Understanding Quran: سامری کا بچھڑا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انترنیشنل )اگر ہم “بچھڑا” (العجل) کے قرآنی واقعے کو محض ایک تاریخی مجسمہ سمجھنے کی بجائے ایک علامت کے طور پر پڑھیں، تو وہ جدید فلسفیانہ تصور Simulacra سے حیرت انگیز مماثلت رکھتا دکھائی دیتا ہے۔ سورۃ البقرہ (92–93) اور دیگر مقامات پر بنی اسرائیل کا بچھڑا صرف ایک دھاتی مجسمہ نہ تھا بلکہ ایک تخلیق کردہ مرکزِ یقین تھا—ایک ایسا نمائندہ (representation) جسے اصل کی جگہ دے دی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سامری نے سونے کو ڈھال کر ایک ایسی شے پیدا کی جو بظاہر تقدس، طاقت اور الوہیت کی علامت بن گئی۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے ژاں بودریار کے ہاں Simulacra کہا جاتا ہے: جب نقل (copy) اصل (original) سے آزاد ہو کر خود حقیقت کا درجہ اختیار کر لے، بلکہ اصل کی جگہ لے لے۔
قرآن کی تعبیر “أُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ” اس نفسیاتی عمل کو اور بھی گہرا کرتی ہے۔ “أُشربوا” کا مطلب ہے کسی چیز کا دلوں میں اس طرح رچ بس جانا جیسے پانی زمین میں جذب ہو جائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچھڑا صرف ایک خارجی مجسمہ نہیں تھا بلکہ ایک داخلی نفسیاتی ساخت بن چکا تھا۔ یہی وہ لمحہ ہے جب simulacrum بیرونی شے سے بڑھ کر داخلی حقیقت بن جاتا ہے۔
جدید دنیا میں بھی لوگ تصویروں، نظریاتی بیانیوں، قومی اساطیر، کارپوریٹ برانڈز اور ڈیجیٹل شناختوں کو اس طرح جذب کر لیتے ہیں کہ وہ ان کی نفسیاتی حقیقت بن جاتے ہیں، چاہے وہ اپنی اصل سے کتنے ہی دور کیوں نہ ہوں۔
بچھڑا خدا نہیں تھا، مگر خدا کی نمائندگی کے طور پر پیش کیا گیا۔ قرآن کا اعتراض فن یا تخلیق پر نہیں بلکہ اس غلطی پر ہے کہ نمائندگی کو حقیقت سمجھ لیا گیا۔ Simulacra کے نظریے میں بھی یہی عمل دکھائی دیتا ہے:
پہلے اصل ہوتا ہے، پھر اس کی نقل بنتی ہے، پھر نقل اصل سے آزاد ہو جاتی ہے، اور بالآخر اصل غائب ہو جاتا ہے اور نقل ہی حقیقت بن بیٹھتی ہے۔ قرآن کے بیانیے میں موسیٰ کی غیر موجودگی ایک خلا پیدا کرتی ہے، اور بچھڑا اس خلا کو ایک فوری، مرئی اور قابلِ لمس “خدا” کے ذریعے پُر کر دیتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات کی اس کمزوری کی علامت ہے کہ وہ غیر مرئی حق کے بجائے مرئی اور فوری شے کو ترجیح دیتا ہے۔
اگر بچھڑا ایک archetype ہے تو آج اس کی صورتیں بدل چکی ہیں۔ قوم پرستی جب مقدس شناخت بن جائے، سرمایہ جب مطلق قدر کا درجہ اختیار کر لے، میڈیا کا بیانیہ جب حقیقت کی جگہ لے لے، یا ڈیجیٹل اوتار جب اصل شخصیت پر غالب آ جائے—تو یہ سب جدید “بچھڑے” ہیں۔
یہ تب خطرناک بنتے ہیں جب وہ اخلاقی اور وجودی حقیقت کی جگہ لے لیں اور انسان کے شعور میں اس طرح سرایت کر جائیں کہ ان پر سوال اٹھانا مشکل ہو جائے۔
قرآن کی تنبیہ محض بت شکنی نہیں بلکہ تصور شکنی ہے—conceptual iconoclasm۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ تم تصویر یا نمائندگی تخلیق نہ کرو؛ وہ یہ کہتا ہے کہ کسی بھی نمائندگی کو مطلق نہ بنا دو۔ توحید دراصل حقیقت اور نمائندگی کے درمیان فرق کو برقرار رکھنے کا نام ہے، تاکہ کوئی علامت حقیقت کی جگہ نہ لے سکے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ بچھڑا ایک hyper-symbol تھا—ایسا نشان جو اصل سے کٹ کر خود حقیقت بن بیٹھا۔ قرآن ہمیں صرف ایک تاریخی بچھڑے سے نہیں بچاتا بلکہ ہر اس شے سے خبردار کرتا ہے جو ہماری خواہشات کو مطمئن کرے، ہمارے خلا کو پُر کرے، اور پھر حقیقت کی جگہ لے لے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ بچھڑا کبھی تھا یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ آج ہمارے دلوں میں کیا “أُشرب” ہو چکا ہے۔
Changez K
۔۔۔۔۔۔۔۔
![]()

