سلطان عبدلعزیز کا انصاف ۔ جو کوئی نہ کر سکا وہ سلطان نے کر دکھایا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شام کا وقت تھا۔ دربارِ شاہی میں سنہری چراغ جل رہے تھے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھے تھے سلطان عبدالعزیز۔ دربار میں سناٹا تھا جب ایک نقاب پوش لڑکی کانپتے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، چہرہ زرد، اور آواز میں درد کی لرزش۔
وہ بولی،
“اے سلطانِ وقت! ایک تاجر نے مجھ سے نکاح کیا، دو ماہ تک مجھے اپنی بیوی بنا کر رکھا، پھر عیاشی کے بعد مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب وہ مجھے پہچاننے سے انکار کرتا ہے۔ میں بے آسرا ہوں، انصاف چاہتی ہوں۔”
سلطان نے دربان کو اشارہ کیا۔ تاجر کو دربار میں پیش کیا گیا۔ وہ قیمتی لباس میں ملبوس، خوداعتماد انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے بڑے سکون سے کہا،
“حضور! میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔”
سلطان نے قاضی اور گواہوں کو بلایا۔ تینوں عدالت میں آئے، قرآن پر ہاتھ رکھا اور کہا،
“ہم نے اس نکاح کو نہیں دیکھا، نہ ہی اس عورت کو پہچانتے ہیں۔”
دربار میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ سلطان کی نگاہیں گہری تھیں۔ وہ جان چکے تھے کہ معاملہ سیدھا نہیں۔ تاجر کی دولت، قاضی کی آنکھوں کی چمک، اور گواہوں کی گھبراہٹ بہت کچھ کہہ رہی تھی۔
سلطان نے کچھ دیر سوچا، پھر مسکرا کر کہا،
“چونکہ تم سب قسم کھا رہے ہو کہ اس عورت کو نہیں جانتے، تو ہمیں سچ جاننے کے لیے ایک اور راستہ اختیار کرنا ہوگا۔”
انہوں نے حکم دیا کہ عدالت میں ایک کتا اور ایک کتیا لائے جائیں۔
لوگ حیران تھے۔ کچھ کو ہنسی آئی، کچھ نے تعجب سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ مگر سلطان خاموش تھے۔
کتا اور کتیا دربار میں لائے گئے۔ سلطان نے حکم دیا کہ کتیا کو کمرے کے ایک کونے میں باندھ دیا جائے اور کتے کو کھلا چھوڑ دیا جائے۔ پھر تاجر، قاضی اور گواہوں کو قریب کھڑا کر دیا گیا۔
سلطان بولے،
“ہم ایک تجربہ کریں گے۔”
کتے کو آزاد کیا گیا۔ وہ فوراً کتیا کی طرف لپکا، اس کے گرد گھومنے لگا، اس کی خوشبو سونگھنے لگا، جیسے وہ اسے پہچانتا ہو۔
سلطان نے دربار کی طرف دیکھ کر کہا،
“دیکھو، یہ جانور ہیں، مگر دو مہینے کا ساتھ بھی نہیں بھولے۔”
پھر انہوں نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ کتے کو کچھ دیر کے لیے باہر لے جایا جائے اور کتیا کو بھی دوسری طرف کر دیا جائے۔ چند لمحوں بعد کتے کو دوبارہ لایا گیا۔ اس نے کتیا کو دیکھا تو فوراً پہچان لیا، دم ہلانے لگا، بے چین ہو گیا۔
سلطان نے تاجر کی طرف دیکھا اور کہا،
“یہ بے زبان جانور اپنے ساتھی کو پہچان لیتا ہے، اور تم انسان ہو کر دو ماہ ساتھ گزارنے والی عورت کو نہیں پہچانتے؟”
تاجر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پسینہ ماتھے پر چمکنے لگا۔ قاضی نے نظریں جھکا لیں۔ گواہوں کی زبان خشک ہو گئی۔
سلطان نے سخت آواز میں کہا،
“سچ بولو، ورنہ اگلا حکم تمہارے لیے بہت بھاری ہوگا۔”
دربار میں خاموشی چھا گئی۔ اچانک ایک گواہ کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ آگے بڑھا اور بولا،
“حضور! ہمیں معاف کر دیں۔ نکاح ہوا تھا۔ تاجر نے ہمیں سچ چھپانے کے لیے سونا دیا تھا۔”
قاضی کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ اس نے بھی سر جھکا لیا،
“میں نے لالچ میں آ کر حق چھپایا۔”
تاجر گھٹنوں کے بل گر پڑا،
“سلطانِ معظم! مجھ سے غلطی ہو گئی۔ میں نے نکاح کیا تھا۔ میں نے اسے چھوڑ دیا کیونکہ میں اس سے اکتا گیا تھا۔ میں دولت کے نشے میں اندھا ہو گیا تھا۔”
سلطان کی آنکھوں میں سختی تھی۔ انہوں نے فرمایا،
“جو شخص نکاح جیسے مقدس رشتے کو کھیل سمجھے، وہ معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔ اور جو قاضی انصاف بیچ دے، وہ قوم کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔”
انہوں نے حکم دیا کہ:
تاجر فوراً اس عورت کا حقِ مہر ادا کرے اور اس کی مکمل کفالت کرے، یا شرعی طریقے سے طلاق دے کر تمام حقوق ادا کرے۔
قاضی کو منصب سے برطرف کیا جائے اور عوام کے سامنے اس کی معزولی کا اعلان ہو۔
گواہوں کو جھوٹی گواہی کے جرم میں سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی حق نہ بیچے۔
پھر سلطان نے لڑکی کی طرف دیکھا اور نرم لہجے میں کہا،
“بیٹی! تمہارا حق تمہیں ملے گا۔ اس دربار میں انصاف بکتا نہیں۔”
لڑکی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، مگر اس بار وہ کمزوری کے نہیں، شکر کے آنسو تھے۔
دربار ختم ہوا تو شہر میں یہ واقعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ لوگ کہتے تھے،
“سلطان نے جانوروں سے انسانوں کو سبق سکھا دیا۔”
کچھ دنوں بعد وہ لڑکی اپنے حق کے ساتھ باعزت طریقے سے اپنے گھر لوٹی۔ تاجر کی دولت کم نہ ہوئی، مگر عزت خاک میں مل گئی۔ قاضی کا منصب چلا گیا اور لوگ اسے مثال بنا کر کہتے،
“لالچ انسان کو جانور سے بھی نیچا کر دیتا ہے، مگر کبھی کبھی جانور انسان کو آئینہ دکھا دیتے ہیں۔”
کہانی کا سبق یہی تھا کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والا اگر بیدار ہو تو سچ کو چھپانا ممکن نہیں۔ دولت وقتی طاقت دے سکتی ہے، مگر سچ کی خوشبو کتے کی سونگھنے کی طاقت سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہے۔
اور یوں سلطان عبدالعزیز کا وہ انوکھا فیصلہ تاریخ میں ایک مثال بن گیا—
کہ انصاف صرف قانون سے نہیں، حکمت سے بھی کیا جاتا
![]()

