Daily Roshni News

شباب کی باتیں ۔۔۔ خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

شباب کی باتیں

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے

تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے ۔۔۔ تحریر  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔   مشتاق شباب)دوست مکرم مرحوم ڈاکٹر نذیر تبسم نے کیا خوب کہا ہے کہ

کہانی کیا سناؤں اپنے گھر کی

تمہارے سامنے ملبہ پڑا ہے

صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہےکہ وفاق سے رعایت نہیں صوبے کا آئینی حق مانگ رہے ہیں، وزیر اعلیٰ نے نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں صوبے کے حقوق کا مقدمہ نہایت موثر انداز میں پیش کیا ، حکومت آئینی حقوق، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی۔

ادھر دوسری جانب گورنر ہاؤس پشاور میں بدھ کے روز پیپلز لائرز فورم کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کندی نے کہا ہے کہ صوبے کے حقوق کے لئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔۔۔۔  اس ضمن میں ایک اور خبر کا ذکر نہ کرنا یقیناً زیادتی ہوگی اور وہ خود وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے اس دعوے کے حوالے سے ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں ضم اضلاع کا حصہ شامل ہوگا۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق وزیراعظم نے 180 دن کے اندر ایوارڈ اپ ڈیٹ کرنے کی یقین دہائی کرائی ہے ورنہ صدارتی آرڈیننس جاری کردیا جائے گا ۔

اس پر ہمیں تاش کا ایک دلچسپ کھیل “سویپ” یاد آگیا، جس میں چاروں کھلاڑی پتے پھینک کر میدان میں ڈھیر کرتے رہتے ہیں اور شاطر کھلاڑی  “نمبروں” کے حوالے سے اپنا مضبوط پتا پھینک کر ساری ڈھیری اٹھا کر قیمتی نمبروں والے پتے لے جاتا ہے۔ ڈاکٹر نذیر تبسم کے محولہ بالا شعر کا اس سارے معاملے پر اطلاق یوں ہوتا ہے کہ ان تینوں بیانات کا جواب وفاق نے اس طرح دیا ہے کہ تمام معاملات کو سویپ یعنی “جھاڑو” پھیر کر ایک طرف رکھ دیا ہے۔ اور اس خبر کی سرخی اخبار کے پہلے صفحہ پر یوں جمائ گئی ہے کہ

“ڈیڈ لاک ختم ، این ایف سی فارمولے میں تبدیلی نہ کرنے پر اتفاق”.

منیر نیازی نے کہا تھا

خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے

ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

کہتے ہیں ایک میراثی نے ایک بار اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ۔۔۔” باسمتی چاول ہوں، گاۓ کا دودھ ہو، ولایتی کھنڈ ہو، بندہ کھیر پکاۓ اور سردیوں کی رات چھت پر رکھ کر سوجاۓ، صبح اٹھے تو انگلی لگا کر وہ کھیر کھا لے”.

کسی نے پوچھا، تمہارے پاس ان میں سےکیا ہے؟ ۔۔ میراثی بولا۔ “انگلی”.

صوبے سے تعلق رکھنے والے تین اہم رہنماؤں نے جو خواہشیں پال رکھی ہیں، ان میں پکانے کا ساری زمہ داری تو این ایف سی کے حوالے سے وفاق کے دائرہء اختیار میں آتی ہے، جبکہ ساجھے کی اس ہانڈی میں “انگلی” لگانے کی خواہش ضرور صوبوں کے حصے میں شامل ہے، اب یہ الگ بات ہے کہ ایسی خواہشات کے بارے میں مرزا غالب نے بہت عمدہ شعر کہا ہے کہ

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

اس نوع کی خواہشات کے اظہار کا یہ کوئی پہلا موقع یا واقعہ نہیں، اس سے پہلے، زیادہ دور اگر نہ بھی جائیں اور ایم ایم اے کے دور ہی سے اپنی یادیں سمیٹ لیں تو ایم ایم اے، اس کے بعد سے اے این پی اور اس طرح آج تک کی تمام منتخب اور نگران حکومتوں نے نہ صرف این ایف سی ایوارڈ بلکہ دیگر آئینی اور قانونی حقوق کے حصول کے لئے ہمیشہ آواز بلند کی مگر وفاق نے ہمیشہ صوبوں کو ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگاۓ رکھا۔ نا انصافی کی انتہا تو یہ ہے کہ دوسری جماعتوں یا نگران حکومتوں کے ادوار میں خیبرپختونخوا کے ساتھ اختیار کیا جانے والا رویہ تو ایک طرف ، خود تحریک انصاف کی وفاق میں حکمرانی کے دور میں بھی جب پرویز خٹک اور محمود خان وزراء اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے، تو اس دور کے وزیر اعظم نہ تو بجلی کا خالص منافع دینے پر آمادہ ہوئے ، نہ ہی بجلی اور گیس کی فراہمی میں “انصاف” کے تقاضے پورے کئے جاتے تھے، حالانکہ آئین کی شق 157, 158,  اور 161 کو ملا کر پڑھیں تو ان قدرتی وسائل کی ترجیحی طور پر فراہمی کے حوالے سے وفاق جس طرح مسلسل اور متواتر صوبوں کے حقوق کو متاثر کر رہا ہے اور اب تک کی تمام صوبائی حکومتیں ان آئینی حقوق کے حصول میں ناکامی سے دوچار نظر آتی ہیں، اس صورتحال پر صرف بڑھکیں مارنے سے عوام کو ورغلایا تو جا سکتا ہے مگر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا سکتے۔ کہ بقول صدیق منظر

نہ ہمسفر نہ ستارے، نہ چراغ

مرے خدا مجھے کن جنگلوں میں شام آئی

کوئی دریچہ کھلا ہے نہ کوئی دروازہ

کبھی صداؤں کبھی دستکوں میں شام آئی

Loading