سول ایوارڈز ، حقائق اور گزارشات ۔۔۔
شباب کی باتیں
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)ہر سال 14 اگست یعنی یوم ازادی کے دن جہاں قیام پاکستان کے حوالے سے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ قوم کو یاد رہے کہ ہمارے بزرگوں نے اتنی قربانیاں دے کر اور طویل جدوجہد کر کے ملک کو ازاد کرایا تھا اس موقع پر جہاں اور بہت سی سرگرمیاں قومی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں وہاں ہر سال زندگی کے مختلف شعبوں کی اہم شخصیات کو ان کی خدمات کے صلے میں ایوارڈز بھی دیے جاتے ہیں ہم دیگر شعبوں کے بارے میں تو بات نہیں کرتے کیونکہ ہماری معلومات ان شعبوں کے حوالے سے بہت ہی محدود ہیں البتہ چونکہ ہمارا ادب و فنون کے شعبوں سے دیرینہ تعلق ہے اس لیے اگر ان شعبوں کے بارے میں کچھ عرض کریں تو یقینا متعلقہ سرکاری حلقے ہماری گزارشات پر ضرور غور کریں گے اس حوالے سے ہم اپنے ہی دو اشعار پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں
بدل جاتا ہے ہر لمحہ میرے دلدار کا موسم
ابھی انکار کا موسم ابھی اقرار کا موسم
کبھی خلعت عطائی کا کبھی ہے دار کا موسم
عجب ہے جان تیرے حسن کے دربار کا موسم
اس بات کا حتمی فیصلہ تو کوئی محقق ہی کر سکتا ہے کہ ایوارڈز کا یہ سلسلہ کب شروع ہوا تاہم محتاط اندازے کے مطابق اتنا تو کہا جا سکتا ہے کہ وہ جو کسی زمانے میں بادشاہوں کے درباروں میں بعض افراد کی خدمات سے خوش ہو کر انہیں شاہی خلط نقد رقم اور کبھی کبھی جاگیریں بھی عطا کی جاتی تھیں اب وہ سلسلہ قدر سمٹ کر سول ایوارڈز کی شکل اختیار کر چکا ہے اور جس طرح دنیا بھر میں ایسے ایوارڈز اعلی خدمات پر تمغوں کی صورت میں دیے جاتے ہیں تو ہمارے ہاں بھی ہر سال یوم ازادی کے موقع پر ان ایوارڈز کا اعلان کر کے خدمت گزاروں کو اپنوں پرایوں سے مبارکبادیں اور داد سمیٹنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اب کی بار کم از کم دو ایسے ناموں کی گونج سنائی دے رہی ہے جن میں سے ایک کا تعلق شعبہ صحافت جبکہ دوسرے کا تعلق شو بز سے ہے اور خدا لگتی کہیے تو دونوں کی خدمات اتنی ضرور ہیں کہ ان ایوارڈز کے لیے ان کی نامزدگی کو سراہا جا سکتا ہے تاہم گزشتہ برسوں کی نسبت دنیا بہت بدل گئی ہے اور وہ یہ کہ چند برس پہلے تک سول ایوارڈز کی نامزدگیوں سے لے کر ان کی سرکاری طور پر باقاعدہ اعلان سے پہلے اس حوالے سے تمام مراحل طے ہونے کے دوران کسی قسم کی خبر لیک ہو کر باہر نہیں اتی تھی اور ہر قدم پر رازداری کو ایک بنیادی وصف کے طور پر مقدم رکھا جاتا تھا مگر شاید اب وہ صورتحال نہیں رہی اس لیے گزشتہ تین چار روز سے مختلف حلقوں اور تنظیموں کی جانب سے نامزد افراد کو مبارکبادوں کے پیغامات سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں اصولی طور پر خوش نصیبوں کو مبارک باد کے پیغامات دینا کوئی بری بات نہیں مگر گزشتہ برسوں کے دوران لگ بھگ 12/ 14 برس تک صوبائی سطح پر ایوارڈز کمیٹی اور تقریبا چار پانچ سال تک مرکزی سطح پر کمیٹی کے رکن ہونے کی حیثیت اور ان ساری سرگرمیوں کا چشم دید گواہ ہونے کے ناتے ہم نے کچھ ایسے تماشے بھی دیکھے ہیں کہ صوبائی کمیٹی کی جانب سے نامزدگیوں کے ساتھ مرکزی کمیٹی نے عدم اتفاق کرتے ہوئے ان کو رد کر دیا اس لیے بہتر تو یہ ہوتا کہ جب تک اخری مراحل سے گزرنے کے بعد نامزدگیوں کو حتمی طور پر منظور نہ کیا جاتا اس حوالے سے کوئی بات یا نام کسی بھی طور لیک ہونے نہ پاتے کیونکہ اس میں کئی طرح کے مسائل موجود ہوتے ہیں یعنی اگر خدانخواستہ نامزد ہونے والے تو مبارکباد وصول کر کے خوش ہوں مگر مرکزی کمیٹی سے اس کی منظوری نہ ملنے کی وجہ دلشکنی کی صورتحال پیدا ہو جائے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی نامزد کردہ ناموں کے حوالے سے خبریں سامنے ا جاتی ہیں بہت سے کئی اور امیدوار بھی سامنے ا جاتے ہیں اور اپنے حامیوں کی جانب سے ایسے مطالبات کا طومار باندھ دیتے ہیں کہ انہیں بھی ایوارڈ دیا جائے یقینا ان میں بھی کئی ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر چونکہ اس حوالے سے صوبوں کا کوٹا مقرر ہے جس کے مطابق صوبائی کمیٹیاں نامزدگیاں کرتی ہیں اس لیے صوبائی سطح پر ناموں کو حتمی شکل دینے کے بعد مزید نامزدگیوں کی گنجائش نہیں رہ جاتی، ان سب سے قطع نظر ایک بہت ہی اہم نکتہ بھی سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے اور وہ ہے تمغہ امتیاز جیسے ایوارڈ کی تقسیم کا۔ اس ایوارڈ کی اہمیت اگرچہ اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے مگر ماضی میں ہم نے ایسے کئی لوگوں کو یہ ایوارڈ لینے سے انکار کرتے دیکھا اس کی ایک بنیادی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے ساتھ ایک معقول زقم بھی دی جاتی ہے جبکہ تمغہ امتیاز کے ساتھ ایک پیسہ بھی نقد انعام کے طور پر دینے پر اج تک غور نہیں کیا گیا اس لیے بعض لوگ یہ ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں بلکہ ہماری معلومات کے مطابق اب کی بار بھی جب صوبائی کمیٹی کا اجلاس ہو رہا تھا تو متعلقہ سیکرٹری نے ہر فارم میں پرائیڈ اف پرفارمنس کے لیے نامزدگیوں کو دیکھ کر مبینہ طور پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور وجہ پوچھی کہ تمغہ امتیاز کے لیے نامزدگیاں کیوں نہیں کی گئیں تو انہیں حقائق سے اگاہ کرتے ہوئے انعامی رقم کا ساتھ نہ ہونے کی بات کی گئی مگر انہوں نے کچھ ناموں کو تمغہء امتیاز کے لیے نامزد کیا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ متعلقہ سیکرٹری سرکاری سطح پر تمغہء امتیاز کے ساتھ بھی ایک معقول رقم یعنی کم از کم پانچ لاکھ روپے نتھی کرنے کی تجویز تحریری طور پر وفاقی حکومت کو بھجوا دیں تاکہ اس ایوارڈ کی وقعت بھی بڑھے جبکہ پرائیڈ اف پرفارمنس کے ساتھ رقم بڑھا کر 25 لاکھ روپے کر دی جائے اس لیے کہ موجودہ مہنگائی کے سبب روپے کی قدر کم ہونے سے موجودہ انعامی رقم کی قدر و قیمت بھی نہیں رہی امید ہے ان گزارشات پر توجہ دے کر سول ایوارڈز کی اہمیت دو چند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ وما علینا الاالبلاغ ۔
![]()

