Daily Roshni News

سوئٹزرلینڈ کا وہ نایاب جوتا جس نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا”

سوئٹزرلینڈ کا وہ نایاب جوتا جس نے تاریخ کا سب سے بڑا راز فاش کر دیا”

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)سوئٹزرلینڈ کی ایک ایسی کمپنی تھی جو دنیا کے عام لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ صرف مخصوص 1,000 امیر ترین اور بااثر خاندانوں کے لیے جوتے تیار کرتی تھی۔ ان جوتوں کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد دنیا کے الگ الگ حصوں سے اکٹھا کیا جاتا تھا:

تلوے: نیوزی لینڈ کی ان نایاب گایوں کے چمڑے سے بنتے تھے جن کے سینگ نیلے اور کھال سنہری ہوتی ہے۔

اگلا حصہ (Toe): برازیل کے مگرمچھوں کی جلد سے تیار ہوتا تھا۔

اوپری حصہ (Back): افریقہ کے سیاہ ہاتھیوں کے کانوں کا چمڑا استعمال ہوتا تھا۔

اندرونی استر: ہرن کے نرم چمڑے سے بنتا تھا تاکہ پہننے والے کو مخملی احساس ہو۔

سلائی: اس میں وہ دھاگہ استعمال ہوتا تھا جس سے بلٹ پروف جیکٹس بنتی ہیں۔

کمپنی کا دعویٰ تھا کہ ان جوتوں کی پالش 50 سال تک نہیں اترے گی اور اگر انہیں مٹی میں دفن کر دیا جائے، تو سو سال تک ان کی چمک دمک برقرار رہے گی۔

افغانستان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ اس کمپنی کے ممبر تھے۔ جب ان کے کزن سردار داؤد خان نے ظاہر شاہ کا تخت الٹا اور اقتدار پر قبضہ کیا، تو انہوں نے بادشاہ کی دیگر چیزوں کے ساتھ اس کمپنی کی ممبر شپ بھی اپنے نام کروا لی۔ سردار داؤد اپنی پوری زندگی اسی کمپنی کے جوتے پہنتے رہے۔

اپریل 1978ء میں افغانستان میں “ثور انقلاب” آیا۔ کمیونسٹ نواز فوج نے صدارتی محل پر حملہ کر دیا۔ سردار داؤد خان کو ان کے خاندان کے 30 افراد سمیت بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ انتقام کی آگ اتنی شدید تھی کہ ان کی لاش کو جیپ کے پیچھے باندھ کر کابل کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور پھر بغیر غسل، کفن یا جنازے کے دو گمنام اجتماعی قبروں میں دبوا دیا گیا۔

وقت گزرتا گیا اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ سردار داؤد خان کی باقیات کہاں ہیں۔ پھر 26 جون 2008ء کو کابل کے قریب ایک فوجی اڈے کی تعمیر کے دوران اتفاقاً دو اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں۔

وہاں موجود لاشیں مٹی بن چکی تھیں اور لباس بوسیدہ ہو چکے تھے، لیکن ایک ڈھانچے کے پاؤں میں موجود سیاہ بوٹ بالکل نئے لگ رہے تھے۔ ان کی چمک برقرار تھی، بکل سنہری تھی اور تلوے پر مگرمچھ کا نشان واضح تھا۔ انہی جوتوں کی بدولت سردار داؤد خان کی شناخت ممکن ہو سکی۔ یہ تاریخ کا پہلا واقعہ تھا جہاں ایک حکمران کی لاش اس کے چہرے یا ڈی این اے سے نہیں، بلکہ اس کے نایاب جوتوں سے پہچانی گئی۔

#viralvideo

Loading