Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ تمغہء امتیاز کے ساتھ رقم کیوں نہیں؟۔۔۔ تحریر  ۔۔۔  مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ تمغہء امتیاز کے ساتھ رقم کیوں نہیں؟۔۔۔ تحریر  ۔۔۔  مشتاق شباب)ہا ہاکار مچی ہوئی ہے،کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی،تبصرے کیے جا رہے ہیں، اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں، طعنوں کی بھرمار ہے، مگر ہمیں تو ایک محترم خاتون کا تبصرہ بہت اچھا لگا، جنہوں نے اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک اور محترم شاعر، کالم نگار اور ایک بڑے اخبار میں ایک طویل عرصے سے ادبی صفحہ چلانے کی ذمہ داری سنبھالنے والی، محترمہ عائشہ مسعود (جن سے پہلی ملاقات کئی سال پہلے قطر میں منعقدہ ایک مشاعرے میں ہوئی تھی,جہاں ہم دونوں بطور شاعر مدعو تھے)  اور پھر کچھ عرصہ پہلے اباسین آرٹس کونسل،پشاور میں، ان کے شعری مجموعے کی تقریب پذیرائی  بھی ہم نے منعقد کی تھی، جس میں ہم نے بھی اظہار خیال کیا تھا، کی حالیہ سول ایوارڈ پر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے محولہ خاتون، مشرف جبین نے بہت خوبصورت اور حوصلہ افزا الفاظ لکھے کہ “کچھ نہ کہو, کچھ بھی نہ کہو, سب کو خبر ہے, سب کو پتا ہے، مبارکیں دو ورنہ لوگ کہیں گے جل ککڑیاں اور جل ککڑے ہیں۔”

 محترمہ عائشہ مسعود نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا “ایوارڈ یافتگان کا تربوزوں کی طرح ڈھیر لگ گیا,کئی تربوز تو گلے سڑے بھی ہیں.” ایک اور تبصرہ کسی بابا میاں صاحب نامی شخص کا سامنے آیا ہے اور قابل غور یوں ہے کہ اس تبصرے میں  ایک خاص لسانی گروہ کا دکھ نمایاں ہے۔  وہ کہتے ہیں ایک بھی پنجابی زبان کا ادیب یا شاعر نہیں اور یہ اس نون لیگ کے دور میں ہوا ہے جس کا نعرہ تھا (جاگ پنجابی جاگ),  غالبا ان بابا میاں صاحب کا اشارہ اس نعرے کی جانب ہے جو آج سے کئی برس پہلے، بڑے میاں صاحب یعنی میاں نواز شریف نے لگایا تھا کہ

*جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گئی آگ*

اس گلے یا شکایت کا جواب تو ایک سینیئر صحافی اور اینکر، رؤف کلاسرا نے اپنی ٹویٹ میں ان الفاظ میں دیا ہے کہ “اور ایوارڈز کمیٹی کے سربراہ ہزایکسیلنسی احسن اقبال آج ٹویٹ کر کے اپنے اس کارنامے پر باقاعدہ داد کے طلبگار تھے کہ کتنے کمال کے ایوارڈز انہوں نے تقسیم کیے ہیں۔ پورا پنجاب تمغوں سے بھر دیا ہے۔ سب تمغے  پنجاب کے ماتھے پر سجا دیئے ہیں”

اب اس بابا میاں صاحب اور بقول روف کلاسرا احسن اقبال کے دعؤوں کے درمیان اصل حقائق کی کھوج کون لگائے گا، کہ سول ایوارڈز میں واقعی پنجابی اہل قلم کو نظر انداز کیا گیا ہے، یا بقول احسن اقبال پورا پنجاب تمغوں سے بھر دیا گیا ہے؟ ادھر پاکستان ٹوڈے نامی ایک نیوز ویب سائٹ پر بہت خوبصورت خبر شائع ہوئی ہے، جس کی سرخی کچھ یوں ہے کہ

*24 کروڑ کا پاکستان,335 سول اعزازات, 140 کروڑ کا بھارت, 101 پدما شری ایوارڈز*

 آگے ایک صحافی ماجد نظامی نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔ “اتنے سارے 30 مار خان, اتنے افلاطون اور اتنی قابلیت کے باوجود پاکستان ترقی کیوں نہیں کر رہا؟

 یہ شاید پہلی بار ہے کہ سول ایوارڈز پر اس قدر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، ویسے تو (اندھا بانٹے)  قسم کے ان ایوارڈز کی تقسیم کا یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے۔  خصوصا جن نابغہء روزگار شخصیات کو ایک بار پھر نظر انداز کیا گیا ہے، یا کچھ کو ان کے شایان شان ایوارڈز نہیں دیے گئے، ان میں پیرزادہ قاسم کو یوں نظر انداز کرنا قابل مذمت ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

 اسی طرح جناب حلیم قریشی کو کم از کم ہلال امتیاز یا ستارہء امتیاز دینا چاہیے تھا، مگر ان کے مقابلے میں پستہ قد افراد کو تو پرائیڈ آف پرفارمینس جبکہ حلیم قریشی صاحب کو تمغہء امتیاز پر ٹرخا دیا گیا ہے،  صفدر ہمدانی نے ان ایوارڈز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ،” یہ توہین اعزازات” کے زمرے میں شامل کئے جا سکتے ہیں”۔  اس طرح کچھ اور اہم لوگوں کے نام بھی سامنے آرہے ہیں جن کو ان ایوارڈز کا حقدار قرار نہیں دیا گیا اور خاص طور پر پنجاب سے ایسی آوازیں مسلسل اٹھ رہی ہیں، جن میں ایوارڈز کی تقسیم کو بندر بانٹ سے جوڑا جا رہا ہے، حالانکہ ایسے الزامات دو چھوٹے صوبوں نے کبھی نہیں لگائے اور ہر سال پہلے نمبر پر پنجاب جبکہ دوسرے نمبر پر سندھ کو رکھا جاتا تھا۔  کیونکہ وہ جو اس حوالے سے مرکزی کمیٹی ہے اس میں اکثریت ان ہی دو صوبوں کے لوگوں کی ہوتی ہے اور ہم نے بذات خود یہ تماشا دیکھا ہے کہ اجلاس کے دوران یا کبھی کبھی اس سے بھی پہلے  ان دونوں صوبوں کے (اکابرین)  آپس میں کئی ناموں پر اتفاق کر لیتے ہیں، اور جب بحث ہوتی ہے تو متعلقہ “ریوڑیوں والے ناموں”  پر یا تو بحث ہی نہیں ہونے دیتے یا ایک آدھ جملہ کہہ کر اور انہیں ایوارڈز کا حقدار قرار دے کر “آگے بڑھیں، آگے بڑھیں” کی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں۔ البتہ چھوٹے صوبوں کے نامزد افراد کے ناموں پر خوب لے دے کی جاتی ہے اور بعض اوقات جن کے نام تک موجود نہیں ہوتے ان کی بھی لاٹری نکلوا دی جاتی ہے۔ جیسا کہ مبینہ طور پر اب کے برس کیا گیا ۔

اس حوالے سے ہمیں پشتو کی ایک ضرب المثل یاد آگئی ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ دوڑ دھوپ کی نہیں قسمت کی بات ہے۔ تاہم اب کی بار یار لوگوں نے اس ضرب المثل کو بھی غلط ثابت کر دیا اور وہ یوں کہ دستیاب معلومات کے مطابق بعض لوگوں نے اہم حلقوں سے روابط کے لیے زبردست دوڑ دھوپ کی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ 13 اگست رات 12 بجے کے بعد سول ایوارڈز کی فہرست جاری ہونی چاہیے تھی۔ کیونکہ 12 بج کر ایک منٹ پر تاریخ تبدیل ہو کر 14 اگست بن گئی تھی، مگر 14 اگست شام تک چونکہ یہ خبر (تاریخ میں پہلی بار روک کر) احسن اقبال کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے مبینہ طور پر ناموں میں رد و بدل کی ذمہ داری پوری کی، اس لیے ناموں کی فہرست دیر سے جاری ہوئی اور ایسے لوگوں کے نام نکال کر (جن کا کوئی والی وارث نہیں تھا یعنی صرف اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے انہیں ایوارڈ ملنا تھا)  زورآور،  یعنی زبردست اور سفارشیوں کے نام شامل کر دیئے گئے تھے۔ یوں  جنہوں نے دوڑ دھوپ کی تھی۔ کہ بقول  پشتو ضرب المثل کہ یہ قسمت کی بات ہے،  دوڑ دھوپ سے کچھ نہیں ہوتا،  کو بھی غلط ثابت کر دیا تھا۔  ایک اور اہم بات کی جانب بار دیگر توجہ دلانا ضروری ہے یعنی  یہ جو تمغہء امتیاز کے ساتھ کوئی رقم نہیں ہے، تو اس کے ساتھ بھی کم از کم 10 لاکھ روپے کا انعام مقرر کیا جائے کیونکہ ماضی میں بعض لوگوں نے اسے صرف رقم نہ ہونے کی وجہ سے قبول کرنے سے جو انکار کیا تھا اس کا خاتمہ ہو اس لیے کہ اگر پرائیڈ آف پرفارمنس کے ساتھ رقم رکھی جا سکتی ہے تو تمغہء امتیاز کے ساتھ کیوں نہیں؟  وما علینا الا البلاغ

Loading