شباب کی باتیں
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)بات کہاں سے شروع کی جائے ؟ یہ جو سوشل میڈیا پر ایک “طوفان” برپا ہے اور خود حکمران جماعت کے ایک اہم رکن پارلیمان حنیف عباسی کے حوالے سے “سچ” اگلنے پر تبصرے کئے جا رہے ہیں، ان کے بارے میں کیا یہ سمجھا جائے کہ
جو چپ رہے گی زبانِ خنجر
لہو پکارے گا آستیں کا
یا پھر معاملے کا دوسرا رخ دیکھا جائے کہ جو سچ حنیف عباسی کی زبان سے “پھسل” گیا ہے, وہ واقعی سچ ہے یا کوئی نیا سیاسی ڈرامہ؟ اگر تو یہ سچ ہے تو اس پر حفیظ جالندھری کے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ
دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
حنیف عباسی نے ایک عرصے سے عوام کو پریشان کرنے والی آئی پی پیز کے معاملے پر جلال میں آکر اپنی ہی حکومت اور اتحادیوں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے مسئلے نے پورے ملک کو دیوالیہ بنا دیا ہے ، جھنگ میں پچاس میگاواٹ کا ایک آئ پی پی کئ سالوں سے بند پڑا ہے لیکن مہینے کے دس کروڑ روپے لیتا ہے ۔ یہ کون لوگ ہیں ، جو 42 آئی پی پیز کے مالک ہیں اور بند ہونے کے باوجود ملک کا پیسہ کھا رہے ہیں؟
سوشل میڈیا پر حنیف عباسی کے محولہ بیان کے حوالے سے جو سوال اٹھائے جا رہے ہیں وہ تو اپنی جگہ، مگر ہمیں تو یہ لگ رہا ہے کہ اس صورت حال کو شیکسپیئر نے اپنے شہرہء آفاق ڈرامے (دی ٹریجڈی آف جولیئس سیزر) میں مرکزی کردار سیزر کی زبانی، اپنے سب سے قریب ترین دوست اور قابل اعتماد رفیق “بروٹس” کی جانب سے اپنی پشت پر خنجر کا جان لیوا وار سہہ کر ان الفاظ میں واضح کیا کہ “”یو ٹو بروٹس””؟ یعنی بروٹس تم بھی؟؟
دراصل جولیئس سیزر کو اپنے سب سے بااعتماد ساتھی بروٹس سے یہ توقع ہرگز نہ تھی کہ وہ بھی اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپے گا۔ اس حوالے سے ادبی ناقدین نے بروٹس کے لگائے ہوئے اس زخم پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے
the unkind cut of all
یعنی “سب سے غیر مہربان زخم ” سے موسوم کیا ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ یہ جو الزامات حنیف عباسی نے لگاۓ ہیں، ان میں حقیقت اور ڈرامہ بازی کے درمیان حد فاصل کتنا ہے؟ اور آیا ان سے کوئی پوچھنے کی زحمت کرے گا بھی یا نہیں کہ موصوف نے بروٹس بننا کیوں ضروری سمجھا؟ کیونکہ یہ تو طے ہے کہ جتنا بڑا اور غیر مہربان زخم انہوں نے کسی خنجر کے بجائے محظ زبان سے ادا کئے ہوئے الفاظ سے لگایا ہے اس کے مندمل ہونے کے امکانات کم کم ہی نظر آتے ہیں۔ کہ خنجر یا تلوار کا گھاؤ بھر جاتا ہے مگر زبان کا لگا ہوا زخم کبھی نہیں بھرتا۔ اب اس کی وضاحت تو حنیف عباسی ہی کر سکتے ہیں کہ ان کا اصل مقصد کیا تھا یا ہے، کہ بقول فراز
منتظر کب سے تحیئر ہے تری تقریر کا
بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا
عباسی صاحب کے “غیر مہربان” زخم کا اصل نشانہ کون ہے؟ یا پھر یہ کیفیت مرزا غالب کے الفاظ کے مطابق “قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں” ہی رہے گا!!!! اور اس وار کے اثرات کتنی دور تک مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ اب تو دنیا جانتی ہے کہ آئ پی پیز کہاں کہاں موجود ہیں اور ان کی صفوں میں بڑے سرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ کتنے سیاستدان مبیئنہ طور پر شراکت دار ہیں؟ ان مبیئنہ شراکت داروں کے بارے میں جانتے اور ان کے ساتھ “شریک جرم” نہ ہوتے ہوئے بھی حنیف عباسی نے بعض کے چہروں سے نقاب نوچ لیا ہےاور ایک بہت ہی مشہور شعر کے ذریعے تشریح کردی ہے ۔
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی
حالانکہ جس باکمال طریقے سے ان سب(آئ پی پیز) نے مل کر واردات ڈالی ہے اسے ڈاکٹر کلیم عاجز کے مطابق واضح کیا جا سکتا ہے کہ
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
واقعی یہ کرامات ہی تو ہیں کہ آئ پی پیز کی صفوں میں شامل ؟؟؟؟ اپنے ہی عوام کو جس صفائی سے مسلسل لوٹ رہے ہیں ان کے خلاف عوام زبانی کلامی احتجاج کر تو رہے ہیں مگر ان کا احتجاج خواب دیکھنے تک ہی محدود رہتا ہے اور جب ان کی آنکھ کھلتی ہے تو خود کو اصغر گونڈوی کے اس شعر کی تفسیر میں مبتلا پاتے ہیں یعنی
سو بار ترا دامن ہاتھوں میں مرے آیا
جب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباں تھا
ایک پشتو کہاوت ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ “مقدمے کے انجام پر نظر رکھو، تو دیکھتے ہیں کہ گھر کے اس بھیدی کا کیا “حال” ہوتا ہے البتہ ہمیں تو ان کی کیفیت اس شعر کے مطابق لگ رہی ہے کہ
میں نے پوچھا مری جاں کیسے ہو؟
اس نے ہولے سے کہا۔” خوفزدہ”
![]()

