Daily Roshni News

سوقِ عکاظ کا عظیم میلہ۔۔۔ذرا آنکھیں بند کیجیے…

سوقِ عکاظ کا عظیم میلہ

ذرا آنکھیں بند کیجیے…

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سورج ابھی پوری طرح افق پر نہیں ابھرا۔ طائف کی سرسبز وادیوں سے اٹھنے والی ٹھنڈی ہوا ریت کے ذروں کو آہستگی سے چھیڑتی ہوئی شمال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ دور دور تک پھیلے پہاڑ سرخی مائل روشنی میں نہائے ہوئے ہیں۔ خشک میدانوں میں اونٹوں کے گھنٹوں کی مدھم آوازیں گونج رہی ہیں۔ کہیں گھوڑوں کی ٹاپیں ہیں، کہیں قافلوں کے نگہبان بلند آواز میں اپنے ساتھیوں کو پکار رہے ہیں، کہیں خیموں کی قطاریں آسمان کے نیچے ایک نئے شہر کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

ہر سمت سے لوگ آ رہے ہیں…

نجد کے بلند میدانوں سے، یمن کی خوشحال وادیوں سے، حجاز کے سنگلاخ پہاڑوں سے، بحرِ احمر کے ساحلی علاقوں سے، عراق اور شام کی تجارتی شاہراہوں سے، حتیٰ کہ دور دراز قبائل کے مسافر بھی اس مقام کا رخ کیے ہوئے ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ سال کا وہ وقت آ پہنچا ہے جب عرب کا دل ایک جگہ دھڑکتا ہے، جب تجارت، شاعری، سیاست، علم، فخر، عزت اور قبائلی روایات ایک ہی میدان میں جمع ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جسے تاریخ نے “سوقِ عکاظ” کے نام سے یاد رکھا۔

یہ صرف ایک بازار نہ تھا بلکہ پورے عرب کی تہذیب، معیشت، ادب اور اجتماعی شعور کا مرکز تھا۔

سوقِ عکاظ مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان واقع ایک وسیع میدان میں منعقد ہوتا تھا۔ یہ مقام طائف سے شمال مشرق کی سمت اور مکہ سے نسبتاً قریب تجارتی راستے پر واقع تھا۔ اردگرد سنگلاخ پہاڑ، کھلے میدان، خشک وادیاں اور چند موسمی چشمے اس علاقے کی قدرتی شناخت تھے۔ یہی راستہ یمن سے آنے والے تجارتی قافلوں کو مکہ، پھر مدینہ اور وہاں سے شام تک پہنچاتا تھا۔ جنوب سے آنے والا بخور، خوشبوئیں، چمڑا، کپڑا اور مصالحہ جات انہی شاہراہوں سے گزرتے تھے، جبکہ شمال سے رومی مصنوعات، ہتھیار، عمدہ کپڑے اور دیگر سامان عرب میں داخل ہوتا تھا۔

عکاظ کا انتخاب محض اتفاق نہیں تھا۔ یہ جغرافیائی اعتبار سے مختلف قبائل کے درمیان نسبتاً غیر جانب دار مقام تھا جہاں آمد و رفت آسان تھی۔ اس کے قریب طائف کی نسبتاً معتدل آب و ہوا تھی جبکہ مکہ کی مذہبی اہمیت بھی زیادہ فاصلے پر نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ذوالقعدہ کے مہینے میں، جب جنگ و جدال روک دی جاتی تھی، ہزاروں افراد یہاں جمع ہوتے تھے۔

عرب کا معاشرہ اس زمانے میں مرکزی حکومت سے محروم تھا۔ ہر قبیلہ اپنی آزادی، عزت اور طاقت کا خود محافظ تھا۔ بنو تمیم، بنو ہوازن، قریش، بنو کنانہ، بنو عامر، بنو اسد، بنو بکر، بنو عبس اور بے شمار دوسرے قبائل اپنی اپنی شناخت کے ساتھ موجود تھے۔ اختلافات بھی تھے، خونریز جنگیں بھی، لیکن حرم کے مقدس مہینوں میں ایک خاموش معاہدہ سب کو امن کا پابند بنا دیتا تھا۔ یہی امن سوقِ عکاظ کی جان تھا۔

صبح کے وقت جب بازار پوری طرح آباد ہوتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے صحرا کے درمیان ایک عارضی شہر کھڑا ہو گیا ہو۔ سینکڑوں خیمے، ہزاروں اونٹ، بے شمار گھوڑے، سامان سے لدے قافلے، تاجر، غلام، کاریگر، شاعر، خطیب، سردار، عورتیں، بچے اور مسافر ہر سمت دکھائی دیتے۔ ریت پر چلتے قدموں کی آواز، جانوروں کی صدائیں، تاجروں کی آوازیں اور مختلف لہجوں میں ہونے والی گفتگو پورے میدان کو زندہ کر دیتی۔

یہاں صرف خرید و فروخت نہیں ہوتی تھی بلکہ عرب کی معیشت کی نبض دھڑکتی تھی۔ یمن کے نفیس کپڑے، حضرموت کی خوشبوئیں، بحرین کے موتی، عمان کا لوبان، نجد کے بہترین گھوڑے، حجاز کے اونٹ، چمڑے کی ڈھالیں، تلواریں، نیزے، تیر، زیورات، کھجوریں، شہد، خشک میوہ جات، روغن، قیمتی پتھر، عمدہ برتن اور ہاتھ سے تیار کردہ اشیاء یہاں فروخت ہوتیں۔ بعض سوداگر ایسے بھی ہوتے جو کئی مہینوں کا سفر صرف اس امید پر کرتے کہ عکاظ میں انہیں بہتر خریدار مل جائیں گے۔

لیکن اگر کوئی یہ سمجھے کہ عکاظ صرف تجارت کا مرکز تھا تو وہ اس کی اصل روح کو نہیں جانتا۔

یہ عرب کی سب سے بڑی ادبی درسگاہ بھی تھی۔

شام ڈھلنے لگتی تو بازار کا شور آہستہ آہستہ ایک نئے رنگ میں بدل جاتا۔ لوگ خیموں کے سامنے حلقے بنا کر بیٹھ جاتے۔ بزرگ خاموشی سے عصا تھامے ہوتے، نوجوان شوق سے آگے بڑھ کر بیٹھتے اور پھر کسی بلند آواز منادی کی صدا سنائی دیتی کہ فلاں شاعر اپنا کلام پیش کرے گا۔

ایک شاعر آگے بڑھتا…

وہ اپنی قوم کی بہادری، سخاوت، عزت، محبت، صبر، جنگ، صحرائی زندگی اور اپنے قبیلے کے کارناموں کو ایسے الفاظ میں بیان کرتا کہ سننے والوں کی آنکھیں چمک اٹھتیں۔ کبھی مجمع خوشی سے داد دیتا، کبھی کسی مصرعے پر خاموشی چھا جاتی، کبھی مخالف قبیلے کا شاعر فوراً جواب میں اپنا قصیدہ پڑھ دیتا۔

یہ محض شاعری نہیں بلکہ عرب کی اجتماعی یادداشت تھی۔

اس دور میں شعر اخبار بھی تھا، تاریخ بھی، عزت بھی، تبلیغ بھی اور سیاسی قوت بھی۔ ایک عمدہ شاعر اپنے قبیلے کی عزت بڑھا دیتا جبکہ کمزور شعر پورے قبیلے کے لیے شرمندگی بن سکتا تھا۔

روایت ہے کہ اسی ماحول میں عرب کے عظیم شعراء، جیسے امرؤ القیس، زہیر بن ابی سلمیٰ، نابغہ ذبیانی اور عنترہ بن شداد جیسے نام اپنی شاعری کے ذریعے شہرت حاصل کرتے رہے۔ اگرچہ بعد کی بعض روایات میں معلقات کو کعبہ پر لٹکانے کا ذکر ملتا ہے، لیکن جدید محققین اس روایت کی تاریخی صحت پر اختلاف کرتے ہیں۔ تاہم اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ سوقِ عکاظ عربی زبان اور شاعری کے فروغ کا سب سے اہم مرکز تھا۔

یہاں صرف شعر نہیں سنائے جاتے تھے بلکہ زبان کے معیار بھی متعین ہوتے تھے۔ مختلف لہجوں کے درمیان فصیح عربی کے بہترین اسالیب سامنے آتے، الفاظ کا انتخاب ہوتا، محاورے زندہ رہتے اور آنے والی نسلوں کے لیے زبان محفوظ ہوتی۔

اسی بازار میں قبائلی تنازعات بھی حل کیے جاتے۔ اگر دو قبائل کے درمیان خون بہا، زمین یا تجارت کا جھگڑا ہوتا تو بزرگ سردار جمع ہوتے، گواہ پیش کیے جاتے اور صلح کی کوشش کی جاتی۔ اس طرح عکاظ صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی مرکز بھی بن گیا تھا۔ کئی مرتبہ مستقبل کے اتحاد بھی یہیں طے ہوتے، شادیوں کے فیصلے بھی ہوتے اور قبائل اپنی اجتماعی حکمت عملی بھی مرتب کرتے۔

عورتوں کی موجودگی بھی اس میلے کا ایک اہم پہلو تھی۔ وہ تجارت میں حصہ لیتیں، عمدہ کپڑے، خوشبوئیں، زیورات اور گھریلو اشیاء فروخت کرتیں، بعض ادبی محفلوں میں شریک ہوتیں اور سماجی روابط کو مضبوط بناتیں۔ اگرچہ اس دور کا معاشرہ قبائلی اور مردانہ غلبے پر قائم تھا، لیکن تجارتی سرگرمیوں میں خواتین کا کردار مکمل طور پر غیر موجود نہیں تھا۔

جب سورج عین سر پر ہوتا تو صحرا کی گرمی شدت اختیار کر لیتی۔ ریت سے گرم لہریں اٹھتیں، مگر بازار کی رونق کم نہ ہوتی۔ خیموں کے اندر سایہ کیا جاتا، پانی کے مشکیزے لٹکائے جاتے، کھجور اور دودھ سے مہمان نوازی ہوتی اور دور سے آنے والے مسافروں کو آرام دیا جاتا۔ عربوں کی سخاوت انہی مواقع پر نمایاں ہوتی تھی۔ کسی اجنبی کو پانی پلانا، کھانا کھلانا اور رات گزارنے کی جگہ دینا عزت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

وقت گزرتا گیا…

پھر وہ لمحہ بھی آیا جب مکہ کی خاموش گلیوں میں حضرت محمد ﷺ پر وحی نازل ہوئی اور اسلام کا نور طلوع ہوا۔ اس نئی دعوت نے عرب کے فکری، اخلاقی اور سماجی نظام کو بدلنا شروع کر دیا۔

ابتدائی برسوں میں رسول اللہ ﷺ بھی مختلف موسمی بازاروں، جن میں سوقِ عکاظ بھی شامل تھا، تشریف لے جاتے اور مختلف قبائل کو اللہ کی توحید اور اسلام کی دعوت دیتے۔ آپ ﷺ قبائل سے فرماتے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، شرک چھوڑ دیں اور اس پیغام کو قبول کریں۔ بعض لوگ خاموشی سے سنتے، بعض غور کرتے، بعض انکار کر دیتے، جبکہ قریش کے بعض مخالفین، خصوصاً ابو لہب، لوگوں کو آپ ﷺ سے دور رکھنے کی کوشش کرتے۔

یہ منظر عرب کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ ایک طرف صدیوں پرانی قبائلی روایات تھیں، دوسری طرف وحی الٰہی کا پیغام۔ ایک طرف نسب پر فخر تھا، دوسری طرف تقویٰ کی دعوت۔ ایک طرف شاعری میں قبیلے کی عظمت بیان ہوتی تھی، دوسری طرف قرآن مجید انسان کو خالقِ کائنات کی بندگی کی طرف بلا رہا تھا۔

اسلام کے پھیلنے کے بعد عرب کی معاشرتی ترجیحات بدلنے لگیں۔ قبائلی غرور کی جگہ اخوت، عدل اور تقویٰ نے لینا شروع کیا۔ تجارت بدستور اہم رہی، لیکن اس کے ساتھ دیانت، امانت اور انصاف کی نئی اقدار بھی قائم ہوئیں۔ سود، دھوکہ، ظلم اور استحصال کی مذمت کی گئی۔

سوقِ عکاظ کچھ عرصہ تک اپنی روایت کے مطابق قائم رہا، مگر وقت کے ساتھ اس کی حیثیت تبدیل ہوتی گئی۔ خلافتِ راشدہ اور بعد کے ادوار میں نئے شہر آباد ہوئے، نئے تجارتی مراکز وجود میں آئے اور اقتصادی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ بالآخر سیاسی حالات اور مختلف قبائلی کشمکش کے باعث اس عظیم میلے کی پرانی شان ماند پڑنے لگی۔

مگر تاریخ کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔

آج بھی جب محققین عکاظ کے آثار کا مطالعہ کرتے ہیں تو انہیں صرف ایک قدیم بازار نظر نہیں آتا بلکہ ایک پوری تہذیب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یہاں عرب کی زبان پروان چڑھی، تجارت نے ترقی کی، قبائل نے ایک دوسرے کو پہچانا، سیاسی فیصلے ہوئے، ادبی شاہکار وجود میں آئے اور پھر اسی سرزمین پر اسلام کی دعوت کی صدائیں بھی گونجیں۔

اگر کوئی آج اس خاموش میدان میں کھڑا ہو تو شاید اسے صرف ریت، چند پتھر اور دور تک پھیلا ہوا صحرا دکھائی دے، لیکن تاریخ کی آنکھ سے دیکھنے والا جانتا ہے کہ انہی ذروں پر کبھی ہزاروں قدموں کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ انہی میدانوں میں اونٹوں کے قافلے گرد اڑاتے تھے، انہی فضاؤں میں شاعروں کی آوازیں گونجتی تھیں، انہی راستوں پر تاجروں کے خواب سفر کرتے تھے اور یہی وہ جگہ تھی جہاں عرب اپنی پوری تہذیبی عظمت کے ساتھ ہر سال چند دنوں کے لیے ایک وجود بن جاتا تھا۔

سوقِ عکاظ اس حقیقت کی زندہ علامت ہے کہ قومیں صرف تلوار سے نہیں بنتیں، بلکہ بازاروں، علم، زبان، ثقافت، ادب، مکالمے اور مشترکہ یادداشت سے بھی تشکیل پاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے جب بھی عربِ جاہلیت کی تہذیبی زندگی کا ذکر آتا ہے تو ریت کے سمندر میں آباد اس عارضی شہر کا نام احترام سے لیا جاتا ہے، کیونکہ یہ صرف ایک میلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دنیا تھی جہاں صحرا بولتا تھا، شاعری سانس لیتی تھی، تجارت چلتی تھی اور تاریخ اپنے آنے والے دور کے لیے خاموشی سے بنیادیں رکھ رہی تھی۔

Loading