Daily Roshni News

سر راجر پین روز 95 برس کے ہو گئے۔۔۔

سر راجر پین روز 95 برس کے ہو گئے۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کل سر راجر پین روز کی سالگرہ تھی وہ 8 اگست 1931 کو کولچسٹر، انگلینڈ میں پیدا ہوئے پین روز کا شمار جدید دور کے ان عظیم سائنس دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے کائنات، بلیک ہولز، اسپیس ٹائم، ریاضی اور حتیٰ کہ انسانی شعور جیسے مشکل ترین موضوعات پر کام کیا ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ریاضی کو صرف اعداد اور فارمولوں تک محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے کائنات کو سمجھنے کا ایک ذریعہ سمجھتے تھے۔۔۔

✨ بلیک ہولز کو سمجھنے میں اہم کردار

پین روز کا سب سے مشہور کام بلیک ہولز کے حوالے سے ہے 1965ء میں انہوں نے ایک اہم سائنسی مقالہ شائع کیا جس میں انہوں نے دکھایا کہ جب کوئی بہت بڑا ستارہ اپنی ہی کششِ ثقل کے تحت تباہ ہو کر اندر کی طرف سکڑتا ہے تو اس عمل کے نتیجے میں اسپیس ٹائم میں ایسی حالت پیدا ہو سکتی ہے جہاں ہماری موجودہ طبیعیات کے قوانین اپنی عام شکل میں کام نہیں کرتے اسے سنگولیریٹی (Singularity) کہا جاتا ہے اس کام سے ایک اہم بات واضح ہوئی کہ بلیک ہولز صرف ریاضی کے کاغذ پر موجود عجیب و غریب چیزیں نہیں بلکہ آئن اسٹائن کے نظریۂ عمومی اضافیت کے مطابق واقعی کائنات میں بن سکتے ہیں اسی بنیادی کام پر پین روز کو 2020ء میں نوبیل انعام برائے طبیعیات کا نصف حصہ دیا گیا نوبیل کمیٹی نے ان کے اعزاز کی وجہ یہ بیان کی کہ انہوں نے یہ ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہ بلیک ہولز کا بننا عمومی اضافیت کے نظریے کی ایک مضبوط پیش گوئی ہے نوبیل انعام کا باقی نصف حصہ رائن ہارڈ گینزل اور اینڈریا گیز کو ہماری کہکشاں ملکی وے کے مرکز میں موجود انتہائی کثیف جسم کی دریافت پر دیا گیا جسے آج ہم سپر میسیو بلیک ہول Sagittarius A* کے طور پر جانتے ہیں۔۔۔

✨ پین روز اور اسٹیفن ہاکنگ

پین روز نے مشہور سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ کے ساتھ بھی کام کیا دونوں نے مل کر یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کائنات اور بلیک ہولز میں سنگولیریٹیز کس طرح پیدا ہوتی ہیں 1970ء میں ان دونوں نے مل کر Hawking–Penrose Singularity Theorem پیش کیا آسان الفاظ میں کہا جائے تو اس کام نے دکھایا کہ عمومی اضافیت کے تحت کائنات کے بعض حالات میں اسپیس ٹائم کا ایسا مقام آ سکتا ہے جہاں موجودہ نظریات مکمل جواب دینے سے قاصر ہو جاتے ہیں یہ کام عمومی اضافیت اور جدید کونیات (Cosmology) کی بنیادوں میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔۔۔

✨ پین روز ڈایاگرامز

پین روز نے ایک ایسا طریقہ بھی تیار کیا جس کی مدد سے ہم بہت بڑے اور پیچیدہ اسپیس ٹائم کو ایک چھوٹے سے ڈایاگرام میں سمجھ سکتے ہیں اسے Penrose Diagram کہا جاتا ہے مثلاً بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن، روشنی کے راستے، دور دراز علاقوں اور سنگولیریٹی کو ایک ہی خاکے میں دکھایا جا سکتا ہے یہ ڈایاگرام آج بلیک ہولز اور عمومی اضافیت کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہیں۔۔۔

✨ گھومتے ہوئے بلیک ہول سے توانائی حاصل کرنا

1969ء میں پین روز نے ایک اور حیرت انگیز خیال پیش کیا جسے Penrose Process کہا جاتا ہے گھومتے ہوئے بلیک ہول کے گرد ایک خاص علاقہ ہوتا ہے جسے Ergosphere کہتے ہیں یہاں بلیک ہول کی گردش اسپیس ٹائم کو بھی اپنے ساتھ گھماتی ہے پین روز نے دکھایا کہ اصولی طور پر اس علاقے سے بلیک ہول کی اپنی گردشی توانائی حاصل کی جا سکتی ہے یعنی ایک مناسب عمل کے ذریعے بلیک ہول کی گردش سے توانائی باہر نکالی جا سکتی ہے یہ تصور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ بلیک ہول صرف چیزوں کو نگلنے والے اجسام نہیں بلکہ ان کی گردش میں موجود توانائی بھی اصولی طور پر استعمال کی جا سکتی ہے۔۔۔

✨کائناتی سنسرشپ کا مسئلہ

پین روز نے ایک اور مشہور تصور پیش کیا جسے Cosmic Censorship Conjecture کہا جاتا ہے آسان الفاظ میں اس خیال کے مطابق جب بہت زیادہ مادہ کششِ ثقل کے تحت سکڑ کر سنگولیریٹی بناتا ہے تو عموماً یہ سنگولیریٹی بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن کے پیچھے چھپی رہنی چاہیے یعنی کائنات میں ایسی انتہائی خطرناک اور عجیب حالت عام طور پر براہِ راست باہر سے نظر نہیں آنی چاہیے لیکن یہ ابھی تک ایک قیاس (Conjecture) ہے مکمل طور پر ثابت شدہ قانون نہیں۔۔۔

✨ ٹوئسٹر تھیوری

1960ء کی دہائی میں انہوں نے Twistor Theory پیش کی یہ اسپیس، وقت اور کائنات کی بنیادی ساخت کو سمجھنے کا ایک بالکل مختلف ریاضیاتی طریقہ ہے یہ نظریہ بہت پیچیدہ ہے لیکن سادہ الفاظ میں اسے یوں سمجھ سکتے ہیں کہ پین روز نے کائنات کی بنیادی جیومیٹری کو سمجھنے کے لیے ایک نئی ریاضیاتی زبان بنانے کی کوشش کی آج بھی ٹوئسٹر تھیوری کے خیالات جدید آپٹکس، طبیعیات اور کوانٹم فیلڈ تھیوری میں استعمال ہوتے ہیں۔۔۔

✨ پین روز ٹائلنگز

ریاضی میں بھی پین روز کی ایک مشہور دریافت ہے جسے Penrose Tilings کہا جاتا ہے انہوں نے ایسی ٹائلوں کا نمونہ دریافت کیا جو کسی سطح کو مکمل طور پر ڈھانپ سکتی ہیں لیکن ان کا پیٹرن کبھی باقاعدگی سے دہرایا نہیں جاتا یعنی اس میں ترتیب بھی ہے اور بے قاعدگی بھی بعد میں جب سائنس دانوں نے Quasicrystals دریافت کیے تو پین روز کی ٹائلنگز اور ان مواد کے درمیان دلچسپ مماثلت سامنے آئی یہ ایک خوبصورت مثال ہے کہ کبھی خالص ریاضی میں کیا جانے والا کام کئی سال بعد حقیقی دنیا کی طبیعیات میں اہم ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔

✨کائنات کے مستقبل کے بارے میں ان کا خیال

پین روز نے کائنات کے آغاز اور مستقبل کے بارے میں بھی ایک دلچسپ نظریہ پیش کیا جسے Conformal Cyclic Cosmology (CCC) کہا جاتا ہے اس نظریے کے مطابق ہماری کائنات شاید ہمیشہ سے صرف ایک ہی کائناتی دور کا حصہ نہ ہو ممکن ہے ایک کائناتی دور کا انتہائی دور مستقبل کسی دوسرے کائناتی دور کے آغاز سے جڑا ہو یعنی اگر میں آپ کو  بہت آسان الفاظ میں بیان کروں تو شاید ایک کائنات کا بہت دور کا مستقبل دوسری کائنات کے آغاز سے جڑ سکتا ہے یا یوں سمجھیں کہ ایک کائنات کا اِختتام دوسری کائنات کا آغاز ہو سکتا ہے یہ ایک دلچسپ خیال ہے لیکن ابھی یہ قیاسی نظریہ ہے اور موجودہ Standard Model of Cosmology کا حصہ نہیں۔۔۔

✨انسانی شعور میں ان کی دلچسپی

انسان سوچتا کیسے ہے؟ شعور کہاں سے آتا ہے؟ اور کیا انسانی دماغ صرف ایک انتہائی پیچیدہ کمپیوٹر ہے؟

اپنی کتابوں The Emperor’s New Mind اور Shadows of the Mind میں انہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ انسانی ذہانت اور شعور کو شاید صرف عام کمپیوٹر الگورتھمز کے ذریعے مکمل طور پر سمجھانا ممکن نہ ہو بعد میں انہوں نے Stuart Hameroff کے ساتھ مل کر Orch-OR نامی ایک نظریہ پیش کیا جس میں انہوں نے  دماغ کے اندر موجود مائیکرو ٹیوبیولز میں ہونے والے کوانٹم عمل کو شعور سے جوڑنے کی کوشش کی انہوں نے ریاضی اور طبیعیات کے درمیان ایسے تعلقات تلاش کیے جن کے بارے میں دوسروں نے شاید اس انداز سے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔

دوستو اگر مجھ سے پوچھا جائے تو میں آئن سٹائن اور سٹیفن ہاکنگ کے بعد اِس عظیم شخصیت کے کارناموں(سائنس، فلکیات، بلیک ہول اور سپیس ٹائم فیبرک کو سمجھنے ) کا اعتراف کروں گا۔۔۔

سر راجر پین روز ۔۔۔ آپ کو سالگرہ مبارک ہو 💐

تحریر : Saqib Hussain

Loading