شباب کی باتیں
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو ائے
تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شباب کی باتیں ۔۔۔ وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو ائے ۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔۔ مشتاق شباب)وزیراعظم شہباز شریف نے کیا خوب کہا ہے کہ ممکن نہیں عوام قربانیاں دیں اور اشرافیہ مراعات حاصل کرتی رہے اشرافیہ کی مراعات پر نظر ثانی ہوگی
اس سے پہلے کہ وزیراعظم کے ان ذریں خیالات پرکچھ عرض کیا جائے وہ جو کہتے ہیں کہ مقطع میں آپڑی پڑی ہے سخن گسترانہ بات
تو ذرا اس جانب بھی توجہ دلائی جائے اور وہ یہ کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک بیانیہ سامنے آیا جس میں اس بات پر اعتراض کیا گیا تھا کہ ہمارے ہاں مراعات یافتہ طبقات کے لیے جو لفظ اشرافیہ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے عوام کی توہین کا پہلو نمایاں ہوتا ہے اور اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ اگر کچھ مخصوص لوگ اشرافیہ کہلاتے ہیں تو عوام گویا ارذل یعنی ذلت والے ہو گئے اس لیے یہ لفظ اشرافیہ ترک کر کے اسے مراعات یافتہ طبقات کا نام دیا جائے تو کم از کم عوام کی توہین تو نہیں ہوگی اب یہ ایک الگ بحث ہے جس پر علیحدہ سے گفتگو کی جا سکتی ہے اگرچہ منطقی لحاظ سے یہ اعتراض اتنا غلط بھی نہیں اور اگر اس کے پس منظر کو دیکھا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ معاشروں میں طبقات کی تقسیم صدیوں سے چلی آرہی ہے برصغیر میں قدیم زمانے سے معاشرہ چار طبقات میں تقسیم چلا آ رہا تھا جن میں اول درجے پر برہمن تھے جنہیں اگر اس دور کی اشرافیہ سے تشبیہ دی جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے اس کے بعد کھشتری، ویش اور سب سے نچلا طبقہ شودر (جنہیں اج کل بھارت میں دلت کہا جاتا ہے) تھا جو چھوت چھات کا شکار ہونے کی وجہ سے قابل نفریں سمجھا جاتا تھا اور حقیقت میں یہی اشرافیہ کے مقابلے میں ارذل طبقہ ہوتا تھا انگریزوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے ان وفاداروں کو جنہوں نے غداری کرتے ہوئے ہندوستان کی مختلف ریاستوں کی حکومتوں کو انگریزوں کے آگے سرنگوں کرانے میں کردار ادا کیا انگریزوں نے انہی میں سے ایک نیا اشرافیہ ڈھونڈ کر انہیں ہر قسم کی مراعات سے نوازا، آج بھی ہمارے ہاں ایسی کتابیں مل جاتی ہیں جن میں اس نام نہاد اشرافیہ کی غداریوں اور ان کو حاصل مراعات جاگیروں اور دیگر سہولیات کا تذکرہ مل جاتا ہے تاہم اس کے بعد یہ لفظ اشرافیہ قدیم ادوار کا تسلسل ہے جس سے ہماری جان نہیں چھوٹ رہی ہے بہرحال اس بحث کو ایک طرف رکھتے ہوئے جناب وزیراعظم کے تازہ ارشادات کی جانب چلتے ہیں اور اس بات پر غور کرتے ہیں کہ اشرافیہ کی مراعات پر نظر ثانی ہوگی مولانا اسماعیل میرٹھی نے کہا تھا
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی کبھی چلتی نہیں
جہاں تک اشرافیہ کی مراعات کا تعلق ہے تو وزیراعظم کی نیت پر ہمیں کوئی شک نہیں ہے مگر کیا کیا جائے کہ عوام کو ملنے والی سہولیات اور اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات میں سمندر کے دوسرے کنارے کو ڈھونڈنے کا تکلف کرنا پڑتا ہے ابھی حال ہی میں پارلیمنٹ کے اراکین کی تنخواہوں میں 600 فیصد اضافے کی خبریں سامنے آئیں( دیگر مراعات کو چھوڑ دیں) جبکہ گزشتہ روز سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو اونٹ کے منہ میں زیرہ برابر اضافہ دے کر جو احسان عظیم کیا گیا وزیراعظم آخر اشرافیہ کی مراعات پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس خلیج کو کس حد تک پاٹ سکیں گے؟
ان مراعات یافتہ یعنی الیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والوں کو ماہانہ بنیادوں پر تنخواہیں اور دیگر الاؤنس کو اگر ایک طرف بھی رکھا جائے تب بھی ان کے حلقوں کے لیے جو ترقیاتی فنڈز مختص کیے جاتے ہیں ان کے حوالے سے سینہ بہ سینہ چلنے والی خبریں کیا کیا کہانیاں سناتی ہیں ان سے ہر کوئی واقف ہے۔ رہ گئے عوام کلانعام تو ان کی حیثیت اس کہانی کی طرح ہے یعنی وہ جو ایک بادشاہ نے اپنے صاحبین سے پوچھا کہ معلوم کرو اس کی رعایا اس سے خوش بھی ہے یا نہیں تو ایک وزیر با تدبیر کے مشورے پر بادشاہ نے شہر پناہ کے بڑے دروازے پر انے جانے والوں پر ایک سکہ ٹیکس لگانے کا حکم دیا اب ہر شہری اتے جاتے ایک ایک سکہ دے کر ہی گزرتا مگر کسی نے اعتراض نہیں کیا کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک بار پھر بادشاہ نے صورتحال معلوم کرنے کی کوشش کی اور ایک اور وزیر کے مشورے پر ہر انے جانے والے سے ایک سکہ وصول کرنے کے ساتھ ساتھ ایک چپل سر پر مارنے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا کچھ عرصے بعد بادشاہ کو شکایت پہنچی کہ شہر پناہ کے دروازے پر عوام کا جم غفیر احتجاج کر رہا ہے بادشاہ نے ہرکارے دوڑائے تو معلوم ہوا کہ عوام اس بات پر شور مچا رہے ہیں کہ سر پر چپل مارنے والوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے عوام کو آنے جانے میں دیر ہو جاتی ہے اور ان کے کام ادھورے رہ جاتے ہیں یعنی بقول محسن بھوپالی
غم ،طوق گلو، پاؤں میں زنجیر انا کی
ازاد بھی تھے ہم تو اسیروں کی طرح تھے
سو دیکھتے ہیں کہ وزیراعظم اپنے وعدے کہاں تک وفا کرتے ہیں حالانکہ انہیں اگر ہم یاد دلائیں کہ کئی سرکاری ادارے ایسے بھی ہیں جہاں اب تک گزشتہ برس کے بجٹ میں اعلان کردہ پینشن کی ادائی بھی تحریر نہیں کی گئی یعنی موجودہ مالی سال 2025- 26ء کے بجٹ میں پینشنرز کو سات فیصد پینشن کا جو اعلان کیا گیا تھا وہ ریڈیو پاکستان کے پینشنرز کو تا حال ادا نہیں کیا گیا اسی طرح گزشتہ برسوں کی ادائیگیاں بھی اب یہ تک رکی ہوئی ہیں اور مزید سات فیصد کا اعلان کیا گیا ہے تو جب گزشتہ برسوں کی ادائیگیاں نہیں کی گئیں تو نئے مالی سال کے بجٹ میں ان پینشنرز کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا؟ وزیراعظم اگر اس بارے میں وضاحت فرما سکیں تو بہت سے دلوں کی دعائیں سمیٹ لیں گے .
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو ائے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
![]()

