Daily Roshni News

سرمائے کا تکبر، کیپیٹلزم کی موت

سرمائے کا تکبر، کیپیٹلزم کی موت، اور حیاتیاتی اوقات: سورہ الکہف کی آیات 31 تا 40 کا عمرانی، معاشی اور الہیاتی مطالعہ! (سورہ کہف حصہ چہارم) – بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد )انسانی شعور، معاشی تاریخ اور عمرانیات کا سب سے بھیانک اور کڑوا سچ یہ ہے کہ جب انسان کے پاس بے تحاشا مادی دولت، وسائل اور طاقت آ جاتی ہے، تو وہ لاشعوری طور پر خود کو موت اور کائنات کے طبعی قوانین سے آزاد سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کا بینک بیلنس، اس کی جائیدادیں اور اس کا خاندانی اثر و رسوخ اسے کائنات کے خالق کی پکڑ سے بچا لے گا۔

لیکن اس مادی اور طبقاتی (Class-based) بحث کی طرف جانے سے پہلے، اللہ تعالیٰ پچھلی آیات کے تسلسل میں ان نظریاتی اور مخلص لوگوں (جنہیں دنیا حقیر سمجھتی ہے) کے اس ابدی، کائناتی اور فزکس کے قوانین سے آزاد انجام کا نقشہ کھینچتا ہے جسے ہم ”جنت“ کہتے ہیں،

فرمایا:

”أُولَٰئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۚ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا ۝“

(ترجمہ: یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغات (جناتِ عدن) ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ انہیں وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے، اور وہ باریک اور دبیز ریشم کے سبز لباس پہنیں گے، اور وہاں اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ کیا ہی بہترین اجر ہے، اور کیا ہی شاندار آرام گاہ ہے! [الکہف: 31])۔

یہ آیت محض کسی روایتی انعام کا تذکرہ نہیں ہے، بلکہ یہ ”کائناتی ایکویلیبریم“ (Cosmic Equilibrium) اور ابدی بقا کا وہ الہیاتی ماڈل ہے جہاں وقت کا زوال (Aging) اور مادے کی ٹوٹ پھوٹ (Entropy) ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔

دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ کا محل بھی موسمیاتی تبدیلیوں اور زوال کا شکار ہوتا ہے، لیکن ”جناتِ عدن“ وہ ایبسلوٹ (Absolute) اور پرفیکٹ ڈائمینشن ہے جہاں نہریں، سونا، ریشم اور مسندیں فنا کے قانون سے آزاد ہیں۔

سبز رنگ (تھرمو ڈائنامکس میں زندگی اور اعتدال کی علامت) اور سونے کے کنگن اس بات کا اعلان ہیں کہ جو لوگ اس گندی اور مادی دنیا میں اللہ کی خاطر غریبی، طعنے اور تکلیفیں برداشت کرتے رہے، کائنات کا خالق انہیں روزِ محشر وہ شاہانہ پروٹوکول (Royal Protocol) دے گا جس کے سامنے دنیا کے فرعونوں، سرمایہ داروں اور ایلیٹ کلاس کی اوقات ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں رہے گی۔ یہ وہ ”نعم الثواب“ ہے جس کا حصول انسان کی حتمی کامیابی ہے۔

اس ابدی کامیابی کے الہیاتی کینوس کے فوراً بعد، اللہ تعالیٰ کیمرے کا رخ اس دنیا کی تلخ، معاشی اور طبقاتی کشمکش کی طرف موڑتا ہے اور ایک ایسی عالمگیر اور لازوال ”تمثیل“ (Parable) پیش کرتا ہے جو آج کے جدید کارپوریٹ کلچر، مونوپولی (Monopoly) اور کیپیٹلزم (Capitalism) کا سب سے بہترین عمرانی پوسٹ مارٹم ہے،

فرمایا:

”وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا ۝ كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِم مِّنْهُ شَيْئًا ۚ وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا ۝“

(ترجمہ: اور (اے نبی!) آپ ان کے سامنے دو شخصوں کی ایک مثال بیان کیجیے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیے، اور ان دونوں کو کھجور کے درختوں سے گھیر دیا، اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیتی (فصلیں) اگا دی۔ ان دونوں باغوں نے اپنا پھل (بھرپور) دیا اور اس (پیداوار) میں ذرا بھی کمی نہ کی، اور ہم نے ان دونوں کے بیچ ایک نہر بھی جاری کر دی [الکہف: 32-33])۔

یہ دو آیات زرعی معاشیات (Agricultural Economics) اور کمال درجے کی پورٹ فولیو مینجمنٹ (Portfolio Management) کا کلاسیکی نمونہ ہیں۔

اس دور کی سب سے بڑی دولت اور انڈسٹری زراعت تھی۔ اللہ نے اس مغرور سرمایہ دار کو جو معاشی سلطنت دی، اس کی جیوگرافیکل اور کمرشل پلاننگ دیکھیں۔ بیچ میں انگوروں (High-value cash crop) کے باغات تھے، جنہیں آندھی اور طوفان سے بچانے کے لیے ان کے گرد کھجور کے مضبوط اور اونچے درختوں کی باؤنڈری وال (Protective Shield) بنا دی گئی تھی، اور خالی بچ جانے والی زمین میں فصلیں (Staple crops) اگا دی گئی تھیں تاکہ زمین کا ایک انچ بھی ضائع نہ ہو۔

اور اس پورے پروجیکٹ کو سیراب کرنے کے لیے بیچ میں سے ایک نہر (Continuous Water Supply) نکال دی گئی تھی، یعنی اسے بارش یا موسم کا محتاج بھی نہیں رکھا گیا۔ یہ ایک ایسا ”پرفیکٹ اکنامک ماڈل“ تھا جس نے اپنی پیداوار سو فیصد دی (ولم تظلم منہ شیئا)۔

آج کے دور میں آپ اسے ایک ایسی ملٹی نیشنل کارپوریشن (MNC) سمجھ سکتے ہیں جس کے شیئرز آسمان کو چھو رہے ہوں، جس کا سپلائی چین کا نظام پرفیکٹ ہو اور جسے مارکیٹ میں کوئی شکست نہ دے سکتا ہو۔

جب انسان کو یہ مادی پرفیکشن اور مسلسل منافع (Continuous Profit) ملتا ہے، تو اس کا دماغ کیسے خراب ہوتا ہے اور اس کے اندر کا فرعون کیسے جاگتا ہے، اللہ تعالیٰ اگلی آیت میں اس سرمایہ دارانہ تکبر (Capitalist Arrogance) کی وہ نفسیاتی جڑ پکڑتا ہے جو آج کے ہر ارب پتی اور طاقتور حکمران کا المیہ ہے،

فرمایا:

”وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا ۝“

(ترجمہ: اور اس کے پاس بے پناہ پھل (آمدنی/دولت) تھا۔ تو اس نے اپنے (غریب مگر مومن) ساتھی سے بحث اور گفتگو کرتے ہوئے تکبر سے کہا: میں تجھ سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (افرادی قوت/فالورز) کے لحاظ سے بھی تجھ سے زیادہ طاقتور ہوں [الکہف: 34])۔

یہ آیت آج کے جدید اور کھوکھلے معاشرے کے ”سکسیس میٹرکس“ (Metrics of Success) کا نوحہ ہے۔

جب دو انسان آپس میں بیٹھتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو کس ترازو میں تولتے ہیں؟

اس مغرور شخص نے اپنے غریب نظریاتی ساتھی کو نیچا دکھانے کے لیے کائنات کے دو سب سے گھٹیا مگر دنیا میں سب سے زیادہ مانے جانے والے پیمانے استعمال کیے:

پہلا

”أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا“

(میرا بینک بیلنس، میری جائیدادیں، میری گاڑیاں تجھ سے زیادہ ہیں)

اور دوسرا

”أَعَزُّ نَفَرًا“

(میرا نیٹ ورک، میری پی آر، میری قوم، میرے فالورز اور میرے ووٹرز تجھ سے زیادہ طاقتور ہیں)۔

یہ وہ دجالی مائنڈ سیٹ ہے جو سمجھتا ہے کہ جس کے پاس پیسہ اور ہجوم زیادہ ہے، وہی حق پر ہے اور کائنات کا خدا بھی اسی سے راضی ہے۔ یہ شخص بھول گیا کہ یہ باغ، یہ نہر اور یہ دولت اس کی اپنی کسی سائنسی مہارت یا عقلمندی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس کائنات کے رب کی طرف سے دی گئی ایک ڈھیل (مہلت) تھی۔

اس تکبر اور مادی خمار کے نشے میں دھت ہو کر، وہ شخص اپنے باغ (اپنی معاشی سلطنت) میں داخل ہوتا ہے، اور وہاں وہ کفر، الحاد اور مابعد الطبیعاتی بغاوت کا وہ کلمہ بولتا ہے جو ہر اس انسان کا کلمہ ہے جو دنیا کو ہی الٹیمیٹ رئیلٹی (Ultimate Reality) سمجھ لیتا ہے،

فرمایا:

”وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِ أَبَدًا ۝ وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا ۝“

(ترجمہ: اور وہ اپنے باغ میں اس حالت میں داخل ہوا کہ وہ (اس تکبر اور کفر کی وجہ سے) اپنی ہی جان پر ظلم کرنے والا تھا۔ کہنے لگا: میرا نہیں خیال کہ یہ (باغ اور یہ سلطنت) کبھی تباہ و برباد ہوگی۔ اور میرا نہیں خیال کہ قیامت کبھی برپا ہونے والی ہے۔ اور بالفرض اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا، تو یقیناً میں پلٹ کر جانے کی جگہ اس سے بھی بہتر پاؤں گا [الکہف: 35-36])۔

یہ دو آیات جدید ”سیکولر مائنڈ سیٹ“ اور فزکس کے ”قانونِ فنا“ (Law of Entropy) کے انکار کی بدترین شکل ہیں۔

اس نے اپنے شاندار اور پرفیکٹ باغ کو دیکھ کر کہا

”مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِ أَبَدًا“

(یہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا)۔

وہ سمجھتا تھا کہ اس کا سسٹم اتنا فول پروف (Fool-proof) ہے کہ اب اسے کوئی معاشی کریش (Economic Crash)، کوئی وائرس، یا کوئی قدرتی آفت نہیں گرا سکتی۔

یہ دراصل اس کی ”فالسیفائیڈ سینس آف سیکیورٹی“ (Falsified Sense of Security) تھی جو انسان کو خدا سے بے نیاز کر دیتی ہے۔

اور پھر اس نے وہ بغاوت کی جو آج کے ایگناسٹک (Agnostic) اور مادیت پرست لوگ کرتے ہیں کہ قیامت کوئی نہیں آنی، سب کہانیاں ہیں۔ اور اگر بالفرض (لئن رددت) آ بھی گئی، تو چونکہ دنیا میں خدا مجھ سے راضی ہے (تبھی تو مجھے اتنی دولت دی ہے)، اس لیے آخرت کے وی آئی پی (VIP) لاؤنج میں بھی مجھے اس سے بہتر پروٹوکول ملے گا۔

اسے الہیاتی زبان میں ”پراسپیریٹی تھیالوجی“ (Prosperity Theology) کا فتنہ کہا جاتا ہے، جس میں انسان اپنی دنیاوی کامیابی کو خدا کی خوشنودی کی دلیل سمجھ لیتا ہے، حالانکہ دولت خدا کی خوشنودی کی نہیں، بلکہ آزمائش کی سب سے خطرناک اور پھسلنے والی سیڑھی ہے۔

اللہ نے اس کی اس پوری ذہنی حالت کو صرف تین لفظوں میں سمیٹ دیا:

”وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ“

(وہ خود اپنے اعصاب، اپنی روح اور اپنے وجود کا قاتل تھا)۔

جب سرمائے کا تکبر کائنات کی حقیقت کو مسخ کر رہا ہو، تو ایک غریب مگر نظریاتی انسان (Ideologue) اس کا جواب کیسے دیتا ہے؟

وہ کوئی معذرت خواہانہ رویہ نہیں اپناتا، وہ احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوتا، بلکہ وہ کفر کے منہ پر بائیولوجی (Biology) اور ایمبریولوجی (Embryology) کا وہ طمانچہ مارتا ہے جو انسان کو اس کی اوقات یاد دلا دیتا ہے،

فرمایا:

”قَالَ لَهُ صَاحِبُهُ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلًا ۝ لَّٰكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا ۝“

(ترجمہ: اس کے ساتھی نے اس سے بحث کے دوران (اسے آئینہ دکھاتے ہوئے) کہا: کیا تو اس ذات کا انکار اور کفر کرتا ہے جس نے تجھے مٹی سے، پھر پانی کی ایک بوند (نطفے) سے پیدا کیا، اور پھر تجھے ایک مکمل مرد (انسان) کی شکل دی؟ لیکن (جہاں تک میرا تعلق ہے تو) میرا رب تو وہی اللہ ہے، اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا [الکہف: 37-38])۔

یہ دو آیات دراصل انسان کے وجودی غرور (Existential Pride) کے غبارے سے ہوا نکالنے کی کائناتی سوئی ہیں۔

غریب ساتھی نے اس سے یہ نہیں کہا کہ تو میرے باغ کی توہین کر رہا ہے، بلکہ اس نے سیدھا اس کے ”تخلیقی سورس“ (Biological Source) پر وار کیا۔

اس نے کہا کہ تو جو آج اس باغ اور دولت کے بل بوتے پر خدا بنا بیٹھا ہے، ذرا اپنی مائیکرو اسکوپک ہسٹری (Microscopic History) تو دیکھ! تیری ابتدا کیا تھی؟

”مِن تُرَابٍ“

(بے جان، پیروں تلے روندی جانے والی مٹی)،

پھر

”مِن نُّطْفَةٍ“

(ایک غلیظ اور خوردبینی جرثومہ جسے دیکھنے کے لیے بھی مائیکرو اسکوپ چاہیے)۔

تو جو کل ایک بے نام اور غلیظ قطرہ تھا جو اپنی ماں کے پیٹ میں خون اور اندھیروں کے درمیان پرورش پاتا رہا، آج جب تجھے خدا نے ہاتھ پاؤں اور ایک ہینڈسم مرد (سواک رجلا) کی شکل دے دی ہے تو تیری اکڑ آسمان کو چھونے لگی ہے؟

یہ ہے وہ آئینہ جو ہر متکبر فرعون کو دکھانا چاہیے۔

وہ غریب ساتھی ڈرا نہیں، اس نے ڈٹ کر اعلان کیا کہ تو اس سرمائے کی پوجا کر، میں تو اسی اللہ کا بندہ ہوں جس کے ہاتھ میں تیرے اس باغ کا اور تیری اس جان کا کنٹرول ہے، اور میں شرک (یعنی اس مادی دنیا کو خدا کے برابر طاقتور سمجھنے کی بیماری) سے مکمل بیزار ہوں۔

اس بائیولوجیکل جھٹکے کے بعد، وہ مومن ساتھی اسے اس کائنات کا وہ حتمی اور الہیاتی فارمولا سکھاتا ہے جو انسان کو تکبر اور زوال دونوں سے بچاتا ہے، اور ساتھ ہی معاشی کریش (Economic Collapse) کی وہ وارننگ دیتا ہے جو اللہ کا اٹل قانون ہے،

فرمایا:

”وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا ۝ فَعَسَىٰ رَبِّي أَن يُؤْتِيَنِ خَيْرًا مِّن جَنَّتِكَ وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَاءِ فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقًا ۝“

(ترجمہ: اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یہ کیوں نہ کہا کہ ”جو اللہ نے چاہا (وہی ہوا ہے)، اللہ (کی مدد) کے بغیر کسی میں کوئی طاقت نہیں“؟ اگر تو مجھے اپنے سے مال اور اولاد میں کم دیکھتا ہے (تو کیا ہوا)۔ تو بہت ممکن ہے کہ میرا رب مجھے تیرے اس باغ سے کچھ بہتر عطا فرما دے، اور تیرے اس (مغرور) باغ پر آسمان سے کوئی عذاب (آفت) بھیج دے، اور وہ (لشپش کرتا باغ) ایک چٹیل اور پھسلواں (کیچڑ والا) میدان بن کر رہ جائے [الکہف: 39-40])۔

یہ دو آیات کائناتی طاقتیات (Dynamics of Cosmic Power) کا مغز ہیں۔

مومن ساتھی نے کہا کہ جب تو نے یہ شاندار فصل اور یہ عظیم الشان پیداوار دیکھی تھی تو تیرا ری ایکشن یہ ہونا چاہیے تھا:

”مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ“۔

یہ جملہ محض زبان سے ادا کرنے والا کوئی ٹوٹکہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایگو (Ego) کے بت کو توڑنے کا سائنسی ہتھوڑا ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ میری محنت، میرا بزنس پلان، اور میری زرعی ٹیکنالوجی اس وقت تک ایک پتہ بھی نہیں اگا سکتی جب تک کائنات کے خالق کی مرضی (مَا شَاءَ اللَّهُ) اور اس کی انرجی اور طاقت (لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ) اس میں شامل نہ ہو۔ انسان صرف بیج بو سکتا ہے، اس کے اندر خلیوں کو پھاڑ کر زندگی پیدا کرنا انسان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ پھر وہ غریب انسان اپنا کائناتی اور نظریاتی قد کاٹھ دکھاتا ہے کہ تو مجھے مال اور اولاد میں کمتر سمجھتا ہے، لیکن یاد رکھ، جس رب کے ہاتھ میں کائنات کا ریموٹ کنٹرول ہے، وہ مجھے تیرے اس باغ سے بہتر چیز (روحانی سکون اور آخرت کا ابدی باغ) دے سکتا ہے۔

اور پھر وہ آخری اور لرزہ خیز دھمکی جو کائنات کا الٹیمیٹ سچ ہے:

”وَيُرْسِلَ عَلَيْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَاءِ“۔

لفظ ”حُسْبَانًا“ کا مطلب ہے ایک نپا تلا، کیلکولیٹڈ (Calculated) اور ٹارگٹڈ عذاب یا آفت۔ وہ کہہ رہا ہے کہ تو جس مادی سیکیورٹی اور دیواروں پر اتراتا ہے، اللہ کے عذاب زمین سے نہیں بلکہ اس آسمان (Dimension) سے آتے ہیں جہاں تیری کوئی سیکیورٹی کام نہیں کرتی۔

کوئی طوفان، کوئی ژالہ باری، کوئی آسمانی بجلی یا محض موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کا ایک جھٹکا تیرے اس اربوں ڈالر کے پروجیکٹ پر گرے گا، اور تیرا یہ انگوروں اور کھجوروں کا سرسبز باغ راتوں رات ”صَعِيدًا زَلَقًا“ میں تبدیل ہو جائے گا۔

”صَعِيدًا زَلَقًا“ سے مراد وہ چکنی، کیچڑ والی اور پھسلواں مٹی ہے جس پر نہ تو کوئی انسان کھڑا ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس میں کبھی کوئی بیج دوبارہ اگ سکتا ہے۔ یہ ہے کیپیٹلزم کی حتمی موت اور تکبر کا وہ انجام جس کے بعد انسان کے ہاتھ میں ملنے کے لیے صرف خاک باقی رہ جاتی ہے۔

(جاری ہے… حصہ پنجم میں ہم اس سرمائے کی تباہی کا لائیو منظر، دنیاوی زندگی کے فریب کی سائنس، اور اس کائناتی سچ کو دیکھیں گے کہ کس طرح طاقتور ترین انسان ایک ہی جھٹکے میں اپنے گھٹنوں کے بل گر جاتا ہے۔)

حصہ سوم: https://www.facebook.com/share/p/1Ca6vbT6Fx/

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Loading