شباب کی باتیں
خوشبو یادوں میں رکھ لینا کی تقریب پذیرائی
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ خوشبو یادوں میں رکھ لینا کی تقریب پذیرائی۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب )خوشبو یادوں میں رکھ لینا ڈاکٹر شاہدہ سردار کی اس تازہ کتاب کا نام ہے جس کی رونمائی کی تقریب گزشتہ روز اباسین آرٹس کونسل کے زیر اہتمام خاطر غزنوی آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، اس ضمن میں ڈاکٹر شاہدہ سردار نے اہل علم و ادب کے نام جو دعوت نامہ ارسال کیا تھا اس کے الفاظ بذات خود اس بات کے غماز تھے کہ ڈاکٹر صاحبہ کو اپنے استاد کے ساتھ کس قدر عقیدت تھی
” یہ تقریب صرف ایک کتاب کی رونمائی نہیں بلکہ ایک ایسے عہد سخن کو خراج عقیدت ہے جو اج بھی اپنے لفظوں میں زندہ ہے, ائیے ہم سب مل کر ان کی محبتوں, شاعری کی خوشبو اور یادوں کے اجالوں کو پھر سے محسوس کریں” ڈاکٹر شاہدہ سردار شعبہ اردو پشاور یونیورسٹی میں دیگر بہت سے طالب علموں کی طرح پڑھتی رہی ہیں اور ڈاکٹر نذیر تبسم کے ساتھ احترام کا جو رشتہ کئی دوسرے شاگردوں کی جانب سے قائم تھا اسی احترام کے رشتے میں منسلک رہی ہیں مگر ان کی اپنے استاد محترم کے لیے عقیدت کلاس ختم ہونے تک محدود نہیں رہی بلکہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد عقیدت و احترام کے سوتے ہمیشہ پھوٹتے رہے اور وہ ہر موقع پر اپنے استاد محترم سے رابطہ استوار رکھنے میں اس قدر اگے گئی کہ بالکل ان کے خاندان کے ایک فرد کی حیثیت اختیار کرتی چلی گئی۔ دراصل نذیر تبسم صرف ایک استاد ہی نہیں تھے وہ اپنے شاگردوں کے لیے ایک مخلص دوست بن کر ان کے دلوں میں بسا کرتے تھے
تبسم سے میری بھی کچھ ملاقاتیں رہی ہیں
عجب مجذوب ہے ذہنوں میں خوشبو گھولتا ہے
ڈاکٹر شاہدہ سردار کی اپنے استاد مکرم کے ساتھ عقیدت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہے کہ جب گزشتہ برس نذیر تبسم کا اچانک انتقال ہوا تو شاہدہ سردار اس وقت اپنے بچوں کے پاس آسٹریلیا میں تھی، اپنے استاد کی رحلت کی خبر انہیں پہنچی تو وہ جیسے ایک صدمے سے دوچار ہوئ اور جب وہ اس صدمے کی کیفیت سے باہر نکلی تو ان کے نزدیک اپنے استاد محترم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اس کے سوا راستہ نہیں تھا ان کے فن اور شخصیت پر ایک کتاب مرتب کر کے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا جائے اس ضمن میں ڈاکٹر شاہدہ سردار کو ملک سے کوسوں دور بیٹھے ہوئے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ معلومات اکٹھے کرنے، انہیں ترتیب دینے اور عقیدت بھرے الفاظ کی خوشبو میں گوندھ کر کتابی صورت میں پیش کرنے تک کے مراحل کے دوران انہوں نے کتنے آنسو بہائے اس کی لفظ لفظ داستان کتاب “خوشبو یادوں میں رکھ لینا” کے صفحات پر جا بجا بکھری ہوئی ہے
اپنے روٹھے ہوئے دلبر کو بہت ڈھونڈتا ہوں
میں پشاور میں پشاور کو بہت ڈھونڈتا ہوں
تقریب کی خوبصورتی اور کامیابی کے دو عوامل تھے ایک تو ڈاکٹر نذیر تبسم کی محبتوں کا حصار جس میں جکڑا ہوا ہر شخص ان کی وجہ سے وہاں موجود تھا اور دوسرا ڈاکٹر شاہدہ سردار کا پرخلوص رویہ اور اپنے استاد کے ساتھ عقیدت و احترام کا رشتہ جس نے نہ صرف انہیں استاد کی یادوں کو یکجا کر کے کتابی صورت دینے پر آمادہ کیا بلکہ اب اس کتاب کی تقریب پذیرائی میں بھی دن رات ایک کر کے اسے کامیاب کرانے کی ہر ممکن کوشش کر ڈالی تھی
استعارہ ہیں کسی شہر خموشاں کا نذیر
یہ میرا شہر پشاور میرے مرتے ہوئے لوگ
تقریب میں جہاں ڈاکٹر نذیر کے شاگرد پروفیسر خالد سہیل ملک جو خود بھی ایک باکمال لکھاری افسانہ نگار ڈرامہ نویس محقق اور کالم نگار ہیں کے علاوہ ڈاکٹر اسحاق ورد شاعر اور محقق ہیں موجود تھے اور اپنے استاد مکرم کو خوبصورت الفاظ میں خراج عقیدت پیش کر رہے تھے خالد سہیل ملک نے ڈاکٹر نزیر تبسم کا شخصی خاکہ بہت خوبصورت الفاظ میں پیش کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور ڈاکٹر نذیر تبسم کی شخصیت کا احاطہ کر کے داد وصول کی۔ ڈاکٹر اسحاق وردگ نے بھی نذیر تبسم کی شخصیت کے روشن پہلو اجاگر کرتے ہوئے انہیں عقیدت کے پھول پیش کیے۔ محترمہ بشرہ فرخ نے ڈاکٹر نذیر تبسم کے ساتھ دیرینہ مراسم پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی عقیدت کا اظہار کیا اس موقع پر نذیر تبسم کی دختر ڈاکٹر صدف عنبرین نے بھی اپنی یادیں تازہ کیں جبکہ ہمدم دیرینہ ممتاز شاعر عزیز اعجاز نے بھی پرانی رفاقتوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا اباسین ارٹس کونسل کے صدر ڈاکٹر اعجاز خٹک نے بھی نذیر تبسم کے ساتھ اپنے تعلقات اور اباسین ارٹس کونسل کے لیے ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اس موقع پر اگرچہ ناصر علی سید نے کینیڈا میں مقیم ہوتے ہوئے اپنا پیغام بھیجا تھا مگر وہ پیغام بوجود بروقت پیش نہ کیا جا سکا اور کتاب میں شامل ان کا مضمون محترمہ ناز پروین نے پڑھ کر سنایا جب کہ ناصر علی سید نے جو تازہ پیغام بھیجا ہے اس کے الفاظ پیش خدمت ہیں۔
( پریزیڈیم میں موجود دوستو اج سب دوست اس قلندرانہ سج دھج رکھنے والے ہمدم دیرینہ ڈاکٹر نذیر تبسم کے بچھڑنے کے حوالے سے بلا کی محبتی اردو پشتو کی معروف شاعرہ اور کہانی کار شاہدہ سردار کی ترتیب دی ہوئی تصنیف خوشبو یادوں میں رکھ لینا کی تقریب میں اکٹھے ہیں جو ایک دن ایسے ہی پیاروں کے ایک اکٹھ میں اچانک دامن جھاڑ کر چلا گیا تھا۔ ناصر کاظمی نے کہا ہے
دائم اباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
مان لیں کہ یہ کٹھور دنیا بس اگے ہی بڑھنا جانتی ہے اور وقت کو زخموں پر پھاہے رکھنے کا کام سونپا ہوا ہے ہمدم دیرینہ کے بچھڑنے کی خبر مجھے بھی برمنگم برطانیہ میں ایک مشاعرے کے دوران ملی تھی اور شاہدہ سردار کو بھی آسٹریلیا کے جزائر میں ملی اور یوں یہ ہمارا مشترکہ نقصان تھا میں فورا”چلا ایا اور پہلی ہی شام ملال میں دوستوں کے ساتھ مل کر ایک دوسرے کو پرسہ دیا .دوست مہربان مشتاق شباب کا بڑا احسان کہ انہوں نے اپنے انسوؤں کو میرے انے تک روکا ہوا تھا سو دل کھول کر روئے ادھر شاہدہ سردار کو جب اس سانحہ کا علم ہوا تو ایک لمحے کو تو وہ دہل کر رہ گئی اور یہ وہی لمحہ تھا جو پہلے ساکت ہوا اور پھر اگے چلنے سے انکاری ہو کر پیچھے چلنے لگا فلیش بیک کی طرح مراجعت کا یہ سفر کتنا جان لیوا ہے اس کا اندازہ خوشبو یادوں میں رکھ لینا کو پڑھے بغیر نہیں ہو سکتا جسے پڑھتے ہوئے میرا حلق نمکین ہوتا رہا اور انکھوں میں دھواں پھیلتا رہا دوستو کسی شام جب اپ کو تھوڑا وقت اور بہت سی اداسی میسر ہو یہ کتاب ضرور پڑھ لینا
![]()

