Daily Roshni News

شباب کی باتیں۔۔۔ لفافہ پھاڑ دیا پھر ترا پتا لکھ کر۔۔۔ تحریر  ۔۔۔  مشتاق شباب

شباب کی باتیں

لفافہ پھاڑ دیا پھر ترا پتا لکھ کر

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔  مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں۔۔۔ لفافہ پھاڑ دیا پھر ترا پتا لکھ کر۔۔۔ تحریر  ۔۔۔  مشتاق شباب)کالم لکھنے کے لیے بیٹھا تو برقی رو منقطع ہو گئی اس وقت صبح کے لگ بھگ پونے 10 بجے تھے خیال تھا کہ جس طرح عمومی طور پر مختصر وقت کے لیے بجلی چلی جاتی ہے اور پھر اجاتی ہے تو ایسا ہی ہوگا مگر

 اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

تب کی روٹھی ہوئی بجلی نے دوبارہ شکل دکھائی تو تین بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس نہ سولر سسٹم ہے نہ کوئی اور متبادل انتظام،  اس لیے ایک جانب گرمی میں جھلستے رہے تو دوسری جانب گرمی اور پسینے کی وجہ سے قلم اٹھانے کی ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی، حالانکہ ہمارا علاقہ گزشتہ دو ڈھائی ماہ سے نو لوڈ شیڈنگ زون میں ڈالا جا چکا ہے اور اس کا باقاعدہ اعلان بھی پیسکو والوں نے کر رکھا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس فیڈر سے ہمارے علاقے کے جملہ ٹرانسفارمرز منسلک ہیں ان پر اب بجلی چوری یعنی کنڈا کلچر کی وارداتیں نہیں ہوتیں،  اس لیے اب پیسکو کے مطابق ہمارے فیڈر کو لوڈ شیڈنگ فری زون میں ڈال دیا گیا ہے مگر وہ جو مرزا غالب نے کہا ہے کہ

تیرے وعدے پر جیئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا؟

تواب عملی صورت یہ ہے کہ یہ جو اعلان پیسگو والوں نے کر رکھا ہے اس میں یقینا جھوٹ کی کوئی ملاوٹ نہیں ہوگی مگر کیا کیا جائے کہ فیڈر پر جو لوگ ڈیوٹی دیتے ہیں ان میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو اردو محاورے کے مطابق “بچھو” کی طرح اپنی عادت سے مجبور ہو کر کچھوے کے ساتھ “دوستی”  کے اظہار کے لیے ڈنک مارنے سے باز نہیں اتے، دراصل گزشتہ کئی دہائیوں سے فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کے شیڈول پر عمل درامد کے لیے جو لوگ مقررہ اوقات میں فیڈرز کو آف،  آن کرنے کی ذمہ داری نبھاتے آرہے ہیں ان کی یہ عادت اس قدر راسخ ہو چکی ہے کہ اگر وہ نیند میں بھی ہوں تو ان کی انگلیاں آٹومیٹک یعنی خودکار طریقے سے فیڈر آف کرنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کرتیں  کیونکہ بیچارے اپنی عادت سے مجبور ہوتے ہیں اور وہ جو کسی سیانے نے کہا ہے کہ

عادت بد نہ رود تا لب گور

تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب ان کے زیر انتظام فیڈر لوڈ شیڈنگ سے مستثنٰی ہو چکا ہے مگر ان کی انگلیوں میں جو خارش ہوتی رہتی ہے اس سے مجبور ہو کر اب بھی آن آف سویچ کے ساتھ “دل لگی”  کرنے سے یہ لوگ باز نہیں آتے۔ اس لیے یہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے یعنی بقول ناز مظفر آبادی

عشق، سیاست، دوستی سے اختلاف اس نے کیا

دل کے ہر اک فیصلے سے انحراف اس نے کیا

یہ جو اپنی عادت سے مجبور پیسکو کے بعض اہلکار مبینہ طور پر “بچھو”  کا کردار ادا کر رہے ہیں اور جن فیڈرز کو خود پیسکو نے لوڈ شیڈنگ فری زون میں ڈال دیا ہے مگر یہ “خارش زدہ”  لوگ اب بھی اپنی عادت سے باز آنے کو تیار نہیں ہیں۔ پیسکو کے اعلٰی حکام کو یا تو ان کا علاج کر لینا چاہیے یا پھر ان سے مستقل گلوخلاصی کے بارے میں پالیسی بنا لینی چاہیئے، یعنی ان کو فیڈرز سے ہٹا کر متبادل پوسٹوں پر تبدیل کر کے ان کی جگہ فریش اور بے ضرر افراد کو مقرر کرنے پر غور کرنا چاہیئے۔ تاکہ مردم آزاری کا یہ سلسلہ ختم ہو جائے۔ فردوسی نے کیا خوب کہا ہے

ز بد اصل چشمی بہی داشتن

بود خاک در دیدہ انباشتن

رہ گئی یہ طویل لوڈ شیڈنگ جس کا ہمیں آج سامنا کرنا پڑا یعنی تقریبا تین گھنٹے سے بھی زیادہ تو اس حوالے سے ملک کے دیگر شہروں کی نسبت پیسکو کا رویہ ہمیشہ سے منفرد رہا ہے یعنی سندھ اور پنجاب کے اندر وہاں جب کسی فیڈر پر تاروں کی تبدیلی یا اور کسی مقصد کے لیے اتنی طویل لوڈ شیڈنگ مقصود ہو تو متعلقہ کام کے حوالے سے وہاں کے لوکل اخبارات میں باقاعدہ اشتہارات شائع کر کے لوگوں کو مطلع کیا جاتا ہے۔ پشاور کے لوکل اخبارات از راہ مہربانی ابتدا ہی سے بغیر کسی معاوضے کے، یہ اطلاعات خبروں کی صورت میں چھاپ دیتے تھے مگر وقت بدلتے دے تو نہیں لگتی۔ اب کم کم ہی اخبارات،  وہ بھی چھوٹے اخبارات،  جن کی زیادہ عوام تک رسائی نہیں ہوتی،  یہ خبریں شائع کر دیتے ہیں مگر بڑے اور اہم اخبارات سندھ اور پنجاب کی طرح بغیر معاوضے کے ایسی خبریں شائع نہیں کرتے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ پیسکو نے آج کے اس طویل لاک ڈاؤن کے بارے میں خبر جاری کی ہو مگر گزشتہ روز کے اخبارات میں شائع نہیں ہوئی جبکہ یوم عاشور پر اخبارات کی چھٹی کی وجہ سے اج اخبارات شائع بھی نہیں ہوئے اس لیے عوام کو خبر نہ ہو سکی اور انہیں مشکل کا سامنا کرنا پڑا ویسے اگر اس قسم کی اطلاعات سوشل میڈیا پر ڈال دی جائیں کہ اب تو ہر محکمے نے اپنا آفیشل فیس بک اور واٹس ایپ اکاؤنٹ کھول رکھا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر اہم اطلاعات عوام تک پہنچائی جا سکتی ہیں اس لیے امید ہے کہ پیسکو بھی اس سہولت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے عوام کو باخبر رکھنے کے لیے اقدامات اٹھائے گی۔  بقول شہزاد احمد

سکون کچھ تو ملا دل کا ماجرا لکھ کر

 لفافہ پھاڑ دیا پھر تیرا پتا لکھ کرoali

Loading