سادگی سے جدت تک
تحریر۔۔۔حمیراعلیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سادگی سے جدت تک۔۔۔ تحریر۔۔۔حمیراعلیم )ابتدائے آفرینش سے آج تک طرز زندگی، لباس، کھانا پینا اور ٹیکنالوجی تبدیل ہوتے رہے ہیں ۔چند عشروں قبل لوگ صحت مند، توانا اور لمبی عمر رکھتے تھے جس کا راز ایک صحتمند، متوازن اور سادہ غذا اور کھانے کے دو مخصوص اوقات تھے۔کھانا کسی بھی قسم کی بناوٹ، کیمیکلز اور فاسٹ فوڈ سے پاک، بالکل سادہ اور گھر کا پکا ہوا ہوتا تھا۔ اس طرزِ زندگی کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ اس سے نہ صرف وقت کی بے پناہ بچت ہوتی تھی، بلکہ بجٹ پر بھی کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑتا تھا۔ لوگ پورا دن چست و توانا رہتے تھے اور آج کے دور کی موذی بیماریاں جیسے شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض اس دور میں نہ ہونے کے برابر تھے۔
لیکن آج ہماری غذائی عادات بھی باقی طرز زندگی کی طرح بگڑ چکی ہیں۔ہم نے دو وقت کھانے کی بجائے دن میں متعدد بار کھانے : ناشتہ، لنچ، سپر، شام کی چائے، ڈنر اور دوران گفتگو، ٹی وی دیکھتےاسنیکس، کی عادت اپنا لی ہے۔ہماری خوشی اور غم کی تقریبات حتی کہ فوتگی ،قرآن خوانی بھی رنگ برنگے مینیو اور سیون کورس میلز پر مشتمل ہوتی ہیں۔ہماری ساری توجہ کھانے پر مرکوز ہوتی ہے۔اس غلط عادت کے طبی اثرات کے متعلق نیوٹریشنسٹ مس فائزہ حنیف کہتی ہیں:
”ہمارے ہسپتالوں میں آنے والے 70 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کی بیماریوں کی بنیادی وجہ ضرورت سے زیادہ کھانا ہے۔ پرانے دور میں لوگ صرف بھوک لگنے پر کھاتے تھے۔جبکہ آج کا انسان بوریت ختم کرنے، خوشی منانے یا محض فیشن کے طور پر کھاتا ہے۔ جب آپ کا معدہ ہر وقت کام کرتا رہے گا، تو جسم کو اپنے خلیات کی مرمت کا وقت ہی نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ کینسر، ذیابیطس اور جگر کے امراض میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔ سادہ اور کم کھانا ہی انسانی جسم کو چست رکھ سکتا ہے۔”
گیسٹرو انٹرالوجسٹ ڈاکٹر ڈاکٹرنیاز،احمد کہتے ہیں:
”ہمارے پاس روزانہ معدے کی تیزابیت، السر، اور فیٹی لیور کے سینکڑوں مریض آتے ہیں۔ جب ہم ان کی ہسٹری لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا معدہ کبھی خالی ہی نہیں رہتا۔ رات کو 12 بجے بھاری کھانا کھانا اور پھر سو جانا ایک عام معمول بن چکا ہے۔ قدیم دور کا دو وقت کا سادہ کھانا ہمارے نظامِ ہضم کے لیے بہترین تھا۔ جدید میڈیکل سائنس اب گھٹنے ٹیک کر اسی بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ جتنا کم اور سادہ کھایا جائے گا، عمر اتنی ہی طویل اور صحت مند ہوگی۔”
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نہ صرف اپنا پیسہ برباد کرتے ہیں بلکہ چپس، بسکٹس، اسنیکس بس کیلیوریز ہیں جو چربی بڑھاتے ہیں کوئی فائدہ نہیں دیتے۔اگر ہم اپنے بزرگوں کی طرح سادہ اور فائبر و پروٹین سے بھرپور دو وقت کے کھانے کا آغاز کر دیں تووقت اور پیسے کی بچت کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کی بھاری فی سے بھی بچ سکتے ہیں۔
آج سائنس جن فیکٹس کو ایکسپلور کر رہی ہے اسلام نے 1400سال پہلے ہمیں ان سے آگاہ کر دیا تھا۔محمد ﷺ نے ہمیں صحت کا ایک ایسا سنہری اصول عطا فرما دیا تھا جس کا ثانی نہیں۔” ابنِ آدم کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھ سکیں۔ اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو (معدے کے تین حصے کر لے) ایک حصہ کھانے کے لیے، ایک حصہ پانی کے لیے اور ایک حصہ سانس (ہوا) کے لیے۔” ترمذی
معدے کو پورا بھر دینے سے نظامِ ہضم پر شدید دباؤ پڑتا ہے، دل پر بوجھ بڑھتا ہے، سستی پیدا ہوتی ہے اور انسان کی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں مفلوج ہو جاتی ہیں۔نبیﷺ اور صحابہ کرام صرف توانائی حاصل کرنے کے لیے کھاتے تھے چنانچہ دودھ، کھجور یا بھنے گوشت سے استفادہ فرماتے تھے
یہی وجہ ہے کہ وہ جسمانی طور پر انتہائی مضبوط، چست اور جنگوں کے میدانوں میں طویل مسافتیں طے کرنے کے باوجود بیمار نہیں ہوتے تھے۔
اسلام کے اس اصول کو اپناتے ہوئے مغربی ڈاکٹرز اور ہاسپٹلز جن میں میو کلینک امریکہ، جان ہاپکنز ہاسپٹل امریکہ ، دا کلینیکل نیٹریشن سینٹر انگلینڈ شامل ہیں، بھی انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی طرف جا رہے ہیں۔ان جگہوں پر ٹائپ ٹو ڈائیبٹیز، میٹیا بولک سینڈروم، موٹاپے، پارکنسنز، الزائمر کا علاج انٹرمٹنٹ فاسٹنگ سے کیا جا رہا ہے۔جس میں کھانے کے وقت کا تعین کر کے علاج کیا جا رہا ہے۔جو دراصل ہمارے روزے کی ایک شکل ہے۔انسان دن کے 24 گھنٹوں میں سے 16 گھنٹے مسلسل روزے یا فاقے کی حالت میں رہتا ہے ۔اس کے دوران وہ صرف پانی، بغیر چینی کے بلیک کافی یا گرین ٹی پی سکتا ہے۔ اور باقی کے 8 گھنٹوں کے دوران وہ اپنے دن کے دو وقت کا کھانا کھاتا ہے۔
مثلا اگر آپ رات کا کھانا 8 بجے کھاتے ہیں، تو اگلا کھانا اگلے دن دوپہر 12 بجے کھائیں گے۔ یوں صبح کا ناشتہ سکپ ہو جاتا ہے اور جسم کو 16 گھنٹے کا ایک طویل وقفہ مل جاتا ہے جس میں وہ اپنی صفائی خود کر سکتا ۔یوں جسم میں انسولین کی سطح انتہائی کم ہو جاتی ہے۔ اس صورت میں جسم توانائی کے لیے بیرونی غذا پر انحصار کرنے کے بجائے جسم میں پہلے سے موجود چربی کو جلانا شروع کر دیتا ہے۔ آٹو فیجی کے تحت جسم کے تندرست خلیات، اندر موجود بیکار، مردہ اور بیمار خلیات کو خود ہی کھا کر ختم کر دیتے ہیں اور نئے، صحت مند خلیات پیدا ہوتے ہیں۔ اس دریافت پر 2016 میں جاپان کے ایک سائنسدان Yoshinori Ohsumi کو نوبل انعام بھی دیا گیا۔
اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ بیماریوں اور مہنگے علاج سے بچیں تو ہمیں اپنی غذائی عادات بدلنی ہوں گی۔اور سادہ غذا اپنانی ہو گی۔یوں بجٹ اور پیسے کی بھی بچت ہو گی اور صحت بھی برقرار رہے گی۔
![]()

