولے نہیں… بلکہ نشانیاں ہیں۔
ایسی نشانیاں جو انسان کو اُس کے خالق کی طرف بلاتی ہیں۔
اُس رات اُس سائنسدان نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعتراف کیا:
“سائنس مجھے کائنات تک لے آئی… مگر خالق تک پہنچنے کے لیے مجھے ہدایت کی ضرورت تھی۔”
اور شاید یہی سائنس کا آخری سوال ہے۔
ایسا سوال… جس کے بعد انسان صرف سوچتا نہیں… بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔
![]()

