ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سلجوقی سلطان قلج ارسلان ایک دن اپنے سپاہیوں کے ساتھ شکار کے لیے جنگل گئے ہوئے تھے۔ دورانِ شکار چند سپاہیوں نے ایک گائے پکڑ لی، اسے ذبح کیا اور کباب بنا کر کھا گئے۔
مگر وہ گائے ایک غریب بڑھیا کی تھی…
وہی گائے اس کے بچوں کے رزق کا واحد سہارا تھی۔
جب بڑھیا کو اس ظلم کا پتا چلا تو وہ اس پل پر جا بیٹھی جہاں سے سلطان نے واپس گزرنا تھا۔
سلطان جیسے ہی اپنے لشکر کے ساتھ وہاں پہنچا، بڑھیا روتے ہوئے بولی:
“اگر آج اس پل پر تم نے مجھے انصاف نہ دیا، تو قیامت کے دن پلِ صراط پر میں تم سے حساب لوں گی!”
یہ الفاظ سن کر سلطان قلج ارسلان پر لرزہ طاری ہو گیا۔
اس نے فوراً بڑھیا سے معافی مانگی، سپاہیوں کی غلطی تسلیم کی اور بطور تلافی اپنی طرف سے سو گائیں عطا کر دیں۔
قلج ارسلان اناطولیہ کے عظیم سلجوقی سلاطین میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں صلیبی جنگوں کا ہیرو بھی کہا جاتا ہے۔
مگر ان کی عظمت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ مظلوم کی آہ سے بھی خوف کھاتے تھے۔
پرانے دور کے اکثر سلاطین میں خوف خدا بھی ہوتا تھا جو کہ آج کے دور میں ناپید نظر آتا ہے۔
![]()

