ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سیدنا بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں:اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں کہ جو انہیں ایک نظر دیکھ لے، وہ ایسی دائمی سعادت پا لیتا ہے جس کے بعد کبھی بدبخت نہیں ہوتا۔
دنیا اہلِ دنیا کے لیے فریب پر فریب ہے،
آخرت اہلِ آخرت کے لیے خوشی پر خوشی ہے،
اور اللہ کی محبت، اس کے محبوب بندوں کے لیے نور پر نور ہے۔
ایک شخص نے عرض کیا:
کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں اپنے رب کے قریب ہو جاؤں؟
فرمایا:
اللہ کے اولیاء سے محبت کرو تاکہ وہ تم سے محبت کریں،
کیونکہ اللہ اپنے اولیاء کے دلوں کو دیکھتا ہے،
شاید وہ تمہارا نام کسی ولی کے دل میں دیکھ لے
اور تمہیں بھی اپنا ولی بنا لے۔
فرمایا:
میں تیس سال تک جب بھی اللہ کا ذکر کرنا چاہتا،
تو کلی کرتا اور زبان دھوتا،
اس تعظیم میں کہ اللہ کا نام لینے جا رہا ہوں۔
ان سے اسمِ اعظم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
اسمِ اعظم کی کوئی حد نہیں،
اسمِ اعظم یہ ہے کہ تمہارا دل اللہ کی وحدانیت کے سوا ہر چیز سے خالی ہو جائے،
پھر جس نام سے چاہو اسے پکارو،
وہ نام تمہیں مشرق سے مغرب تک لے جائے گا۔
فرمایا:
اللہ کے کچھ خاص بندے ایسے ہیں کہ
اگر جنت میں انہیں اللہ کے دیدار سے محروم کر دیا جائے
تو وہ جنت سے نکلنے کے لیے اسی طرح فریاد کریں
جیسے جہنمی جہنم سے نکلنے کے لیے کرتے ہیں۔
فرمایا:
اگر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے
تو سب سے پہلے میں ان کے لیے شفاعت کروں گا
جنہوں نے مجھے اذیت دی اور مجھ سے بے رخی کی،
پھر ان کے لیے جنہوں نے مجھ سے نیکی کی اور عزت دی۔
پوچھا گیا:
ہم عبادت تو کرتے ہیں مگر اس میں لذت کیوں نہیں ملتی؟
فرمایا:
اس لیے کہ تم عبادت کی عبادت کرتے ہو،
اگر اللہ کی عبادت کرو تو عبادت کی لذت پا لو گے۔
سنت اور فرض کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
سنت دنیا کو چھوڑنا ہے،
اور فرض اللہ کی صحبت اختیار کرنا ہے،
کیونکہ ساری سنت دنیا سے بے رغبتی کی طرف بلاتی ہے
اور پوری کتاب اللہ کی قربت کی طرف رہنمائی کرتی ہے،
جس نے سنت اور فرض کو سمجھ لیا
اس کا ایمان کامل ہو گیا۔
فرمایا:
عارف کا سب سے ادنیٰ مقام یہ ہے کہ
وہ پانی پر چلے اور ہوا میں اڑے،
اور سب سے اعلیٰ مقام یہ ہے کہ
وہ دنیا و آخرت دونوں سے گزر جائے
اور اللہ کے سوا کسی چیز کی طرف التفات نہ کرے۔
هو الله
![]()

