Daily Roshni News

سگمنڈ فرائیڈ ، ایک عظیم ماہرِ نفسیات

سگمنڈ فرائیڈ ، ایک عظیم ماہرِ نفسیات

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سگمنڈ فرائیڈ کا نام آتے ہی ہمارے ذہن میں ایک عظیم ماہرِ نفسیات کا تصور اُبھرتا ہے لیکن اگر ہم ان کی ذاتی زندگی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی مسلسل دکھ،تکالیف اور پریشانیوں میں بسر کی۔

فرائیڈ 1856ء میں ایک غریب یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ شروع سے ہی ان کے خواب غربت کے بھاری بوجھ تلے دبے رہے مگر پھر بھی انہوں نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ فرائیڈ ایک ذہین مگر طبیعتاً بہت حساس انسان تھے۔ غریب اور یہودی ہونے کے سبب انہیں اکثر معاشرتی تعصب اور سماجی تنہائی کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔

انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے قیمتی سال تحقیق اور مطالعہ میں گزارے مگر اس راستے میں بھی مشکلات نے کبھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ جب انہوں نے انسانی لاشعور جنسی جبلت اور خوابوں کی تعبیر پر اپنی تحقیقات پیش کیں تو انہیں نہ صرف سائنسی دنیا سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا بلکہ معاشرتی سطح پر بھی شدید تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کے نظریات کو غیر اخلاقی اور ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ یہ سب کچھ ایک حساس اور  انتہائی قابل انسان کے لیے بہت اذیت ناک تھا۔

فرائیڈ کی سب سے بڑی ذاتی آزمائش ان کی صحت تھی۔ وہ شدید اعصابی دباؤ اور ڈپریشن میں مبتلا رہتے تھے۔ وہ سگار کے بھی عادی تھے جس کی وجہ سے سب سے بڑی قیامت ان کے اوپر تب ٹوٹی جب انہیں 1923ء میں منہ کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ یہ بیماری ان کے لیے اگلے کئی برسوں تک ایک نہ ختم ہونے والا عذاب ثابت ہوئی۔ ان کی تقربیاً 30 مرتبہ سرجری ہوئی منہ میں مصنوعی آلات لگائے گئے اس دوران انہیں شدید درد اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا اس قدر تکلیف کے باوجود بھی وہ اپنی صحت کی پرواہ کیے بنا لکھنے اور اپنے خیالات دنیا تک پہنچانے میں مگن رہے۔

مگر پھر ایک وقت ایسا آیا جب درد برداشت کرنا بہت مشکل ہو گیا تو 1939ء میں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں انہوں نے اپنے قریبی ساتھی اور معالج ڈاکٹر مینگس ارنسٹ سے درخواست کی کہ انہیں پرسکون نیند سلا دیا جائے۔جس کے بعد انہیں مارفین کا انجکشن لگا دیا گیا اور یوں بالآخر انہیں ناقابلِ برداشت درد سے نجات مل گئی۔

Loading