Daily Roshni News

سخاوت کا واقعہ۔۔۔ انتخاب  ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

سخاوت کا واقعہ

انتخاب  ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سخاوت کا واقعہ۔۔۔ انتخاب  ۔۔۔ محمد جاوید عظیمی) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیا اور اپ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں یعنی مالدار بھی ہیں اور امیر بھی یعنی  مسلمانوں کے سربراہ بھی ہیں۔

 عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ ؓ اس کو اپنے گھر لے گئے وہ شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ  تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدنا ابوبکرصدیق(رضی اللہ تعالی عنہ) نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائیے تو فرمانے لگے تین دن سے میں نے ایک دانہ بھی اناج کا نہیں کھایا کھجور پر گزارا کر لیتا ہوں آجکل میرے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہیں تو وہ شخص کہنے لگا حضور اب پھر میں کیا کروں میں تو بہت دور سے امید لگا کر آیا تھا۔

 تو فرمانے لگے تو عثمان غنی  کے پاس جا وہ شخص کہنے لگا مجھےتو بہت سارے پیسے چاہئیں ہیں۔ تو آپ ؓ نے فرمایا تیری سوچ وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے  عثمان کی سخاوت شروع ہوتی تو جو سوچتا ہے اتنے ملیں گے تیری سوچ ختم ہوتی ہے وہاں سے عثمان کی سخاوت شروع ہوتی ہے تو جا ان کے پاس ۔ وہ شخص کہنے لگا آپ کا نام لوں کہ مجھے امیرالمومنین نے بھیجا ہے توفرمانے لگےاس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

 صرف اتنا بتانا کہ میں مقروض ہوں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ کا نوکر ہوں۔ وہ شخض کہنے لگا کے وہ  دلیل ،حوالہ مانگیں گے فرمایا عثمان سخاوت کرتے وقت دلیل یا حوالے نہیں مانگتے عثمان اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے تفتیش نہیں کرتا ،اور سخاوت کرتے وقت ٹٹولنا عثمان کی عادت نہیں ۔

وہ شخص کہتا ہے کہ میں چلا گیا پوچھتے پوچھتے دروازے پر دستک دی حضرت عثمان غنی کے اندر سے بولنے کی آواز آ رہی تھی “اپنے بچوں کو ڈانٹ رہے تھے کہ تم لوگ دودھ کے اندر شہد ملا کر پیتے ہو خرچہ تھوڑا کم کرو اتنا خرچ بڑھا دیا ہے دودھ میٹھا شہد بھی مٹھا ایک چیز استعمال کرلو تم کوئی بیمار تھوڑی ہو”

وہ شخص کہتا ہے میں نے کہا ابوبکر ؓ تو بڑی باتیں بتا رہے تھے یہاں تو دودھ اور شہد پر غصہ ہو رہے ہیں اور مجھے تو کئی ہزار دینار چاہئیں کیا یہ دے دیں گے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئ۔

 وہ باہر آئے اور میں نے کہا اسلام علیکم! انہوں نے سلام کا جواب دیا اور وہ سمجھ گئے کہ میں مسلمان ہوں اور مخاطب ہوکر کہنے لگے معاف کرنا بچوں کو ذرا  ایک بات سمجھانی تھی آنے میں ذرا دیر ہو گئی۔ان کا پہلا جملہ ان کے بڑے پن کا مظاہرہ کر رہا تھا پھر دروازہ کھولا اور مجھے انہوں نے گھر بٹھایا اور میرے لئے جو پہلی چیز پیش کی گئی وہ دودھ میں  شہد ڈال کر دیا گیا اور پھر کھجور کا حلوہ پیش کیا۔

وہ شخص کہتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا عجیب شخص ہے گھر والوں کے ساتھ جھگڑا کر رہے تھے ایک چیز استعمال کیا کرو میرے لیے تین تین چیزیں آگئی ہیں لیکن ابھی میرا تصور جما نہیں تھا میں نے دل میں خیال کیا اتنا تگڑا نہیں جتنا  ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا ہے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ کھلانے پلانے کے بعد پوچھنے لگے کیسے آئے ہو ۔

 میں نے کہا کہ” میں  مسلمان ہوں اور ملک شام کے گاؤں کارہنے والا ہوں اور کچھ کاروباری مشکلات آئیں تو مقروض ہوگیا ہوں اور میرے اوپر قرضہ ہےاور مجھے کچھ پیسوں کی حاجت ہے “

کہنے لگا تو میں نے کچھ پیسے کہا تو انہوں نے ایک آواز دی تو ایک غلام اونٹ پر سامان لدا ہوا لیکر حاضر ہوا۔ وہ شخص کہتا ہے کہ مجھے تین ہزار اشرفیاں چاہیے تھیں ۔ ابھی میں نے بتایا نہیں تھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے کہ” اس اونٹ پر تیرے لیے تیرے گھر والوں کے لئے میں نے کپڑے اور کھانے پینے کا سامان اور 6000 اشرفیاں رکھوا دی ہیں اورتو پیدل آیا تھااب اونٹ لے کر جانا”

یہ شخص کہنے لگا میں نے فورًا سے کہا حضور یہ اونٹ آپ کو واپس کرنے کون آئے گا۔ حضرت عثمان ؓ فرمانےلگے واپس کرنے کے لیے دیا ہی نہیں یہ تحفہ ہے تو لے جا۔

یہ شخص کہتا ہے کہ میں کہاں سے چلا تھا ڈھونڈتا  ہوا اور پھر مدینے میں آیا اور جب مدینے میں آیا تو اللہ نے مجھے جھولی بھر کے عطا فرمایا کہتا ہے میری آنکھوں میں آنسوں آگئے اور میں نے کہا حضور آپ  نے تو مجھے میری ضرورت سے کہیں بڑھ کر نواز دیا ہے معاف کیجئے گا میں سوچ رہا تھا دودھ شہد پر تو گھر میں لڑائی ہو رہی ہے۔۔۔

تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے  کہا کہ اللہ نے جو پیسے عثمان کو دیے ہیں وہ اس لئے نہیں دیے کہ عثمان کی اولاد عیش و مستی کرتی پھرے میرے مالک نے مجھے نوازا ہے تاکہ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کہ نوکروں کی نوکری کروں۔

یہ شخص کہتا ہے میں دروازے تک گیا تو میں نے کہا شکریہ!

کہتا ہے ابھی میں نے بتایا نہیں تھا کہ مجھے ابوبکر صدیق رضی {اللہ تعالی عنہ  نے بھیجا ہے کہ آپ فرمانے لگے کہ شکریہ ابوبکرصدیق (رضی اللہ تعالی عنہ) کا ادا کرنا جس نے تجھے یہ راستہ دکھایا ہے۔

شخص کہتا ہے کہ میں نے کہا حضور آپ کو تو میں نے بتایا ہی نہیں کہ مجھے ۔۔۔۔تو آپ رضی  اللہ تعالی عنہہ مسکرا کر فرمانے لگے چھوڑو آپ کا کام ہو گیا  ان تفصیلات میں نہ پڑو ۔ (سبحان اللہ)

یہ شان ہے خدمت گاروں کی

 سرکار کا عالم کیا ہوگا ۔

{ماخذ سیرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ}

Loading