Daily Roshni News

سندھ طاس معاہدے پر 24 کروڑ زندگیوں کا انحصار، پانی کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا: پاکستان

اسلام آباد میں ’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، سینٹر فار چائنہ اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ، سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر، عالمی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی اور مختلف ممالک کے مندوبین و آبی ماہرین شریک ہیں۔

عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی دریائی معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔

سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ دریاؤں کے پانی روکنے کے اقدامات بین الاقوامی تعلقات میں ایک خطرناک مثال قائم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی وقار، معاشی خوشحالی اور ماحولیاتی پائیداری کی بنیاد ہے، پانی سیاسی سرحدوں کا پابند نہیں ہوتا بلکہ زندگی کو برقرار رکھتا ہے۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وعدہ خلافی ممالک کے درمیان اعتماد اور تعاون کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتی ہے جب کہ قوانین کی بالادستی پر قائم نظام بھی کمزور ہوتا ہے، جس پر بین الاقوامی امن و سلامتی کا انحصار ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ جنوبی ایشیا کو پہلے ہی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں عالمی معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کا احترام ناگزیر ہے۔

نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ کئی برسوں پر محیط طویل مذاکرات کے بعد طے پایا تھا، جس کا مقصد دستیاب آبی وسائل کا بہترین اور منصفانہ استعمال یقینی بنانا تھا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات اور اچھے ہمسایہ تعلقات کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے اور عالمی قانون، معاہدوں پر عملدرآمد اور آبی حقوق کے احترام پر یقین رکھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر کسی بھی قسم کا غیرقانونی قبضہ یا تجاوز ہرگز قبول نہیں کرے گا اور اپنے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی قوانین اور سفارتی ذرائع سے مؤثر انداز میں کام جاری رکھے گا۔

نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ معطلی کے بعد قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا، فیصلہ ہوا پاکستان کے پانی کا رخ موڑنے، روکنے یا کمی کی کوشش کو جنگ تصور کیا جائےگا۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ فیصلہ قومی یکجہتی کےساتھ کیا گیا تھا اور پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کےعزم پر قائم ہے، پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا، پاکستان نےکشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے کی کوشش کی۔

پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم، بھارت سندھ طاس نظام پر ناانصافی کر رہا ہے: ڈاکٹر وکٹر گاؤ

سینٹر فار چائنہ اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ کروڑوں لوگوں کے لیے پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے، بھارت دریائے سندھ کے نظام کے حوالے سے مکمل طور پر ناانصافی کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا کہ اس اہم سیمینار میں شرکت ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکیاں دینا شروع کیں، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بھی کہا کہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا۔

ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا کہ انہوں نے ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ پانی روکنے کی دھمکی انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

انہوں نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کیا جائے جو کوئی اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔

ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے مزید کہا کہ دریائے سندھ کے نظام سے متعلق بھارت کا طرزِ عمل انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور اس معاملے کو انسانی اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قیادت مؤثر جواب دینے کیلئے پرعزم ہے: وزیر اطلاعات

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کا دریائے سندھ کے نظام کے پانی پر پورا حق ہے، بھارت نے پانی میں رکاوٹ ڈالی تو بھرپور جواب دیں گے، پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقاء کا معاملہ ہے۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ سمینار میں شریک تمام مندوبین کو خوش آمدید کہتا ہوں، سندھ طاس معاہدہ امن، علاقائی استحکام کا ایک اہم ذریعہ سیمینار سے خطاب اعزاز ہے، ہم ایک معاہدے پر نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کی زندگی کہ شہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وادی سندھ کی تہذیب ہی ہماری اصل شناخت، ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں، دریائے سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے، پاکستان کی تاریخ دراصل دریائے سندھ کی تاریخ ہے، گلگت بلتستان سے لیکر پنجاب اور سندھ تک دریائے سندھ نسلوں کی آبیاری کرتا آیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقاء کا معاملہ ہے، دریائے سندھ کے پانی کے تحفظ کیلئے ہر طریقہ اپنائیں گے، زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ ہے، چھ دہائیاں قبل دو ممالک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا، فیصلے کے نتیجے میں سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے، پاکستان نے ہمیشہ پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عملدرآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کیا، ہمیں اس عزم کا اظہار کرنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، معاہدوں کی پاسداری ہی قوموں کے درمیان اعتماد اور عالمی نظام کے استحکام کی بنیاد ہے۔

وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو قومی قیادت مؤثر جواب دینے کیلئے پرعزم ہے، پاکستان ہر صورت سندھ طاس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرے گا، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا علاقائی و عالمی امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، ہمیں پانی کو تنازع کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنانا چاہیے۔

سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے عالمی ذمہ داریوں سے فرار ممکن نہیں: لوری اے واٹکنز

مصنفہ اور عالمی پالیسی کی ماہر لوری اے واٹکنز نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی سفارت کاری کی حقیقی کامیابیوں میں سے ایک ہے اور کوئی بھی ریاست معاہدے کی معطلی کا اعلان کر کے اپنی عالمی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لوری اے واٹکنز نے کہا کہ آج اس اہم موضوع پر اظہارِ خیال کرنا ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی گفتگو کا آغاز ایک ایسی حقیقت سے کرنا چاہتی ہیں جس سے سب واقف ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا اور اسے ایک انتہائی مشکل مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دریاؤں سے متعلق معاہدے تنازعات کو روکنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ پاکستان نے دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ کے حوالے سے بھارت کو باضابطہ خطوط ارسال کیے جو محض انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں تھی بلکہ ایک اہم قانونی معاملہ تھا۔

لوری اے واٹکنز کا کہنا تھا کہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نوعیت کی صورتحال خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے عالمی عدالتوں کے فیصلوں کو مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں پر نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے، مستقل انڈس کمیشن عالمی معیار کے مطابق ایک غیرمعمولی اور قابلِ قدر ادارہ ہے۔

لوری اے واٹکنز نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا مرحلہ وار نظام وضع کیا گیا ہے، آبی معلومات کا تبادلہ رک جانے سے بداعتمادی، غلط اندازوں اور بالآخر کشیدگی کو جنم ملتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت فریقین کے درمیان رابطوں کے تسلسل اور مؤثر تعاون میں مضمر ہوتی ہے۔

سندھ طاس معاہدہ بحال کیے بغیر امن ممکن نہیں: بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک، مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، دنیا کو احساس ہو چکا کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کیلئے خطرناک رجحان ہے، سندھ طاس معاہدہ کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے جنگ بندی کی شرائط پر عمل کیا جبکہ بھارت نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، سندھ محض ایک دریا نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی زندگی، زراعت اور معیشت کا ذریعہ ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی معاہدے کے تحت تسلیم شدہ ہے، پانی کے معاملے کو محض تکنیکی تنازع نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا قومی سطح پر جواب دیا جائے گا، پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور آبی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، کروڑوں عوام کے حقِ آب کے تحفظ پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے، پانی کا سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے منافی ہے۔

بھارت کی آبی جارحیت سے 6 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوگئے: وزیر موسمیاتی تبدیلی

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی سے کسان، زراعت چھوڑنے پر مجبور ہوئے، پانی کی عدم دستیابی سے صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیشی لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ پانی کی عدم دستیابی یا زیادہ بہاؤ نہیں، بلکہ پانی کے کنٹرول کا ہے، مرالہ ہیڈورکس پر ایک دن پانی بہت کم تو دوسرے دن سیلابی صورت میں بھارت سے آتا ہے، یہ ماحولیاتی مسلہ نہیں بلکہ انصاف کا ہے کیونکہ پانی کے بہاؤ پر کنٹرول اصل مسلہ ہے، بھارت نہ صرف ہمارے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دنیا کا تیسرا آلودگی پھیلانے والا ملک بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، چھ ہزار لوگ جنگوں میں بھی نہیں مرتے۔

مصدق ملک کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کر کے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ہے، سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین معاہدوں میں سے ایک ہے، یہ معاہدہ دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان تین جنگوں میں بھی قائم رہا، اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ قائم نہ رہا تو پھر دنیا کا کوئی بھی معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی ایک ملک کو علاقائی اور عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہم عالمی ثالثی عدالت سے بھی رجوع کر چکے ہیں، عالمی ثالثی عدالت بہت واضح فیصلے دے چکی، عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، بھارت پانی کے بہاؤ کو یکطرفہ نہیں موڑ سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی ثالثی عدالت قرار دے چکی کہ بھارت پاکستان کے حصے کے پانیوں پر پانی کے ذخائر نہیں بنا سکتا، بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے، اگر یہ معاہدہ کامیاب نہیں ہوا تو پھر دنیا کا ہر نشیبی ملک کے حصے کا پانی روکے گا، یہ صرف پاکستان کا مسلہ نہیں بلکہ دنیا بھر کا مسئلہ ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے مزید کہا کہ پاکستان نے تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا ہے، یہ ماحولیاتی مسئلہ نہیں، انصاف کا معاملہ ہے، پاکستان میں بڑے طبقے کا ذریعۃ معاش زراعت ہے جو پانی سے منسلک ہے، پاکستان واضح کر چکا، وہ اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بھارت چناب کا رخ موڑ کر پانی متاثر کرنے جا رہا ہے: کمشنر انڈس واٹر

کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی سید مہر علی شاہ نے سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے، سندھ طاس معاہدے سے ہماری زراعت، خوراک، معیشت جڑی ہوئی ہے، یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کیلئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں مسائل کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے، معاہدے میں مجموعی طور پر بارہ شقیں ہیں، معاہدے کے تحت فریقین کو دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت اگر مسائل دونوں فریقین سے حل نہیں ہوتے تو پھر معاملہ ثالث کے پاس جائے گا، معاہدے کی شق نو کے تحت بین الاقوامی ثالث عدالت کے پاس معاملہ لے جایا جا سکتا ہے، پاکستان دو بار بھارت کی جانب سے متنازعہ بجلی گھر بنانے کا معاملے ثالثی عدالت لے جا چکا ہے۔

کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا کہنا تھا کہ عالمی ثالثی عدالت دو بار معاہدے کی وضاحت کر چکی ہے، ثالثی عدالت فیصلے میں واضح کر چکی ہے کہ بھارت معاہدے کو یکطرفہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، ثالثی عدالت نے بھارت کو کہا ہے کہ مغربی دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی خلل نہ ڈالے۔

سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر معاہدے کو معطل رکھنا مکمل غیر قانونی اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے، بھارت اگست 2023 سے معاہدے پر عمل نہیں کر رہا، دریاؤں کے پانی کے بہاؤ سے متعلق درست اور بروقت معلومات دینا لازمی ہے، پاکستان دریاؤں کے نشیبی طرف ہے، یہ ڈیٹا پاکستان کیلئے بہت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز بھی بھارت کو اس بارے میں خط لکھ کر ڈیٹا فراہمی کا کہا چکے ہیں، بھارت کی جانب سے دریاؤں کے پانی کے بہاؤ کے بارے میں ڈیٹا فراہم نہ کرنے سے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، بھارت چناب کے پانی کا رخ موڑ کر 1.9 ملین پانی کا بہاؤ متاثر کرنے جا رہا ہے، پاکستان اپنے حصے کے پانی کو موڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

انہوں نے کہا بھارت کی جانب سے چناب بیاس لنک کی تعمیر مکمل غیر قانونی ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت چناب کا پانی بیاس میں نہیں ڈال سکتا، معاہدے کے تحت بھارت اس لنک کی پاکستان کو معائنے کی اجازت دینے کا پابند ہے۔

کمشنر انڈس واٹر ٹریٹی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی لے جا چکا ہے، پانی لوگوں کی زندگیوں سے جڑا ہے اسے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

روسی ماہر عالمی امور کا بھارت کے آبی مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار

بین الاقوامی سیمینار میں روسی ماہر عالمی امور ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بھارت کے آبی مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ خط میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے، بھارت کے بالائی علاقوں میں ڈیموں کی تعمیر خطے میں عدم استحکام بڑھا سکتی ہے۔

روسی ماہر عالمی امور نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ علیحدگی کی کوئی گنجائش موجود نہیں، پانی پر تعاون ہی خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت ہے، پاکستان کے 21 بڑے پن بجلی منصوبے دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہیں۔

پاکستان ہر صورت اپنے حصے کے پانی اور اپنی تہذیت کی حفاظت کرے گا: خرم دستگیر

بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، بھارتی قیادت اعلان کر چکی ہے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی بھی نہیں ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ اپریل 2025 سے بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل رکھا ہوا ہے، 2025 سے بھارت سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارت مشرقی دریاؤں میں بغیر اطلاع دیئے پانی کا بڑا بہاؤ چھوڑ دیتا ہے، بھارتی اقدام سے 73 لاکھ پاکستانی متاثر ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت پانی کو روک کر سیلابی صورت میں چھوڑ کر پاکستانی عوام کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہے، عالمی سطح پر پانی پر شہری کا بنیادی حق ہے، عالمی ثالثی عدالت کے مطابق سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل نہیں رکھا جا سکتا۔

خرم دستگیر خان نے کہا کہ جنیوا معاہدے کے تحت بھی پانی کو کسی اور مسئلے سے جوڑ کر نہیں روکا جا سکتا، پانی روک کر بڑی آبادی کو غذائی قلت سے دوچار کرنا عالمی جرم ہے، بھارت جان بوجھ کر چوبیس کروڑ پاکستانیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، بھارت سندھ کے نشیبی علاقے کو پیاسا رکھ کر کروڑوں افراد کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے میں شامل دریاوں کا تعلق ہماری زندگیوں سے ہے، عالمی برادری کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کو روکنا ہوگا، دریاؤں کے پانی کا تعلق صرف انسانی زندگیوں سے ہی نہیں بلکہ لاکھوں برس قدیم تہذیب سے بھی ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان پر صورت اپنے حصے کے پانی اور اپنی تہذیب کی حفاظت کرے گا، ہماری بہادر مسلح افواج نے چار جنگوں میں مادر وطن کا کامیابی سے دفاع کیا، ہم ہر علاقائی اور عالمی فورم پر پانی کے بطور ہتھیار کے استعمال کو روکنے کا مسئلہ اٹھائیں گے۔

سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا مکمل غیر قانونی ہے: احمر بلال صوفی

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کے ماہر احمر بلال صوفی نے کہا کہ دنیا بھر میں پانی، ہوا، خوراک کو بنیادی انسانی ضروریات قرار دیا جا چکا ہے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’’غیر موجودہ ‘‘ حالت میں رکھنا مکمل غیر قانونی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو دوسرے امور سے منسلک کیا جا رہا ہے، پہلگام واقعے کے بعد بھارت کو عالمی قوانین کے تحت پاکستان کو معلومات اور تفتیش میں تعاون کے لئے تحریری لکھنا ضروری تھا، بھارت نے قانونی راستہ اپنانے کی بجائے کشیدگی اور جنگ کا راستہ چنا۔

احمر بلال صوفی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک تسلیم شدہ عالمی تنازعہ ہے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھا چکے ہیں، بھارتی اقدام اقوام متحدہ کے منشور کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ماہر بین الاقوامی قوانین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر مسئلے کا قانونی پہلو بھی ہے، پاکستان بھارت کے قانونی ماہرین کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے، پاکستان پر عالمی قانون پر مکمل کاربند ہے، بھارت کا سندھ طا س معاہدے کو غیر موجودہ حالت میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

دریائے سندھ کا پانی روکنا پاکستان کے بنیادی قومی مفادات پر حملہ ہو گا: عامر ریاض

سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کا کہنا تھا  کہ دریائے سندھ کا نظام دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نیٹ ورک کو پانی فراہم کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ پاکستان میں واقع ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سندھ طاس نظام پاکستان کی زراعت، معیشت اور توانائی کی ضروریات کا بنیادی سہارا ہے اور ملک کی ترقی و خوشحالی اسی نظام سے وابستہ ہے۔

سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پانی روکنا ملک کے بنیادی قومی مفادات پر براہِ راست حملہ تصور ہوگا جب کہ بالائی دھارے میں واقع کوئی بھی ملک بین الاقوامی اصولوں کے تحت زیریں دھارے کے ملک کا پانی بند نہیں کر سکتا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے پس منظر میں ایک اہم تاریخی واقعہ اپریل 1948 کا تھا، جب بھارت نے غیرقانونی طور پر پاکستان کی جانب آنے والے مشرقی دریاؤں کا پانی روک دیا تھا، اس وقت انہی دریاؤں سے نکلنے والی نہریں پنجاب کی وسیع زرعی اراضی کو سیراب کرتی تھیں۔

اُن کامزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پانی بند کیے جانے کے بعد اس تنازع پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا، جو تقریباً دس برس تک جاری رہے، ان مذاکرات میں بین الاقوامی ماہرین اور ورلڈ بینک نے کلیدی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔

Loading