Daily Roshni News

سجدہ  یا نماز ادا کرنا صرف ایک عبادت ہی نہیں۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سجدہ  یا نماز ادا کرنا صرف ایک عبادت ہی نہیں بلکہ ھمارے جسم اور ذہن کے لیے قدرتی شفاء یا فٹنس کا ایک مکمل پیکج ہے- یہ عبادت کا عمل یعنی رکوع و سجود ھمارے پورے جسم و کمر، گھٹنوں اور جوڑوں کو فائدہ دیتے ہیں، خون کی گردش بہتر کرتے ہیں، دماغ کو زیادہ آکسیجن پہنچاتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ذہنی سکون پیدا کرتے ہیں- یہ ھمارے ایمان اور ھماری صحت کا ایک خوبصورت و حسین امتزاج بھی ھے، جو اسلامی نماز کی سب سے روحانی اور جسمانی طور پر فائدہ مند حالتوں میں سے ایک ہے- بظاہر یہ عبادت کا ایک سادہ عمل لگتا ہے لیکن جب اسے جسمانی (فزیالوجیکل) نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں پٹھوں، جوڑوں، خون کی گردش اور ہڈیوں کی حرکت کا ایک حیرت انگیز امتزاج سامنے آتا ہے-

1- کمر کے نچلے حصے کو راحت 24٪ ، سجدے کے دوران ریڑھ کی ہڈی قدرتی طور پر خم کھاتی ہے، جس سے کمر کے نچلے حصے کے پٹھے کھنچتے اور دباؤ کم ہوتا ہے- یہ لچک بہتر بنانے، اکڑاؤ کم کرنے اور ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ گھٹانے میں مدد دیتا ہے-

2- ٹخنوں کو فائدہ 27٪ ، پاؤں اور ٹخنوں کا جھکاؤ جوڑوں کی حرکت کو بہتر بناتا ہے- اس سے نچلے حصے میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور رباط (Ligaments) لچکدار رہتے ہیں، جو جوڑوں کی صحت اور مضبوطی میں مددگار ہے-

3- انگلیوں (پنجوں) کو فائدہ 13٪ ، پنجوں کو زمین پر مضبوطی سے رکھنے سے پاؤں کے چھوٹے مگر اہم پٹھے متحرک ہوتے ہیں، جس سے توازن بہتر ہوتا ہے، اعصابی تحریک بڑھتی ہے اور پاؤں کی ساخت مضبوط ہوتی ہے-

4- گھٹنوں کو فائدہ 53٪ ، گھٹنوں کے بل بیٹھنے کی یہ حالت جسم کا وزن متوازن انداز میں تقسیم کرتی ہے- درست انداز میں سجود کرنے سے اردگرد کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، جوڑوں کی برداشت بڑھتی ہے اور رانوں کے پٹھوں میں لچک آتی ہے-

5- کلائیوں کو فائدہ 28٪ ، ہتھیلیوں کے ذریعے جسم کا وزن سنبھالنے سے کلائیوں اور بازوؤں کے پٹھے متحرک ہوتے ہیں- یہ عمل کلائیوں کی حرکت برقرار رکھنے اور پٹھوں کی برداشت بڑھانے میں مدد دیتا ہے، خاص طور پر روزانہ نماز میں بار بار دہرانے سے-

خون کی گردش اور دماغ کو آکسیجن کی فراہمی کے دوران سجدے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ سر دل سے نیچے کی جانب ہوتا ہے، جس سے دماغ کی طرف خون کی روانی بڑھ جاتی ہے- اس سے آکسیجن کی بہتر فراہمی ہوتی ہے، جو ذہنی یکسوئی، توجہ اور سکون میں اضافہ کر دیتی ہے- پٹھوں کی سرگرمی اور جسم کے مرکزی حصے کی خاص مضبوطی ہوتی ھے- نماز کے رکوع و سجود میں درج ذیل حصے خاص طور پر متحرک ہوتے ہیں:

جسم کے مرکزی پٹھے (Core muscles)

کندھوں کے معاون پٹھے

کولہوں کے پٹھے

کمر کے پٹھے

کھڑے ہونے، رکوع، سجود اور بیٹھنے کی حرکات مل کر پورے جسم کے لیے ایک نرم مگر مؤثر ورزش بن جاتی ہیں، جس میں لچک، طاقت اور سانس کا توازن شامل ہے- روحانی و نفسیاتی اثرات اور جسمانی فوائد کے ساتھ ساتھ سجدہ عاجزی، سپردگی اور گہرے روحانی تعلق کی علامت ہے- سائنسی طور پر جسم کو نیچا رکھنا اور سکون سے کچھ لمحے ٹھہرے رہنا اعصابی نظام کے اُس حصے کو متحرک کرتا ہے جو سکون اور تناؤ میں کمی کا ذمہ دار ہوتا ہے- عبادت اور صحت کے حسین امتزاج کا یہ تصور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عبادت کے اعمال صرف روحانی ہی نہیں بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہیں- ایمان ہو یا سائنس، دونوں زاویوں سے دیکھا جائے تو رکوع و سجود توازن، نظم و ضبط اور فطری جسمانی حرکت کی ایک بہترین مثال ہے-

Loading