سلسلہ عظیمیہ کا پیغام تعلیمات اور تربیتی نظام
تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی
پیشکش ۔۔۔انجنیئر سہیل احمد عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سلسلہ عظیمیہ کا پیغام تعلیمات اور تربیتی نظام۔۔۔ تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی)وحد ولا شریک کے لیے پیدا ہوتی ہے۔ اللہ کی یہ محبت انسان کے کسی حسی محرک یا خارجی سبب کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ یہ محبت خالصتا قلبی اور روحانی تقاضوں پر استوار ہوتی ہے۔
کئی معاملات میں انسان کے جذبات، اس کی پسند یا نا پسند کو سمجھنے میں علم حصولی کی نسبت علم حضوری زیادہ معاون ہوتا ہے۔
انسان کو دوسری سب مخلوقات پر فضیلت دی گئی ہے۔ اس فضیلت کا سبب اللہ کی طرف سے انسان کو عطا کیا جانے والا علم الاسماء ہے۔علم الاسماء سے ملنے والی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور ان صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے علم حصولی اور علم حضوری دونوں انسان کی معاونت کرتے ہیں۔
2) انسان اپنی خواہش سے علم حضوری سے آگہی لے رہا ہو۔
انسان کو علم و آگہی کی بہت زیادہ استعداد عطا کی گئی ہے۔ اپنی اس استعداد کی مدد سے انسان علم حصولی کے ساتھ ساتھ علم حضوری سے بھی اپنے ارادے سے استفادہ کر سکتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے قلب میں آنے والے علمی اشاروں Signals or Vibes کو اچھی طرح وصول کرنے اور ان کی درست تفہیم کے قابل ہو سکتا ہے۔ صوفیاء نے اپنے شاگردوں کو علمی استعداد سے آگاہ کرنے اور اس استعداد کو بڑھانے کے لیے ان کی رہنمائی کی ہے۔ صوفیاء نے خواہش مند شاگردوں کی نمند علمی، فکری اور روحانی تربیت کا اہتمام بھی کیا ہے۔ اس استعداد میں علم حصولی اور علم حضوری
دونوں شامل ہیں۔
ہم میں سے بہت سارے لوگوں کا یہ مشاہدہ یا تجربہ ہے کہ کسی موضوع یا کسی نقطے پر غور کرتے ہوئے انسان کے باطنی حواس کئی مخیالات براہ راست وصول کرتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سوچے بغیر یعنی غیر ارادی طور پر آنے والے بعض خیالات کا مظاہر دکچھ عرصے بعد ہو جاتا ہے۔
ہمیں کبھی خواب میں کوئی واقعہ نظر آتا ہے، کچھ عرصے بعد ہم اس واقعے کو بیداری میں دیکھ لیتے ہیں۔ کبھی ہمیں کوئی خیال آتا ہے اس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ میری چھٹی حس مجھے یہ بتارہی ہے۔ خواب یا چھٹی حس کے ذریعے کوئی آگہی ملنے یا سوچتے ہوئے کوئی غیر معمولی اشارہ ملنے کا ذریعہ دراصل علم حضوری ہے۔ انسان اپنے ارادے سے اس صلاحیت کو ترقی دے سکتا ہے، Develop کر سکتا ہے۔
سلسلہ عظیمیہ چاہتا ہے کہ اس کے مرد و خواتین اراکین میں علم کا شوق زیادہ سے زیادہ ہو ، ان کا فہم درست ہو ، ان کا علمی ذوق بہت اچھا ہو۔
ہم چاہتے ہیں کہ سلسلہ عظیمیہ کے اراکین اپنے معاشی و معاشرتی فرائض اچھی طرح انجام دیں ۔ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے علم حصولی اور علم حضوری کو بھی سمجھنے اور ان علوم کو حاصل کرنے پر راغب ہوں۔ حصول علم کی اہمیت واضح کرتے ہوئے حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی فرماتے ہیں،
قرآن پاک نے غور و فکر اور ریسرچ ، تجسس و تحقیق کو ہر مسلمان کے لئے ضروری قرار دیا ہے، چنانچہ کائنات کے انتظام و انصرام کے سلسلے میں جو قوانین جاری و ساری ہیں ان کو جانا بھی ہر ذی شعور مسلمان کا ایک فریضہ ہے، اس لئے کہ یہ سب اللہ کی نشانیوں میں تدبر اور تفکر ہے۔“
آپ مزید فرماتے ہیں کہ جو شخص دنیاوی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ علم حاصل کرے۔ جو شخص آخر وی متاع حاصل کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ علم حاصل کرے”۔
آپ نے لکھا ہے کہ علمی اعتبار سے سائنس کا علم فطرت اور کائنات کا علم ہے۔ سائنس کا مقصد ہی یہ ہے کہ کائنات کے افراد اور افراد کے اجزائے ترکیبی کی تخلیق و ترکیب اور مقداروں کا پتہ چلے، جو ایک ضابطے کے ساتھ متحرک ہیں اور یہ حرکت ہی کسی شے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ عملی طور سے سائنس کا کام کائنات کی ساری قوتوں کو فتح کرنا، زمین اور آسمانوں کے خزانوں سے استفادہ کرنا ہے۔“ آپ فرماتے ہیں “ہم جب آدم سے اب تک شعوری زاویوں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا ہر عمل ایک سائنس ہے اور یہ سائنسی عمل ہی انسان کی ساری ضروریات کا کفیل ہے۔ سارے انسانی پیٹے ، صنعتیں، دستکاری، تعمیر ، مشینیں . ب ایک سائنسی عمل ( تحقیق و ترقی) کا نتیجہ ہیں۔” (کتاب تجلیات ازخواجہ شمس الدین عظیمیؒ ]
معزز شر کاء کلاس، ان لیکچر ز کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ سلسلہ عظیمیہ کے اراکین میں حصول علم کا شوق پروان چڑھے۔ اراکین سلسلہ خاص طور پر اس کلاس کے طالب علموں کا ذ ہنی اور فکری ارتقا ہو۔ یہاں ہم ذہنی ارتقا اور فکری ارتقا کو سمجھنے کے لیے چند نکات بیان کر رہے ہیں۔
ذہنی ارتقا
ذہنی ارتقا سے مراد یہ ہے کہ علمی سر گرمیوں، معاشرتی معاملات اور دیگر شعبہ ہائے حیات میں مشاہدات و تجربات کے ذریعے انسان کی آگہی اور اس کی ذہنی صلاحیتوں میں بندر تین اضافہ ہوتار ہے۔ ذہنی ارتقا کے نتیجے میں تعلیم، ہنر ، سائنسی اور فنی مہارتوں میں ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔ انسان کا ذہنی ارتقا تعلیمی و پیشہ ورانہ میدانوں میں کامیابی کے ساتھ ساتھ نئی نئی دریافتوں کا ذریعہ بجتا ہے۔ ذہنی ارتقا سے انسان کی معیشت میں بہتری آتی ہے۔
فکری ارتقا
فکری ارتقا کے ذریعے انسان کی سوچ میں بہتری اور اس کے نظریات میں معنویت پیدا ہوتی ہے۔ فکری ار تھا کسی رسمی تعلیم سے نہیں ہوتا۔
فکری ارتقا کے لیے ضروری ہے کہ آدمی میں معاملات کی حقیقت جاننے کی خواہش ہو، وہ معاشرتی رسوم در وان پر تقلیدی سوچ کا حامل نہ ہو۔
فکری ارتقا کا خواہش مند شخص حقائق کی روشنی میں اپنی فکر کو درست کرنے اور اپنے نظریات کو بہتر بنانے میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ فکری ارتقا کے عمل میں عموماً انا، تعصبات اور ذاتی مفادات بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔
فکری ارتقا کے نتیجے میں انسان کی سوچ میں گہرائی، نظریات میں جامعیت، امور میں حکمت اور گفتگو میں علمیت نمایاں ہونے لگتی ہے۔
ایسے فرد میں دور اندیشی اور مستقبل بینی کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔ ایسا فرد دوسروں کا خیر خواہ ہوتا ہے اور وہ ایک اچھار ہنما بن سکتا ہے۔ افراد کے فکری ارتقا سے انسانی معاشرت میں بہتری آتی ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2026
![]()

