شخصیت کا صحت پر اثر
تحریر۔۔۔فوزیہ ریاض
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ شخصیت کا صحت پر اثر۔۔۔ تحریر۔۔۔فوزیہ ریاض)مختلف اقسام کی شخصیات اور بیماریوں کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔ ایک طبی جائزے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جو لوگ
گھر سے باہر کی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی کرتے ہیں۔
محنتی ہوتے ہیں، منظم انداز میں کام کرتے ہیں
اور خود کو پر سکون رکھتے ہیں۔
وہ نہ صرف تقریبات کی جان ہوتے ہیں بلکہ فالج، آرتھرائٹس اور ذیابیٹس جیسی بیماریوں میں ان کے مبتلا ہونے کے امکانات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو پریشان، موڈی، ڑ چڑے اور بیرونی دنیا سے لا تعلق رہتے ہیں، ان میں ایسے امراض کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا طبی جائزہ ہے جسے طویل مدت کی تحقیق کے بعد تیار کیا گیا ہے۔

ان لوگوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ انتہائی دیانت دار،مثبت سوچ کے حامل، کھلے دل والے اور دوسروں کی باتوں سے اتفاق کرنے والے افراد جو کسی اعصابی خلل میں مبتلا نہ ہوں، اچھی صحت کے مالک ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس قسم کے لوگ صحت بخش غذائیں کھا رہے ہوتے ہیں، ورزش میں دلچسپی لیتے ہیں، ذہنی دباؤ کا کم سامنا کرتے ہیں اور ڈاکٹروں پر اپنا موقف زیادہ بہتر طور پر واضح کر سکتے ہیں، جبکہ دوسری جانب وہ لوگ جو ذہنی انتشار میں مبتلا ہوتے ہیں (Neurotic) یعنی پریشان ہوتے ہیں، انجانے خوف میں مبتلا ہوتے ہیں، جن کا مزاج تبدیل ہوتے میں دیر نہیں لگتی اور اکثر و بیشتر یاسیت اور افسردگی میں ڈوبے ہوتے ہیں، ان میں بیماریاں اپنی جگہ جلدی بنا لیتی ہیں۔ دماغی انتشار والے افراد طبیعی عمر سے پہلے انتقال کر جاتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا
ہے….؟ اس بارے میں کوئی واضح بات پہلے معلوم نہیں ہو سکی تھی۔ حالیہ امریکی

ریسرچ میں شخصیت کے جن پہلوؤں کو جانچا گیا تھا، ان میں مثبت طرز فکر، دوسروں سے اتفاق کرنے پر آمادگی، دیانت داری، کھلے دل اور دماغ کے ساتھ مانا اور اعصابی خلل شامل تھے۔ چار سال بعد ان سے پو چھا گیا کہ آیا اس دوران کسی ڈاکٹر ز نے ان میں کسی بیماری کی تشخیص کی ہے یا نہیں ….؟ شر کاء کو ہر شخصی خصوصیت پر ایک سے لے کر چار نمبر ملے تھے، وہ بہت زیادہ باتیں کرنے والا اور گھر سے باہر وقت گزار نے والا تھا جبکہ ایک نمبر پانے والا شخص لیے دیے رہنے والا اور کم باتیں کرنے والا تھا۔ ذیل میں ریسرچرز نے ہر خصوصیت کے حامل افراد کی صحت میں فرق کو واضح کیا ہے۔
دیانت داری
دیانت دار اور ایماندار افراد محنتی، بھروسے کے قابل، ذمہ دار اور اپنے جذبات پر قابو پانے والے ہوتے ہیں۔ وہ کوئی کام شروع کرنے سے پہلے با قاعدہ اس کا منصوبہ بناتے ہیں اور اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ریسرچرز نے دیکھا کہ دیانت دار افراد بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھنے پر زیادہ قادر ہوتے ہیں۔

صاف دلی
جو لوگ اپنے دل میں دوسروں کے خلاف کسی قسم کا کینہ ، بغض یا حسد نہیں رکھتے بلکہ کھلے دل سے لوگوں سے ملتے ہیں۔ وہ پر تجسس، پر تخیل، نئی سوچ اور فکر پر عمل کرنے والے اور ڈھیر ساری چیزوں میں دلچسپی لینے والے ہوتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ صاف دلی یا کشادہ دلی کی وجہ سے وہ زیادہ اچھے طریقے سے ذہنی دباؤ سے نمٹ رہے ہوں اور معالجوں کو زیادہ بہتر طریقے سے اپنی حالت بنا کر صحت کو بہتر رکھ رہے ہوں۔
مثبت طرز فکر
جو لوگ مثبت سوچ رکھتے ہیں، پر عزم ہوتے ہیں، لوگوں سے تبادلہ خیال میں دلچسپی لیتے ہیں، وہ ہر محفل کی جان بن سکتے ہیں۔
دوسروں کی رائے سے اتفاق
دوسرے افراد کی بات کو غور سے سننا اور اس سے اتفاق کرنا، ایسی خوبی ہے جو لوگوں کو مقبول بنا سکتی ہے۔ ایسے لوگ ایثار پسند ، ہمدرد، سنی، مددگار، قابل اعتبار اور بھروسے کے قابل ہوتے ہیں۔ ان میں صلح جوئی کی بھی خوبی پائی جاتی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق دوسروں کی بات ماننے والے افراد میں گرم جوشی اور دوسروں کا خیال رکھنے کا جذبہ زیادہ ہوتا ہے۔ ان کی دوستی اور تعلقات میں گہرائی ہوتی ہے اور جن لوگوں میں سماجی رابطے ہوتے ہیں، ان کی صحت بھی اچھی ہوتی ہے۔
و ہمی اور ضدی
اعصابی خرابیوں میں مبتلا افراد حد سے زیادہ حساس اور حواس باختہ (نروس) ہوتے ہیں اور ان میں غصہ، پریشانی یا افسردگی کے دورے بھی اٹھتے رہتے ہیں۔ اعصاب زدگی میں مبتلا افراد جو ہمہ وقت فکر اور پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں، وہ بعد کی زندگی میں بھی اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ اعصاب زدگی (Neuroticism) کے 41 پیانے پر ایک یونٹ کے اضافے سے متعلقہ شخص میں دل کے مسائل کی تشخیص کا امکان 24 فیصد، پھیپڑے کی بیماری کا خطرہ 29 فیصد، ہائی بلڈ پریشر کا دھڑ کا 37 فیصد اور آرتھرائٹس کا خطر ہ 25 فیصد بڑھ سکتا ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ
![]()

