Daily Roshni News

سینئر ایرانی عہدیدار کی پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہونے کی تصدیق

سینئر ایرانی عہدیدار کی پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہونے کی تصدیق

پاکستان(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سینئر ایرانی عہدیدار نے پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز موصول ہونے کی تصدیق کر دی۔

برطانوی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق سینئر ایرانی عہدیدار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران کو پاکستان کی جانب سے فوری جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے اور جنگ بندی پیشکش کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سینئر ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن مستقل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتا، تہران عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔

ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا تہران دباؤ میں آکر کسی ڈیڈ لائن کو قبول کرنے اور فوری فیصلہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پاکستان کا جنگ بندی کے مجوزہ فریم ورک پر تبصرے سے گریز

پاکستانی حکام نے ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مجوزہ فریم ورک پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے گریز کیا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسن اندرانی نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف جاری امریکی و اسرائیلی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی مجوزہ فریم ورک کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے گروپ کی ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت: امریکی میڈیا

پاکستان کی ایران امریکا کے درمیان ثالثی سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرگردش جھوٹی خبروں کی تردید

ایران نے پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے امریکی پیغامات موصول ہونےکی تصدیق کردی

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا 45 دن کی جنگ بندی کی پیشکش یا 15 نکاتی تبادلے سے متعلق کئی رپورٹس سامنے آئی ہیں تاہم ہم انفرادی اور مخصوص معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے، ہمارا واضح مؤقف ہے کہ امن کا عمل جاری ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان، مصر اور ترکیے کے ساتھ مل کر خطے میں امن کے لیے کوششیں کر ر ہا ہے اور اس حوالے سے چند روز قبل ترک، مصر اور سعودی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ہونے والے ایک اجلاس میں شرکت بھی کی تھی۔ اس اجلاس کے اگلے ہی روز اسحاق ڈار نے چین کا دورہ بھی کیا تھا جبکہ اسحاق ڈار ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی حکام سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی جنگ بندی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا ہم پاکستان کے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

Loading