Daily Roshni News

سعودی عرب کے عظیم فرمانروا شاہ فیصل عدل و انصاف اور دانائی میں مشہور تھے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سعودی عرب کے عظیم فرمانروا شاہ فیصل عدل و انصاف اور دانائی میں مشہور تھے۔ ان کے دربار میں فیصلے صرف طاقت سے نہیں بلکہ حکمت سے کیے جاتے تھے۔ ایک دن محل میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیران اور پریشان کر دیا۔

شاہی محل کی ملکہ کا نہایت قیمتی ہیروں کا ہار اچانک غائب ہو گیا۔ وہ ہار صرف زیور نہیں بلکہ خاندانی نشانی تھا۔ ملکہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے آہستہ آواز میں بادشاہ سے کہا،

“مجھے کسی پر الزام لگانا پسند نہیں، مگر مجھے آپ کی بھابھی پر شک ہے۔ وہ عرصے سے اس ہار کو حسرت سے دیکھتی تھی۔”

شاہ فیصل نے تحمل سے بات سنی۔ وہ جانتے تھے کہ محض شک کی بنیاد پر کسی پر الزام لگانا ظلم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ملکہ سے کہا،

“آپ کسی سے اس چوری کا ذکر نہ کریں۔ سچ خود سامنے آئے گا، مگر ہمیں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔”

اگلے ہی دن بادشاہ نے بازار سے چند سونے کے ہار منگوائے۔ کچھ ہار خالص سونے کے تھے اور کچھ نہایت مہارت سے بنائے گئے مگر نقلی تھے۔ ان کی شکل و صورت میں معمولی فرق تھا جسے صرف ماہر آنکھ ہی پہچان سکتی تھی۔ اس راز سے صرف شاہ فیصل اور ایک قابل اعتماد سنار واقف تھے۔

چند دن بعد شاہی محل میں ایک دعوت کا اہتمام کیا گیا۔ تمام ملازمین، کنیزیں اور شاہی خاندان کے افراد کو بلایا گیا۔ ماحول خوشگوار تھا۔ کھانے پینے کا اہتمام تھا، روشنیوں سے محل جگمگا رہا تھا۔

دعوت کے اختتام پر شاہ فیصل کھڑے ہوئے اور مسکرا کر بولے،

“آج میں بہت خوش ہوں۔ تم سب نے برسوں وفاداری سے میری خدمت کی ہے۔ اس خوشی میں میں تم سب کو ایک ایک سونے کا ہار تحفے میں دینا چاہتا ہوں۔ مگر ایک شرط ہے—کل سب اپنے ہار پہن کر دربار میں حاضر ہوں گے۔”

سب نے خوشی سے تحفہ قبول کیا۔ کسی کے دل میں خوشی تھی، کسی کے چہرے پر حیرت۔ ملکہ خاموشی سے سب دیکھ رہی تھیں۔

اگلے دن دربار سجا۔ سب خواتین اپنے اپنے ہار پہن کر آئیں۔ کچھ کے چہرے اعتماد سے بھرپور تھے، کچھ قدرے گھبرائے ہوئے۔ شاہ فیصل کی نظریں ایک ایک چہرے کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔

انہوں نے درباری سنار کو اشارہ کیا کہ ہاروں کا معائنہ کرے۔ سنار ایک ایک کر کے ہار دیکھنے لگا۔ جب وہ شاہی خاندان کی ایک خاتون—یعنی ملکہ کی بھابھی—کے قریب پہنچا تو رک گیا۔ اس کے چہرے پر حیرت تھی۔

سنار نے ادب سے کہا،

“حضور، اس ہار میں سونے کی مقدار باقی سب سے مختلف ہے۔ یہ نہ خالص سونا ہے نہ ویسا نقلی جیسا باقی۔”

شاہ فیصل نے نرم لہجے میں پوچھا،

“کیا مطلب؟”

سنار نے جواب دیا،

“یہ ہار بہت قیمتی ہے، مگر یہ وہ نہیں جو کل تقسیم کیے گئے تھے۔ یہ کسی اور کا ہے، اور اس میں جڑے ہیروں کی ساخت شاہی خزانے سے ملتی جلتی ہے۔”

دربار میں سناٹا چھا گیا۔ ملکہ کی بھابھی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ ہاتھ کانپنے لگے۔ شاہ فیصل نے سختی نہیں بلکہ شفقت سے کہا،

“اگر کوئی غلطی ہوئی ہے تو سچ بیان کر دو۔ سچ بولنے والے کو میں معاف کر دیتا ہوں، مگر جھوٹ بولنے والے کو نہیں۔”

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد وہ خاتون رو پڑی۔

“میں نے خود ہار نہیں چوری کیا۔ میں نے ایک کنیز کو لالچ دیا تھا کہ وہ مجھے ہار لا دے۔ میں اسے وقتی طور پر رکھنا چاہتی تھی، مگر معاملہ بگڑ گیا۔”

یہ سن کر دربار میں کھلبلی مچ گئی۔ متعلقہ کنیز کو بلایا گیا۔ وہ ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔ اس نے بھی جرم قبول کر لیا کہ اس نے لالچ میں آ کر ہار چرا لیا تھا۔

شاہ فیصل نے نہایت سنجیدگی سے فرمایا،

“چوری سے پہلے حسد پیدا ہوتا ہے، اور حسد دل کو اندھا کر دیتا ہے۔ اگر تم نے مانگ لیا ہوتا تو شاید میں تمہیں ویسا ہی ہار تحفے میں دے دیتا، مگر تم نے اعتماد توڑا۔”

انہوں نے حکم دیا کہ ہار واپس خزانے میں جمع کیا جائے۔ کنیز کو سخت تنبیہ کے بعد ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، مگر اس کی غربت دیکھتے ہوئے اسے کچھ رقم بھی دی گئی تاکہ وہ بھوک سے مجبور نہ ہو۔ ملکہ کی بھابھی کو خاندان کی عزت کا خیال نہ رکھنے پر سرزنش کی گئی اور کچھ عرصہ دربار میں آنے سے روک دیا گیا۔

بعد میں ملکہ نے بادشاہ سے پوچھا،

“آپ کو یقین کیسے تھا کہ حقیقت سامنے آ جائے گی؟”

شاہ فیصل مسکرائے،

“جب انسان لالچ میں آتا ہے تو وہ زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں نے سب کو ہار دے کر موقع دیا کہ جس کے پاس اصل ہار ہو گا وہ اسے چھپانے کی بجائے بدلنے کی کوشش کرے گا، اور یہی ہوا۔”

ملکہ نے سر جھکا کر کہا،

“آپ نے بغیر شور شرابے کے انصاف کر دیا۔”

شاہ فیصل نے جواب دیا،

“انصاف وہی ہے جو عزت بچاتے ہوئے سچ سامنے لائے۔ اگر میں سیدھا الزام لگا دیتا تو خاندان میں نفرت پھیل جاتی۔ حکمت کبھی کبھی تلوار سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔”

اس واقعے کے بعد محل میں سب نے ایک سبق سیکھا—حسد اور لالچ انسان کو رسوا کر دیتے ہیں، جبکہ صبر اور دانائی سچ کو خود ظاہر کر دیتے ہیں۔

یوں شاہ فیصل نے نہ صرف ایک قیمتی ہار واپس حاصل کیا بلکہ خاندان کی عزت اور عدل کی روایت بھی برقرار رکھی۔ یہ واقعہ برسوں تک دربار میں مثال کے طور پر سنایا جاتا رہا کہ ایک حکمران کی اصل طاقت اس کی حکمت اور انصاف میں ہوتی ہے، نہ کہ صرف اس کے اقتدار میں۔

Loading