Daily Roshni News

*شباب کی باتیں *۔۔۔تو نے چرا کے دھوپ کو اندھیرا کر دیا۔۔۔تحریر۔۔۔مشتاق شباب

*شباب کی باتیں *

تو نے چرا کے دھوپ کو اندھیرا کر دیا

تحریر۔۔۔مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔شباب کی باتیں ۔۔۔ تو نے چرا کے دھوپ کو اندھیرا کر دیا۔۔۔ تحریر۔۔۔مشتاق شباب)اسمبلی میں عام طور پر گرما گرمی اور زبانی جمع خرچ پر مبنی جھڑپیں مخالفین میں ہوتی رہتی ہیں یعنی کسی بھی مسئلے پر حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین اختلاف رائے رکھتے ہوئے تلخ کلامی پر اتر آتے ہیں جبکہ ایسا بہت ہی کم دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی طرف کے اراکین کسی بات پر آپس ہی میں الجھ پڑے ہوں، ایسا نظارہ چشم فلک نے گزشتہ روز اس وقت دیکھا  جب ایک ہی جماعت کے دو اراکین اپس ہی میں الجھ پڑے اور معاملہ توتکار سے اگے بڑھ کر ہاتھا پائی تک جا پہنچا۔ دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے تھے، ایک کے کہے ہوئے جو الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں وہ مبینہ طور پر کچھ یوں ہیں یعنی (دردغ بر گردن راوی) “گلہ کس سے کریں، چن چن کر کرپٹ اور بددیانت لوگوں کو اکھٹا کیا گیا ہے اور ۔۔۔۔۔ کے گٹھ جوڑ سے انہیں مسلط کیا گیا ہے، پورا صوبہ تباہ و برباد ہوا ہے، ایک شخص آدھے جنگلات بیچ کر کھا گیا ہے، مجھ پر الزامات لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکے”۔

 خبر یہ ہے کہ وہ جو ایک ہی جماعت کے دو رہنما اپس میں الجھ پڑے تھے انہیں دیگر اراکین پارلیمنٹ نے مداخلت کر کے الگ کر دیا اب یہ تو نہیں معلوم کہ معاملہ مکمل طور پر رفع دفع ہو گیا ہے یا پھر راکھ کی تہہ میں ایک آدھ چنگاری ابھی باقی ہے جو خدانخواستہ کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک کر اگ کے شعلوں میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ دیگر اراکین اسمبلی نے مداخلت کر کے جنگل کی آگ کو ٹھنڈا کیا ورنہ مشہور تو یہ ہے کہ جنگل میں ایک بار آگ لگ جائے تو انا” فانا”  ایکڑوں پر پھیلے ہوئے جنگل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے،  اسی لیے اردو زبان میں اس حوالے سے ایک محاورہ بھی مشہور ہے یعنی جنگل کی اگ کی طرح پھیلنا۔ محولہ واقعے سے ہمیں ملک کی پارلیمانی سیاست کا ایک اور واقعہ بھی یاد اگیا ہے،  جب قیام پاکستان کے چند برس بعد سابقہ مشرقی پاکستان اسمبلی کے ایک اجلاس میں اس وقت کے حزب اختلاف کے بعض ارکان نے اسمبلی کے سپیکر کی کسی رولنگ پر احتجاج کرتے ہوئے کرسیاں اٹھا کر انہیں مارنا شروع کیا تو کرسیاں مار مار کر بیچارے کو “”مار””  ہی دیا تھا۔ اس لیے تو ہم اس بات پر شکر بجا لاۓ ہیں کہ تازہ توتکار صرف ہاتھا پائی تک ہی محدود رہی ہے، اگرچہ یہ واقعہ سنانے کا مقصد اس تازہ جھڑپ کے ساتھ نتھی کر کے پرانے واقعے کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ اصل موضوع تو ان میں سے ایک رکن اسمبلی کی مبینہ شکایتی تقریر کے الفاظ میں ڈھونڈا جا سکتا ہے، اور یہ موضوع مبینہ طور پر آدھے جنگلات کی فروخت سے صوبے کی تباہی اور بربادی کی جانب اشارہ کرنے کا ہے، اس موقع پر ہم اس ملین ٹری سونامی اور بعد میں دوبارہ اسے بلین ٹری سونامی کا نام دے کر صوبے پر مبینہ طور پر جنگلات کی تباہی اور بربادی کو مسلط کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے کی جانب اشارہ کر کے کوئی نیا  پنڈورا باکس کھولنے کی کوشش بھی نہیں کرنا چاہتے، بس پشاور ہی سے تعلق رکھنے والے ایک شاعر پروفیسر حامد سروش کا ایک شعر اپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کرنا چاہتے ہیں کہ

 وہ پیڑ کاٹ کے لکڑی کو بیچ کر خوش تھا

پھر اس کے بعد کڑی دوپہر میں جلتا تھا

اب جہاں تک ملین ٹری اور بلین ٹری سونامی کے ناموں سے مسلط کردہ منصوبوں کے حوالے سے برسر اقتدار جماعت ہی کے ایک رکن اسمبلی کے دوسرے رکن پر لگائے جانے والے الزامات کا تعلق ہے تو اس کا جائزہ لیتے ہیں  یعنی کہ موصوف صوبے کے ادھے جنگلات بیچ کر کھا گیا ہے، تو ایک بہت ہی سینئر شاعر سیف الدین سیف کا یہ شعر یاد آ گیا ہے کہ

سیف انداز بیاں بات بدل دیتا ہے

ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

اسی لئے  ان تازہ الزامات کے سلسلے میں کچھ اپ بیتی اور کچھ جگ بیتی کی جانب توجہ مرکوز ہو جاتی ہے،۔

 1970ء کے انتخابات کے بعد سابقہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے برسر اقتدار انے کے بعد جس طرح جنرل یحیٰی خان اور ان کے ساتھیوں نے بوجوہ شیخ مجیب کو اقتدار سے دور رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی اور پھر 1971ء میں بھارت نے پاکستان پر شب خون مار کر مشرقی پاکستان کو جدا کرنے کی سازش کامیاب کرائی تو موجودہ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو اکثریتی جماعت ہونے کی وجہ سے اقتدار منتقل کر دیا گیا،  اسی فارمولے کے تحت صوبہ سرحد اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جے یو ائی برسر اقتدار ائیں، صوبہ سرحد میں نیب یعنی موجودہ عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علماء اسلام کی حکومت میں ارباب سکندر خان خلیل نے گورنر سرحد کا منصب سنبھالا، اس وقت راقم الحروف ریڈیو پاکستان پشاور میں پروگرام پروڈیوسر تھا اور بیرونی نشریات یعنی مختلف سرکاری تقاریب اور سماجی سرگرمیوں کے حوالے سے منعقدہ تقاریب کی کوریج کی ذمہ داری نبھا رہا تھا، اس دوران  صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو (بعد میں وزیراعظم) پشاور کے دورے پر آۓ تو پشاور ایئرپورٹ سے لے کر گورنر ہاؤس اور دیگر مقامات پر تقاریب کی ریکارڈنگ کے لیے ہمہ وقت موجود ہونا میری ذمہ داری تھی، ایئرپورٹ سے نکل کر ہم سیدھے  گورنر ہاؤس پہنچے تو گورنر ہاؤس کی اندرونی عمارت کی سیڑھیوں پر اس وقت کے ایک ایم پی اے کو (نام اس لیے نہیں لیتا کہ اب وہ مرحوم ہو چکے ہیں اور جن کا تعلق مانسہرہ سے تھا) دیکھ کر صدر بھٹو نے گورنر ارباب سکندر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا,

” ارباب صاحب میں نے اس جنگل چور کے بارے میں اپ کو تحریری طور پر ہدایت کی ہے کہ اسے جنگل کی تباہی کے جرم میں گرفتار کریں مگر اپ نے اسے اب تک ازاد چھوڑا ہوا ہے” ،  یہ سن کر وہ مبینہ جنگل  چور دانت نکال کر کھی کھی کرنے لگا،  جبکہ ارباب صاحب مرحوم نے کہا  “سر!  اس بارے میں، میں اپ سے پھر بات کروں گا”۔  اس کے بعد منظر یوں بدلتا ہے کہ جب کچھ عرصے بعد بھٹو نے بلوچستان کی حکومت کو برطرف کر کے وہاں نواب اکبر خان بگٹی کو مسلط کیا تو احتجاج کے طور پر مولانا مفتی محمود نے وزارتِ اعلیٰ سے استعفی دے کر حکومت ختم کر دی،  اس کے بعد اسی جنگل چور کے ساتھ دست تعاون بڑھاتے ہوئے سرحد میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قیوم گروپ نے حکومت میں اسی جنگل چور کو وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپ دیا۔ پھر کہاں کے جنگلات اور کہاں کی چوری اس پر ہم اپنا ہی ایک شعر اپ کی نظر کرتے

سورج کے ساتھ ساتھ تھا چلنا ہمیں حضور

تو نے چرا کے دھوپ کو اندھیرا کر دیا

Loading