Daily Roshni News

شریک حیات سے بڑھ کر رفیق حیات بنیے۔۔!۔۔۔قسط نمبر2

شریک حیات سے بڑھ کر رفیق حیات بنیے۔۔!

قسط نمبر2

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ شریک حیات سے بڑھ کر رفیق حیات بنیے)فطری طور پر ہر ماں اپنی بیٹی کی خوشیاں چاہتی ہے لیکن ہمارے معاشرہ میں یہ مشاہدات بھی ہوتے ہیں کہ کئی عورتوں کے گھر ان کی ماؤں کے غلط مشوروں اور منفی رویہ کی وجہ سے خراب ہوئے۔ ایک سمجھ دار عورت کے لئے ضروری ہے کہ دل کی بھڑاس نکالنے کے فارمولے کے تحت میکے جا کر اپنے شوہر اور سسرال والوں کی برائیاں اور اپنی شکایات بتانے کے بجائے اپنے شوہر اورسسرال والوں کی خوبیاں اور اعلیٰ اوصاف کا خوبتذکرہ کرے۔

اپنے شوہر کی جن خوبیوں اور خصوصیات سے خاتون متاثر ہوں ان کا ذکر میکے اور سسرال دونوں جگہ اچھی طرح کریں۔

عورت اپنے جیون ساتھی سے جو توقعات وابستہ کرتی ہے ان میں محبت اور تحفظ سر فہرست ہیں۔ عورت اپنا آپ اپنے شوہر کو سونپتی ہے…. وہ جھتی ہے کہ اس کے شوہر کی ذات اس کے لئے ایک مضبوط حصار کی مانند ہے۔ وہ شوہر کی وجہ سے خود کو محفوظ و مامون سمجھتی ہے۔ عورت کو شوہر کی جانب سے ملنے والے تحفظ کا مطلب زندگی کے ہر مرحلے پر تحفظ ہے۔

ایک مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے اپنی بیوی کو تحفظ کا احساس دلا تار ہے۔

تحفے دیجیے…..

کئی خواتین خواہش مند ہوں گی کہ سال میں مختلف اہم مواقع پر ان کے شوہر انہیں کوئی تحفہ دیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان مواقع پر ان کے درمیان تحائف کا تبادلہ ہوتا بھی ہو ، لیکن محلہ دینے کے لئے کسی خاص موقع کا انتظار کیوں کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ کوئی مہنگا تحفہ دیا جائے۔ اگر جیب اجازت نہ دے تو کوئی بھی چیز خواہ کم قیمت ہی کیوں نہ ہو شوہر اور بیگم ایک دوسرے کے لیے خرید لیں۔

شوہر کے لیے تحفہ خریدتے وقت کوئی ایسی چیز جو گھر میں یا ان کے کام کاج کی جگہ پر زیادہ تران کی نظروں میں آئے انہیں تحفہ دینے کے لئے منتخب کیجئے ۔ اگر انہیں مطالعہ کا شوق ہے تو کوئی اچھی کتاب اپنے دستخطوں کے ساتھ انہیں تحفہ میں دیں یا ان کے شوق اور ذوق کے مطابق انہیں کوئی اور چیز بطور تحفہ دیں۔

عورت کی حوصلہ افزائی مشرقی معاشرے میں عورت کا کردار عموما گھر ستک محدود ہوتا ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین میں سے بھی اکثریت معاشی سرگرمیوں سے وابستہ رہنے کے باوجود باہر کے ماحول سے مرد کی نسبت کم واقف ہوتی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زندگی کے مختلف معاملات میں عورتوں کی کوئی رائے یا واضح نقطہ نظر بھی نہیں ہو سکتا۔ عورت کے گھریلو کر دار یا معاشی سرگرمیوں میں محدود شرکت کی وجہ سے یہ سمجھ لینا صحیح نہیں ہے کہ ان میں بصیرت و دانش کی کمی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ عورت کو خصوصاً گھر یلو عورت کو اپنی بصیرت و دانش کو موثر طور پر بروئے کار لانے کے لئے مرد کی جانب سے تحسین اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

اپنی بیگم کی چھپی ہوئی ذہنی صلاحیتوں کو بیدارکرنے کی کوشش کیجئے۔ انہیں یہ اعتماد اور حوصلہ دیجئے کہ عقل مندی اور شعوری پختگی میں وہ دوسروں سے کم نہیں ہیں۔

مرد کا حوصلہ افزار و یہ خاتون خانہ کے لیے بہت زیادہ مددگار ہوتا ہے۔ اس حوصلہ افزائی سے ان کی خود اعتمادی اور صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا اور وہ اپنے شوہر کی رفاقت کا حق زیادہ اچھی طرح انجام و دینے کے قابل بنیں گی۔

فیصلوں میں شرکت: ہمارے معاشرہ میں زندگی کے بنیادی اور اہم فیصلے بالعموم مرد کرتے ہیں۔ ذریعہ روزگار ، رہائش ، بچوں کی تعلیم ، بیٹے بیٹی کے لئے رشتوں کی منظوری اور چند دیگر اہم امور میں حتمی فیصلہ بالعموم مرد ہی کرتے ہیں۔ گھر کے روزمرہ کے معاملات اور امور خانہ داری میں فیصلہ بالعموم عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اکثر عورتیں اپنے روزمرہ کے معمولات اور معاملات سے اپنے شوہر کو آگاور کھتی ہیں لیکن اکثر مرد عملی زندگی میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات یاد یگر امور کے بارے میں اپنی بیگم سے بات نہیں کرتے۔ ایسے مرد اپنے اس رویہ کے بالعموم دو جو از بتاتے ہیں۔

پہلا یہ کہ عورتوں کو دفتری یا کاروباری معاملوں کا کیا پتہ ، ان کے ساتھ اس بارے میں

بات کر کے کیا حاصل ہو گا …. ؟

دوسرا معروف لیکن نسبتاً ہمدردانہ جواز یہ کہ عملی زندگی میں کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن پر عورتیں کچھ بھی نہیں کر سکتیں لہذا ان کے ساتھ ایسے مسائل پر بات کر کے ہم انہیں پریشانی سے دو چار کرنا نہیں چاہتے۔

ان دونوں جواز پر کوئی بحث کئے بغیر ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ اپنی زندگی کی ساتھی ، اپنی مونس و همدم رفیقہ حیات کے ساتھ جس حد تک ہو سکے حالات و معاملات ضرور شیئر کرنا چاہئے ۔ مرد کی جانب سے کئے جانے والے اس عمل پر بیگم کا مثبت رد عمل خود مرد کے لئے تقویت و استحکام کاسبب بنے گا۔

آمدنی کے مطابق خرچ:اگر شوہر کی آمدنی بیوی کے خاندان کے کسی ایک یا چند افراد سے کم ہے تو اس کا اظہار اپنے شوہر کے سامنے اس طرح نہ کیا جائے جس سے طنز کا کوئی پہلو نکلتا ہو ۔ ایسی صورت میں تعاون کے جذبہ کے تحت اپنی ضروریات و خواہشات کو کم کرنے کی کوشش کیجئے۔ اس کے ساتھ ساتھ زندگی میں مزید اعلیٰ مقام کے حصول کے لئے شوہر کو حوصلہ اور مدد فراہم کیجئے۔ عورتوں کو چاہیے کہ اپنے شوہر کا جذباتی سہارا بنیں۔ انہیں احساس دلائیں کہ وہ ان کے ساتھ خوش ہیں۔ ان کی خوشی میں خوش ہیں۔ دفتری یا کار و باری امور میں شوہر کی مصروفیت پر گلے شکوے نہ کیجئے۔ اس کی محنت اور دیر تک کام کرنے کے پیچھے بیوی بچوں ہی کی خدمت اور انہیں آسائشیں فراہم کرنے کا جذبہ کار فرما ہے۔

 شوہر کی مصروفیات گھر پر ان کی توجہ میں حائل ہوں تو یہ کہہ کر طعنہ زنی نہ کی جائے کہ تمہیں تو گھر کے معاملات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ہے۔ اس کے بجائے گھر کے چھوٹے موٹے کام۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ  مئی 2022

Loading