Daily Roshni News

*سنہری مچھلی کا مشن*

*سنہری مچھلی کا مشن*

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک گھنے جنگل کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ اس گاؤں میں ایک دس سالہ لڑکا رہتا تھا جس کا نام حمزہ تھا۔ حمزہ بہت ذہین لیکن تھوڑا شرارتی تھا۔ اسے نئی نئی چیزیں جاننے کا بہت شوق تھا۔ گاؤں کے لوگ اکثر اسے کہتے، “حمزہ! جنگل کے اندر زیادہ دور مت جانا، وہاں ایک پراسرار جھیل ہے۔” مگر حمزہ کے دل میں ہمیشہ یہ خواہش رہتی کہ آخر اس جھیل میں ایسا کیا راز  ہے۔

ایک دن صبح سویرے حمزہ اپنے چھوٹے سے بیگ میں پانی کی بوتل، دو روٹیاں اور ایک ٹارچ رکھ کر جنگل کی طرف نکل پڑا۔ پرندے چہچہا رہے تھے اور ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ چلتے چلتے وہ جنگل کے اندر کافی دور نکل گیا۔ اچانک اسے درختوں کے درمیان نیلے رنگ کی چمکتی ہوئی روشنی نظر آئی۔ وہ حیران ہو کر اس طرف بڑھا تو سامنے ایک خوبصورت جھیل تھی جس کا پانی شیشے کی طرح صاف تھا۔

حمزہ نے جیسے ہی جھیل کے قریب قدم رکھا، پانی میں لہریں اٹھنے لگیں۔ پھر ایک چھوٹی سی سنہری مچھلی پانی سے باہر آئی اور بولی،

“حمزہ! تم یہاں کیوں آئے ہو؟”

حمزہ خوفزدہ تو ہوا مگر ہمت کر کے بولا،

“میں صرف اس جھیل کا راز جاننا چاہتا تھا۔”

مچھلی مسکرائی اور جلدی سے بولی،

“یہ عام جھیل نہیں۔ اس جھیل میں صرف سچے دل والے لوگ آ سکتے ہیں۔ لیکن ایک مسئلہ ہے۔ جنگل کا جادوئی درخت مرجھا رہا ہے، اگر وہ سوکھ گیا تو پورا جنگل تباہ ہو جائے گا۔”

حمزہ نے فوراً پوچھا،

“میں کیا کر سکتا ہوں؟”

مچھلی نے بتایا،

“پہاڑ کے اوپر ایک چمکتا ہوا نیلا پھول ہے۔ اگر تم وہ پھول لا کر جادوئی درخت کے پاس رکھ دو تو جنگل بچ سکتا ہے۔ لیکن راستہ آسان نہیں ہوگا۔”

حمزہ نے ہمت نہ ہاری اور سفر شروع کر دیا۔ راستے میں اسے ایک زخمی خرگوش ملا۔ خرگوش کے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا تھا۔ حمزہ نے فوراً کانٹا نکالا اور خرگوش کو پانی پلایا۔ خرگوش خوش ہو کر بولا،

“اگر تمہیں کبھی مدد چاہیے ہو تو میرا نام لینا۔”

کچھ دیر بعد حمزہ ایک اندھیری غار کے پاس پہنچا۔ غار کے اندر سے عجیب آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ ڈرتے ڈرتے اندر گیا تو دیکھا ایک بڑا سا ریچھ پتھروں کے درمیان پھنس گیا تھا۔ حمزہ نے پوری طاقت لگا کر پتھر ہٹائے اور ریچھ کو آزاد کر دیا۔ ریچھ نے خوش ہو کر کہا،

“تم بہت بہادر ہو بچے۔ تمہیں میری ضرورت پڑے تو آواز دینا۔”

شام ہونے لگی تھی۔ آخرکار حمزہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ وہاں واقعی ایک نیلا چمکتا ہوا پھول تھا۔ جیسے ہی اس نے پھول توڑا، زور کی ہوا چلنے لگی اور ایک کالا عقاب اس کے سامنے آ گیا۔

عقاب غصے سے بولا،

“یہ پھول کوئی نہیں لے جا سکتا!”

حمزہ ڈر گیا لیکن اس نے ہمت سے کہا،

میں یہ پھول اپنے لیے نہیں، جنگل کو بچانے کے لیے لے جا رہا ہوں۔

عقاب نے اس کی بات سنی مگر پھر بھی راستہ نہ چھوڑا۔ اچانک حمزہ کو خرگوش اور ریچھ یاد آئے۔ اس نے آواز دی۔ چند لمحوں میں خرگوش دوڑتا ہوا آ گیا اور ریچھ بھی پہنچ گیا۔ ریچھ نے زور سے دھاڑ ماری تو عقاب ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔

حمزہ فوراً نیلا پھول لے کر جھیل کے پاس پہنچا۔ جادوئی درخت کے پتے تقریباً سوکھ چکے تھے۔ اس نے آہستہ سے پھول درخت کی جڑوں میں رکھا۔ اچانک پورا جنگل روشن ہو گیا۔ درخت کے پتے دوبارہ ہرے ہو گئے، پھول کھل اٹھے اور پرندے خوشی سے گانے لگے۔

سنہری مچھلی دوبارہ پانی سے باہر آئی اور بولی،

حمزہ! تم نے اپنی بہادری اور مہربانی سے جنگل کو بچا لیا۔ یاد رکھو، اصل طاقت اچھے دل اور دوسروں کی مدد کرنے میں ہوتی ہے۔

حمزہ خوشی خوشی اپنے گاؤں واپس آیا۔ اب گاؤں والے اسے صرف شرارتی لڑکا نہیں بلکہ “جنگل کا ہیرو” کہتے تھے۔ حمزہ نے بھی سیکھ لیا تھا کہ بہادری صرف طاقت کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کی مدد کرنا اور صحیح کام کرنا اصل بہادری ہے۔

اور پھر اس کے بعد جب بھی کوئی بچہ جنگل کے راز کے بارے میں پوچھتا، حمزہ مسکرا کر کہتا،

جنگل اپنے راز صرف اچھے دل والوں کو دکھاتا ہے۔

محمد عامر

#اردو #اردو_کہانیاں #بچوں_کی_کہانی #سبق_آموز #اخلاقی_کہانیاں #اردو_ادب #کہانی #وفاداری #پاکستان

#UrduStories #KidsStories #MoralStories #BedtimeStories #UrduLiterature #StoryTime #Loyalty #AnimatedStories #Fables

Loading