Daily Roshni News

سورج اور چاند گرہن: ایک فلکیاتی منظر، ایک ایمانی سبق۔۔۔تحریر۔۔۔مفتی عبدالوہاب

سورج اور چاند گرہن: ایک فلکیاتی منظر، ایک ایمانی سبق

تحریر۔۔۔مفتی عبدالوہاب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔مفتی عبدالوہاب)آج آسمان پر ہونے والا سورج گرہن ایک ایسا منظر ہے جو انسان کو چند لمحوں کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ برطانیہ میں آج، 12 اگست 2026 کو، سورج گرہن جزوی طور پر نظر آئے گا۔ لندن میں یہ تقریباً شام 6 بج کر 17 منٹ پر شروع ہوگا، 7 بج کر 13 منٹ پر اپنے عروج پر ہوگا اور تقریباً 8 بج کر 6 منٹ پر ختم ہوگا۔ لندن میں سورج کا تقریباً 91 فیصد حصہ چاند کے پیچھے چھپ جائے گا۔

سائنس کی زبان میں سورج گرہن ایک نہایت خوب صورت اور قابلِ فہم فلکیاتی عمل ہے۔ جب چاند گردش کرتے ہوئے زمین اور سورج کے درمیان آ جاتا ہے تو چاند کا سایہ زمین کے ایک حصے پر پڑتا ہے اور وہاں سورج کا کچھ یا سارا حصہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح چاند گرہن اس وقت ہوتا ہے جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے اور زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ایک انتہائی منظم نظام کے تحت ہوتا ہے، اسی لیے ماہرینِ فلکیات اس کے اوقات بھی برسوں پہلے متعین کر سکتے ہیں۔

لیکن ایک مسلمان کے لیے گرہن کی حقیقت صرف اتنی نہیں کہ یہ ایک فلکیاتی واقعہ ہے۔ قرآن ہمیں بار بار کائنات کی نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ سورج، چاند، ستارے، رات اور دن، سب اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ سائنس ہمیں یہ بتا سکتی ہے کہ گرہن کیسے ہوتا ہے، لیکن ایمان ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے کہ یہ پورا نظام آخر کس کے حکم سے قائم ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے گرہن کے بارے میں ایک نہایت اہم غلط فہمی کی بھی اصلاح فرمائی۔ آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ کے انتقال کے دن سورج کو گرہن لگا تو بعض لوگوں نے اسے حضرت ابراہیمؓ کی وفات سے جوڑ دیا۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے۔ جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو پکارو اور نماز پڑھو۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں مروی ہے۔

اسلام نے گرہن کو نہ تو کسی انسان کی موت کا شگون قرار دیا اور نہ اسے محض ایک بے معنی اتفاق سمجھ کر نظر انداز کیا۔ بلکہ ایک طرف اس کے ظاہری اور فطری سبب کو تسلیم کیا اور دوسری طرف انسان کو اس موقع پر اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے کی تعلیم دی۔

فقہِ حنفی کے مطابق سورج گرہن کے وقت نمازِ کسوف ادا کرنا مسنون ہے۔ نمازِ کسوف دو رکعت ادا کی جاتی ہے اور حنفی طریقے میں اسے عام نفل نماز کی طرح ادا کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر نماز کے ساتھ دعا، استغفار، ذکر اور صدقہ بھی کرنا چاہیے اور جب تک گرہن رہے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور توبہ و استغفار میں مشغول رہنا بہتر ہے۔ چاند گرہن کے موقع پر بھی نماز اور دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاہم فقہِ حنفی میں اس کی نماز عام طور پر انفرادی طور پر ادا کی جاتی ہے۔

اصل بات شاید یہی ہے کہ گرہن ہمیں خوف زدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ غفلت سے جگانے کے لیے آتا ہے۔ ایک طرف ہماری آنکھوں کے سامنے سورج، چاند اور زمین کی حرکات کا وہ نظام ہوتا ہے جسے انسان اپنے حساب اور آلات سے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے، اور دوسری طرف ایک مومن کا دل یہ گواہی دے رہا ہوتا ہے کہ یہ تمام نظام خود بخود نہیں بلکہ ایک قادر و حکیم رب کے حکم سے قائم ہے۔

اس لیے آج جب سورج کی روشنی میں اچانک کمی آئے، آسمان کا منظر بدلے اور چاند سورج کے سامنے سے گزرے تو اسے محض ایک دلچسپ فلکیاتی واقعہ سمجھ کر گزر نہ جائیں۔ چند لمحوں کے لیے رکیں، اللہ کو یاد کریں، نماز پڑھیں، دعا اور استغفار کریں اور اپنے دل سے یہ سوال کریں کہ جس رب نے سورج اور چاند کو اتنے عظیم نظم کے ساتھ قائم رکھا ہے، کیا میں نے اپنی زندگی بھی اسی کے حکم کے مطابق گزارنے کی کوشش کی ہے؟

گرہن کسی انسان کی موت کا شگون نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ سائنس ہمیں اس کا سبب سمجھاتی ہے، اور ایمان ہمیں اس نشانی کے ذریعے اپنے خالق کو یاد کرنا سکھاتا ہے۔

#SunEclipse #Islam #Science

Loading