شباب کی باتیں
تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)کہتے ہیں کبھی کے دن لمبے، کبھی کی راتیں لمبی۔ اور یہ جو تازہ خبر آئی ہے تو اس سے لمبے دن کا ثبوت بھی سامنے آگیا ہے، وہ یوں کہ خیبر پختونخواہ میں عالمی یوم خواندگی منانے کا فیصلہ کرتے ہوئے یکم تا آٹھ ستمبر یہ (یووووووم) منایا جا رہا ہے، حالانکہ کسی زمانے میں اتنی طوالت کو ہفتہ کہا جاتا تھا، خاص طور پر ہفتہء ٹریفک، ہفتہء صفائی، ہفتہء صحت وغیرہ وغیرہ۔ تاہم یہ جو (یووووووم) خواندگی کو اتنا (طووووول) دیا گیا ہے تو اس پر ہمیں اپنے ریڈیو کے ایک ساتھی یاد آگئے ہیں، شعبہء انجینئرنگ سے ان کا تعلق تھا اور ہم سب قیام کوئٹہ کے زمانے میں ریڈیو پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ایک ہاسٹل میں مختلف کمروں میں رہائش پذیر تھے۔ یہ 80ء کی دہائی کا ذکر ہے چند ایک خاندانوں کے علاوہ باقی “چھڑوں” کی سی زندگی گزارتے تھے۔ تو ہر اتوار کو سارے چھڑے اپنے اپنے کمروں کی صفائی ستھرائی کیا کرتے تھے، جسے انجینیئر (نعیم نام تھا اس کا) نےکیا خوب نام دے رکھا تھا اور کہتا تھا آج یوم (صفائی ڈے کا دن) ہے یعنی یوم،ڈے اور دن سے کیا خوبصورت جملہ مرتب کیا تھا موصوف نے۔ اس لیے ہمیں تو بالکل وہی صورتحال لگ رہی ہے کہ عالمی یوم خواندگی کو یکم تا آٹھ ستمبر منانے کو ہفتے کی بجائے (یوووووم) قرار دے کر اس کی طوالت کی وضاحت کی گئی ہے. اس پر ہمیں اپنا ہی ایک شعر یاد آگیا ہے
*طویل ہوگی تو ہم لطف لیں گے فرقت کا*
*تجھے تو اے شب ہجراں سنوارنا ہے ہمیں*
ویسے یہ جو سال بھر اقوام متحدہ کے تحت مختلف طبقوں کے حوالے سے “یومین” منانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اس کا مقصد ہمیں تو اس کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اقتدار پر براجمان (قابض کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے) ہیں یا ہر دو چار پانچ سال بعد نام نہاد انتخابات کے نام پر اپنے اپنے سسٹم کے تحت (فارم 42 تا 47) کی مدد سے، جبکہ یہ نمبر تو ہمارے ہاں رائج ہیں، اور دیگر ممالک میں اپنے اپنے نمبر ہو سکتے ہیں۔ یا پہلے ہی سے ملا ہوا اقتدار بار دیگر ہتھیا لیتے ہیں، اور پھر ووٹروں کو عمومی طور پر طاق نسیاں میں کٹھ پتلیوں کی طرح سجا کر صرف اپنے مخصوص ایجنڈے پر عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ ان سے توجہ ہٹانے کے لیے اقوام متحدہ بھی بطور سہولت کار ان کے لیے سال کے مختلف اوقات میں مختلف طبقات کے نام پر دن منانے کا شیڈول جاری کرتی ہے، تاکہ “کالانعام” انہی سرگرمیوں میں الجھی رہے اور حکمران طبقات کی مبینہ (ناکردنیوں) کی جانب ان کی توجہ نہ جا سکے۔ مثلاً جیسا کہ کبھی ماؤں کا دن، کبھی تعلیم کا دن، کبھی صحت و صفائی کا دن وغیرہ وغیرہ۔ ان دنوں میں اگرچہ والد کا دن بھی شامل ہے جس پر میڈیا، سوشل میڈیا پر بعض منچلے ایسی تصویریں لگا دیتے ہیں جن کو دیکھ کر دکھ بھی ہوتا ہے اور عبرت بھی پکڑنے کے مواقع ملتے ہیں۔ ایسے موقعوں کے لیے کسی شاعر نے ایک بہت ہی سبق آموز شعر کہا تھا کہ
*مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ*
*میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے*
جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ پہلے “دن” منانے کی بجائے ہفتے منائے جاتے تھے، یعنی ہفتہءٹریفک کے دوران ٹریفک پولیس متعلقہ شہر میں جگہ جگہ کیمپ لگا کر یعنی تمبو گاڑ کر چلنے والی ٹریفک اور عام راہگیروں کو ٹریفک قوانین کی پاسداری کے حوالے سے نہ صرف پمفلٹ تقسیم کرتے تھے، شہر بھر میں بینرز لگا کر عوام کو ٹریفک کے اصولوں سے باخبر رہنے کی مہم چلاتے تھے اور کیمپ کے اندر لاؤڈ سپیکر لگا کر بلند آواز سے عوام کو ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین بھی کیا کرتے تھے۔ اسی طرح ہفتہء صفائی کے دوران پشاور کے ڈپٹی کمشنر کی خدمات حاصل یوں کی جاتی تھیں کہ میونسپلٹی والے انہیں بطور خاص نئی جھاڑو (جو گلیوں میں جمع داروں کے پاس ہوتی ہے اور جس میں جھاڑو والی تیلیوں کو ایک لمبے بانس کے ساتھ جوڑا ہوتا ہے) پکڑا کر اور سڑک پر پہلے ہی سے ردی کاغذ کو ایک جگہ ڈھیر کی صورت اکٹھا کر کے, ان کو دو چار کش لگانے اور ان کی تصویریں اتارنے کا اہتمام کیا جاتا تھا، تاکہ اگلے روز اخبارات میں اس کیپشن کے ساتھ تصویریں شائع کر دی جائیں کہ “ڈپٹی کمشنر پشاور شہر میں ہفتہء صفائی مہم کا آغاز کر رہے ہیں” اس کے ساتھ ہی ہفتہء صفائی کا آغاز ہو جاتا تھا۔ مگر یہ ہفتہ گزرنے کے بعد صورتحال پہلے جیسی ہی ہو جاتی تھی یعنی بقول مرحوم طہ’ خان
*آلودگی سمیٹ کے سارے جہان کی*
*جب کچھ نہ بن سکا تو پشاور بنا دیا*
طہ’ خان نے اس پر بھی بس نہیں کی بلکہ ایک اور جگہ فرمایا
(عوالناس اب تو سینی کوبی کرکے کہتے ہیں
پریشانی، پریشانی، پریشانی،پریشانی
قیادت میں اگر آلودگی آجاۓ کیا کہیئے
“چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی)
اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر “دن” منانے کی روایت ڈالنے پر اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کا شکریہ ادا نہ کیا جائے تو یقینا زیادتی ہوگی، اس لئے کہ ان ایام شناسی سے تو حکمران طبقات کو اپنے مخصوص ایجنڈوں پر بھرپور توجہ دینے اور عوام کے مسائل کو کوڑے دانوں میں پھینکنے کے بھرپور مواقع ملتے ہیں یعنی بقول علامہ اقبال
*خلق خدا کی گھات میں رند و فقیرو میرو پیر* *تیرے جہاں میں ہے وہی گردش صبح و شام ابھی*
![]()

